این اے 122 دھاندلی کیس،الیکشن ٹربیونل نے عبدالعلیم خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی،محسن لطیف اور سلمان رفیق کی درخواستیں بھی مسترد

این اے 122 دھاندلی کیس،الیکشن ٹربیونل نے عبدالعلیم خان کی درخواست ناقابل ...
این اے 122 دھاندلی کیس،الیکشن ٹربیونل نے عبدالعلیم خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی،محسن لطیف اور سلمان رفیق کی درخواستیں بھی مسترد

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن ٹربیونل نے پی ٹی آئی کے عبدالعلیم خان کی این اے 122 میں دھاندلی کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے عبدالعلیم خان نے الیکشن ٹربیونل میں درخواست دائر کی تھی کہ این اے 122 کے ضمنی انتخابات میں دوسرے حلقوں کے 30 ہزار سے زائد ووٹ اس حلقے میں منتقل کرکے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی جس پر این اے 122 کے ضمنی الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

الیکشن ٹربیونل نے پیر کے روز اپنا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ محض الزامات کی بنیاد پر کسی بھی حلقے کے نتائج کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ الیکشن ٹربیونل نے عبدالعلیم خان کی درخواست نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔مزید براں الیکشن ٹریبونل نے پی پی 147اور پی پی 152میں پی ٹی آئی کے ارکان سمبلی شعیب صدیقی اور مراد راس کے خلاف ن لیگ کے محسن لطیف اور  پنجاب کے مشیر صحت سلمان رفیق کی عذرداریاں بھی مسترد کر دیں۔

واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں این اے 122 سے ن لیگ کے سردار ایاز صادق ، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو شکست دے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے تاہم الیکشن میں دھاندلی کے الزامات پر ان کی کامیابی کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا گیا تھا۔ 11 اکتوبر 2015 کو ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے عبدالعلیم خان اور ن لیگ کے سردار ایاز صادق میں مقابلہ ہوا اور ایک بار پھر سردار ایاز صادق نے فتح حاصل کی اور پی ٹی آئی کی طرف سے دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔

مزید :

لاہور -اہم خبریں -