پاکستان ٹی 20 کی تاریخ کا بدترین کپتان کون ہے, آفریدی کا کون سا نمبر ہے؟ حیران کن اعداد و شمار آپ بھی جانئے

پاکستان ٹی 20 کی تاریخ کا بدترین کپتان کون ہے, آفریدی کا کون سا نمبر ہے؟ حیران ...
پاکستان ٹی 20 کی تاریخ کا بدترین کپتان کون ہے, آفریدی کا کون سا نمبر ہے؟ حیران کن اعداد و شمار آپ بھی جانئے

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ” مجھے امید تھی کہ آپ گھٹیا سوال ہی کریں گے“ ، شاہد آفریدی کے الفاظ نے گویا میڈیا کے لوگوں کو آگ بگولہ کر دیا جس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی 20 سیریز میں بدترین شکست نے بچی کھچی توپوں کے رخ بھی شاہد آفریدی کی جانب کر دیئے اور ہر طرف سے یہی مطالبہ کیا جانے لگا کہ شاہد آفریدی کو ٹی 20 ورلڈکپ سے قبل کپتانی سے ہٹا دینا چاہئے اور ان کی جگہ کسی اور کھلاڑی کو موقع دینا چاہئے۔

ایسی باتیں کرنے والوں نے یہ دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی کہ چند میچوں میں خراب پرفارمنس دینے والے شاہد آفریدی نے ٹی 20 کپتان کی حیثیت سے کتنے میچ جتوائے، یا پاکستان ٹی 20 کرکٹ کی تاریخ میں سب سے کامیاب کپتان کون ہے؟ یا پھر پاکستان جوو احد ٹی 20 ورلڈکپ جیتا ہے اس میں شاہد آفریدی کا کیا کردار تھا؟

یوں تو پاکستان کی جانب سے 6 کھلاڑیوں نے ٹی 20 فارمیٹ میں کپتانی کا سہرا اپنے سر سجایا ہے جن میں سابق مایہ ناز کھلاڑی انضمام الحق، یونس خان اور ٹیسٹ ٹیم کے موجودہ کپتان مصباح الحق بھی شامل ہیں لیکن ان تینوں کھلاڑیوں کو بہت کم میچوں میں کپتانی کا موقع ملا اور صحیح معنوں میں ٹی 20 ٹیم کی قیادت کرنے والے کھلاڑیوں میں شعیب ملک، محمد حفیظ اور شاہد خان آفریدی شامل ہیں جنہوں نے بالترتیب 17، 29 اور 35 میچوں میں ٹیم کی قیادت کی۔

اگر پوائنٹس ٹیبل پر نظر دوڑائی جائے تو میچوں کی جیت کے تناسب پر بات کی جائے تو سب سے زیادہ کامیاب کپتان شعیب ملک ہیں جنہوں نے 17 میچوں میں سے 15 میچوں میں کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد محمد حفیظ کا نمبر آتا ہے جو یقینا ٹی 20 فارمیٹ میں پاکستان کے کامیاب ترین کپتان ہیں۔ انہوں نے کل 29 میچوں میں ٹیم کی قیادت کی جن میں سے 17 میں فتح حاصل ہوئی اور 17 میں شکست ٹیم کا مقدر بنی جبکہ ایک میچ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوا۔ پروفیسر کے بعد نمبر آتا ہے شاہد آفریدی کا جنہوں نے کل 35 میچوں میں ٹیم کی قیادت کی جن میں سے 16 میچوں میں فتح حاصل ہوئی جبکہ 18 میں شکست اور ایک میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا۔

اس حساب سے پروفیسر حفیظ بہترین کپتان قرار پاتے ہیں اور انہیں یقینا بدستور کپتان رہنا چاہئے تھا تاہم ٹی 20 ورلڈکپ 2014ءمیں پاکستانی ٹیم کے باہر ہونے پر انہوں نے استعفیٰ دیدیا اور کپتانی کا قرعہ شاہد آفریدی کے نام نکلا۔ اب اگر شاہد آفریدی کی کپتانی میں جیت اور ہار کے اعداد و شمار کی بات کی جائے تو یہ خراب ضرور لیکن یہ اتنا برا نہیں ہے جتنا ناقدین کی جانب سے بتایا جاتا ہے کیونکہ ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے جتنے میچ ہارے ہیں اتنے جیتے بھی ہیں اور اگر دوسری بڑی ٹیموں کے کپتانوں کیساتھ شاہد آفریدی کا موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ شاہد آفریدی ٹی 20 ٹیم کے کپتان کے طور پر کئی بڑے بڑے ناموں، جیسے رکنی پونٹنگ، کرس گیل،سٹورٹ براڈ، اے بی ڈویلیئرز، جارج بیلی، برینڈن میکالم اور مہندرا سنگھ دھونی، سے کہیں بہتر ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ شاہد آفریدی ٹی 20 فارمیٹ کے ”بادشاہ“ ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔

دنیا کی کوئی بھی بڑی ٹی 20 کرکٹ ٹیم کی ہار کا تناسب 1:1 کے قریب تر ہی ہے اور کوئی ٹیم ایسی نہیں ہے جس کی شکست کا تناسب اس کی جیت سے کہیں کم ہو اور اسی طرح دنیائے کرکٹ میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کی اہل 10 بڑی ٹیموں کے بڑے بڑے نام جیسے کہ، مہندرا سنگھ دھونی، جارج بیلی، برینڈن میکالم، ڈینئیل ویٹوری، اے بی ڈویلیئرز اور شاہد آفریدی کی قیادت میں ان کی ٹیموں کی جیت کا تناسب بھی 47% سے 53% فیصد کے درمیان رہا ہے۔

ان اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاہد آفریدی کی ٹی 20 ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے پرفارمنس دوسری بڑی ٹیموں کی قیادت کرنے والے کھلاڑیوں کی طرح ہی ہے تو پھر کیوں لوگ انہیں ٹی 20 ورلڈکپ سے قبل کپتانی سے ہٹائے جانے کی بات کر رہے ہیں حالانکہ یہ قطعی طور پر دانشمندی نہیں کہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ سے کچھ عرصہ قبل ہی کسی ٹیم کے کپتان کو بدل دیا جائے۔ یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ شاہد آفریدی نے ہمیشہ ٹی 20 فارمیٹ میں پاکستان ٹیم کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وہ اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی ہیں اور اس فہرست میں سب سے بہترین اکانومی ریٹ کے حامل بھی ہیں۔ انہوں نے ٹی 20 فارمیٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مین آف دی میچ کے ایوارڈز بھی حاصل کئے ہیں۔ پاکستان نے جو واحد ٹی 20 ورلڈکپ جیت رکھا ہے وہ بھی شاہد آفریدی کی یادگار پرفارمنس کی بدولت ہی ہے کیونکہ وہ اس ایونٹ کے سیمی فائنل اور پھر فائنل میچ میں مین آف دی میچ رہے تھے ۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیم ٹی 20 ورلڈکپ کا جو فائنل میچ کھیلنے میں کامیاب رہی اس میں بھی اس میں بھی انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ آفریدی ہی کی قیادت میں پاکستان ایک اور ٹی 20 ورلڈکپ کا فائنل کھیلنے کے قریب تھا لیکن بدقسمتی سے سعید اجمل آسٹریلیا کے مائیکل ہسی کے ”ہتھے“ چڑھ گئے اور پاکستان سیمی فائنل سے ہی باہر ہو گیا۔

مزید :

کھیل -