کیا آپ جانتے ہیں یہ بریف کیس ہر وقت امریکی صدر کے ساتھ کیوں رہتاہے ؟انتہائی پریشان کن حقیقت جانئے

کیا آپ جانتے ہیں یہ بریف کیس ہر وقت امریکی صدر کے ساتھ کیوں رہتاہے ؟انتہائی ...
کیا آپ جانتے ہیں یہ بریف کیس ہر وقت امریکی صدر کے ساتھ کیوں رہتاہے ؟انتہائی پریشان کن حقیقت جانئے

  

نیویارک (نیوزڈیسک) امریکہ اور اس کے اتحادی اکثر پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکی صدر ہر وقت اپنے ساتھ ایک سیاہ رنگ کا بریف کیس رکھتے ہیں جس میں امریکہ کے نیوکلیئر بمبوں تک رسائی موجود ہوتی ہے اور اس کے ذریعے پوری دنیا کو کسی بھی وقت تباہ کیا جاسکتا ہے۔

اس بریف کیس کو نیوکلیئر فٹ بال کا نام بھی دیاجاتا ہے جو کہ ہروقت امریکی صدر کے ساتھ ہوتا ہے۔امریکی صدر دنیا میں کہیں بھی سفر کرے،یہ بریف کیس اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ وائیٹ ہاﺅس میں موجود situationروم سے کونیکٹ ہوکر کسی بھی ملک پر نیوکلیئر حملہ کرسکتا ہے۔اس بریف کیس کو صدر کے ساتھ موجود پانچ میں سے کوئی ایک ملٹری کے سئینر اہلکار نے اٹھا رکھا ہوتا ہے۔اگر امریکی صدر اپنے گھر ہوتو اس بریف کیس کو وائیٹ ہاﺅس میں خفیہ مقام پررکھا جاتا ہے۔

وائیٹ ہاﺅس ملٹری آفس کے سابق ڈائریکٹر بِل گیولی کا کہنا ہے کہ اس بریف کیس میں 75صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ہوتا ہے جس میں نیوکلیئر حملے کی صورت میں جواب دینے کی تفصیلات درج ہیں۔اس کے ساتھ ہی بریف کیس میں ایک ’بلیک بُک‘ہوتی ہے جس میں امریکی صدر کے لئے محفوظ مقامات کا بتایا گیاہوتاہے،ایک دس صفحات کا کتابچہ جس میں ایمرجنسی براڈ کاسٹ سسٹم کوچلانے کا طریقہ اور ایک انڈیکس کارڈ ہوتا ہے جس میں کچھ خفیہ کوڈز ہوتے ہیں۔

کچھ لوگوں کاکہنا ہے کہ اس بریف کیس میں سے کبھی ایک انٹینا نکلتا بھی دکھائی دیتا ہے جواس جانب اشارہ ہے کہ اس کی کسی مقام کے ساتھ کمیونیکیشن جاری ہے۔امریکی ایئر فورس کے میجر رابرٹ پیٹرسن جو اس بریف کیس کی حفاظت کرچکے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اسے متعدد بار کھول کر چیک کرتاتھاتاکہ اس کے ذہن میں یہ بات موجود رہے کہ امریکی صدر کن ممکنات پر غور کرسکتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایک بار جب صدر بل کلنٹن وائیٹ ہاﺅس میں جاگنگ کررہے تھے تو بھی ایک ملٹری کا بندہ اس بریف کیس کو اٹھاکر اس کے ساتھ بھاگ رہا تھا۔

یہ بریف کیس دنیا نے پہلی بار صدر کینیڈی کے دور میں 1962ءمیں دیکھا گیا جب امریکہ کا کیوبا کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -