’خفیہ انٹرویو کے دوران داعش کے کارکن نے خاتون صحافی سے اچانک ایسی بات کہہ دی کہ وہ دنگ رہ گئی ، جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے

’خفیہ انٹرویو کے دوران داعش کے کارکن نے خاتون صحافی سے اچانک ایسی بات کہہ دی ...
’خفیہ انٹرویو کے دوران داعش کے کارکن نے خاتون صحافی سے اچانک ایسی بات کہہ دی کہ وہ دنگ رہ گئی ، جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے

  

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک)داعش کی طرف سے مغربی ممالک کی بھولی بھالی لڑکیوں کو ورغلا کر شام لے جانے کے واقعات تو اکثر سننے میں آتے ہیں، لیکن داعش کے ایک رکن نے تو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک خاتون صحافی کو ہی ورغلانے کی کوشش کر ڈالی۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق خاتون صحافی نے خود کو 25 سالہ برطانوی شہری زہرہ کے طورپر پیش کیا اور وہ داعش سے متعلقہ ویب سائٹوں اور کارکنوں پر تحقیق کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ماریو نامی ایک جنگجو کے ساتھ ان کی گفتگو کا آغاز ہوا۔ اس شخص کا تعلق بنیادی طور پر اٹلی اور جرمنی سے تھا اور وہ دو سال سے شام میں موجود تھا۔ خاتون صحافی نے ماریو کو بتایا کہ وہ داعش میں شمولیت کے متعلق جاننا چاہتی ہیں، جس پر ماریو کا کہنا تھا کہ یہ تو بہت ہی آسان کام ہے۔ اس نے بتایا کہ اگر خاتون کے پاس پاسپورٹ ہے اور وہ ترکی تک پہنچ سکتی ہے، تو شام پہنچنا ہرگز کوئی مسئلہ نہ تھا۔

خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ ابھی ان کی گفتگوشروع ہوئے نصف گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ ماریو پٹری سے اتر گیا اور اچانک انہیں شادی کی پیشکش کر ڈالی۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ اگر وہ تیار ہیں تو وہ جلد ہی اپنے ’بھائیوں‘ کو انہیں لینے کیلئے بھیج سکتا ہے۔ صحافی کاکہنا ہے کہ اگرچہ انہیں معلوم تھا کہ یہ شخص ہزاروں کلو میٹر دور ہے اور ان کے سامنے صرف ایک کمپیوٹر کی سکرین ہے، لیکن اس کی بے باکی سے وہ سخت گھبرا گئی تھیں۔ یہ تصور کر کے کہ وہ ایک دہشتگرد سے مخاطب ہیں، جو انہیں شادی کی پیشکش کر رہا تھا اور شام لے جانے کو تیار بیٹھا تھا، ان پرخوف طاری ہو گیا تھا۔

یونیورسٹی آف برمنگھم کی ڈاکٹر کیتھرین براﺅن نے ماریو کی گفتگو کا تجزیہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شخص نوجوان لڑکیوں کو ورغلا کر پھانسنے کا ماہر معلوم ہوتا تھا، اور اسی قسم کی گفتگو کر رہا تھا جو کہ اس سے پہلے بھی مغربی ممالک کی لڑکیوں کو ورغلانے کیلئے استعمال کی جاچکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کے لوگ مغربی ممالک کے نوجوانوں اور خصوصاً لڑکیوں کو ورغلانے کیلئے بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کا استعمال کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ٹوئٹر پر تقریباً50 ہزار اکاﺅنٹ داعش کے لوگ چلا رہے ہیں، جبکہ مغربی ممالک سے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کیلئے تقریباً 120 مختلف میڈیا مہمیں چلائی جا رہی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -