بائیس سال سے قتل کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوسکا،"پاکستان "کے سلسلے ایک دن ایک عدالت میں انکشاف

بائیس سال سے قتل کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوسکا،"پاکستان "کے سلسلے ایک دن ایک ...
بائیس سال سے قتل کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوسکا،

  

لاہور(کامران مغل)گھریلو ناچاقی پربیوی کو طلاق دینے کی رنجش پر میرے بھانجے کو اس کے 2برادرنسبتیوں نے اپنے ایک ساتھی سے مل کردروغہ والا چوک کے قریب اندھا دندھ فائرنگ کرکے قتل کردیا جبکہ 2افراد کو گولیاں مار کرزخمی کردیاگیا۔22برسوں سے قاتلوں کو سزا دلوانے کے لئے عدالتوں میں مارا مارا پھر رہاہوں،مجھے تو انصاف ملا نہیں لیکن مذکورہ مقدمہ میں ملوث2ملزم ضمانتیں کروا کر کھلے عام دھندناتے پھر رہے ہیں۔صرف عدالتوں میں مقدمہ کی پیشیاں ہی بھگتنے کے لئے میں ہی رہ گیا ہوں کیا انصاف لینا میرا حق نہیں ہے؟پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میںکئے جانے والے سروے کے دوران موزاں تلواڑہ گاﺅںمناواں کے رہائشی اشتیاق احمدنے اپنے ساتھ ہونے والی ظلم وستم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ میرے بھانجے اختر مجیدنے گھریلو ناچاقی کے باعث اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی جس کا اس کے بھائیوں اسلم عرف اچھو اوراشرف کو رنج تھا تاہم انہوں نے اسی بات کی رنجش دل میں رکھی ہوئی تھی، ایک روز29نومبر1994ئکو میں اپنے بھانجے اختر مجید،کزن منیر احمد اور محمد سعید خان کے ہمراہ تلواڑہ گاﺅںسے نکل کر سیشن کورٹ میں ایک مقدمہ کی سماعت کے لئے جارہے تھے کہ دروغہ والا چوکے جی ٹی روڈ کے قریب ملزمان اسلم اور اشرف نے اپنے ساتھی ذوالفقار کے ہمراہ دھاوا بول دیا اور ہم پر اندھا دندھ فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں میرا بھانجا اختر مجید،کزن منیر احمد اور محمد سعید خان گولیوں کی زد میں آکر زخمی ہوگئے جس کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے،فوری طبی امداد کے لئے تینوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال پہنچایا گیا لیکن میرا بھانجا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا جس کے بعد تھانہ باغبانپورہ پولیس نے میری مدعیت میں مقدمہ نمبر477/94بجرم302/324درج کرلیا۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ آج 22سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور آج بھی میں مقدمہ کی پیروی کررہاہوں لیکن مجھے انصاف نہیں مل سکاہے جبکہ دوسری جانب اس مقدمہ کے 2ملزم اشرف اور ذوالفقار نے ضمانتیں کروا رکھی ہیں جو کہ کھلے عام علاقہ میں دھندناتے پھر رہے ہیں جبکہ اس مقدمہ میں ایک ملزم اسلم حراست میں ہے۔مقدمہ کی پیشیاں بھگتنے کے لئے میں ہی رہ گیا ہوں کیا انصاف لینا میرا حق نہیں ہے،کیا میںعدالتوں میں دربدر کی ٹھوکریں ہی کھاتا رہوں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے بھانجے کو ناحق قتل کیا گیا ہے تاہم اپنے بھانجے کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا نے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔مقدمہ مدعی کے وکلائکا کہنا تھا یہ کیس جتنے طویل عرصہ سے سیشن عدالت میں زیرسماعت ہے اب تک تو اس کا فیصلہ ہوجانا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے یہ کیس اب تک زیرسماعت ہے جو کہ افسوس ناک امر ہے، وکلائکا مزید کہنا تھاکہ مقدمہ کے التوائکا شکار ہونے میں پولیس کا بھی بڑا عمل دخل ہے کیوںکہ ان کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا جس کے باعث مقدمات کے بروقت فیصلے نہیں ہوپاتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ کیس اب ایڈیشنل سیشن جج ناصر جاوید رانا کی عدالت میں زیرسماعت ہے جس میں فاضل جج نے طلبے کے باوجود پیش نہ ہونے پر شہادتیوں کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھاہے۔اس کیس کی اب مزید سماعت28جنوری کو ہوگی۔واضح رہے کہ مذکورہ کیس کے حوالے سے عدالت عالیہ میں بھی ایک رٹ پٹشن نمبر ی 1287/5دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عالیہ نے حکم دے رکھا ہے کہ 2ماہ میں اس کیس کا فیصلہ کیاجائے۔

مزید :

لاہور -