اورنج لائن ٹرین منصوبہ،تاریخی مقامات کے تحفظ کے لئے کمشن تشکیل دیا جائے،عدالتی معاون کی ہائی کورٹ میں تجویز

اورنج لائن ٹرین منصوبہ،تاریخی مقامات کے تحفظ کے لئے کمشن تشکیل دیا ...
اورنج لائن ٹرین منصوبہ،تاریخی مقامات کے تحفظ کے لئے کمشن تشکیل دیا جائے،عدالتی معاون کی ہائی کورٹ میں تجویز

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالتی معاون سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر نے اورنج لائن ٹرین کے راستے میں آنے والے تاریخی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے عدالت کی نگرانی میں کمشن تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت قانون کے منافی منصوبے روکنے کا اختیار رکھتی ہے۔ سید علی ظفر نے اپنے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا آئینی حق ہے کہ وہ لوگوں کی ضروریاتِ زندگی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ایسے منصوبے متعارف کروائے جو ان کی روزمرہ کی زندگی کو آسان کرے۔ یہ بات واضح ہے کہ عدالتیں پالیسی کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتیں۔ جیسا کہ کسی پراجیکٹ کی توسیع، تعمیری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچہ بنانا۔ سیدعلی ظفر کا یہ کہنا تھا حکومت کو اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے تین رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر تعمیراتی کام آئین اور قانون کے خلاف ہو۔دوسرا اگر تعمیراتی کام عوام کے بنیادی وآئینی حقوق کے خلاف ہواور تیسرااگر کوئی تعمیراتی کام کسی شہر کا بنیادی / تاریخی ڈھانچہ ہی تبدیل کر دے۔سیدعلی ظفر نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ مدنظر رکھنا پڑے گا کہ آیا اورنج لائن ٹرین منصوبہ کسی قانون یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں کرتا۔ اورنج لائن ٹرین کا اصل منصوبہ زیرِ زمین تھا نا کہ زمین کے اوپر۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کے منصوبے دوبئی جیسی ریاستوں کیلئے مناسب ہیں مگر لاہور جیسے قدیم اور تاریخی شہر کیلئے نہیں۔ مزید برآں انہوں نے انگلینڈ کی مثال دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہاں ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصے سے زیرِ زمین مسافر ٹرینیں بڑی کامیابی سے چل رہی ہیں۔ اسی طرح کی زیرِ زمین ٹرینیں دہلی، روم اور پیرس جیسے بڑے عالمی شہروں میں بھی چل رہی ہیں۔ سید علی ظفر نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ایسے قوانین موجود ہیں کہ جہاں اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبے اگر ان کی خلاف ورزی کریں تو عدالت کے پاس یہ حق موجود ہے کہ وہ حکومت کو ایسے منصوبے بنانے سے روکے۔ قومی ورثہ کا قانون مجریہ1975ئتمام تاریخی، قدیمی اور ثقافتی مقامات کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے حکومت پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے مقامات کو ہر قسم کے نقصان سے بچائے اور ایسے اقدامات اٹھائے کہ انہیں آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ رکھا جا سکے۔یہ قانون ان تاریخی مقامات کو مزید تحفظ فراہم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان مقامات کو ہر قسم کے نقصان سے بچایا جائے۔ جیسا کہ توڑ پھوڑ، ردوبدل اور بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی اور اگر حکومت اس کی خلاف ورزی کرے تو پھر اختیار حکومت سے نکل کر عدالت کے پاس آ جاتا ہے اور اگر عدالت چاہے تو حکومت کو روک سکتی ہے۔ قوانین اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ قدیم اور تاریخی مقامات کے گردونواح میں ایسے منصوبے زیرِ عمل لائے جائیں جن سے ان مقامات کی اہمیت، خصوصیت اور انفرادیت کو گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اگرچہ اورنج لائن ٹرین جیسا کہ منصوبہ بھی اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو قومی ورثے کو اس میگا پراجیکٹ پر فوقیت دی جائے گی۔ہاں اگر اس پراجیکٹ سے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو تو حکومت اس کیلئے خصوصی اجازت نامہ طلب کر سکتی ہے لیکن اس اجازت نامے کا جاری ہونا منطقی دلائل پر مبنی ہوں۔سید علی ظفر نے مزید کہا کہ اس کیس میں درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پراجیکٹ سے ستائیس سے زیادہ تاریخی مقامات بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں شالامار باغ، چوبرجی، مسجدِ موج دریا، مزارِ بابا موج دریا اور دیگر مقامات شامل ہیں۔صدر سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ قانون اس معاملے پر صاف اور واضح ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی تعمیراتی اجازت نامہ نہیں دیا جا سکتا جن سے تاریخی مقامات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ دلائل کے آخیر میں علی ظفر نے یہ تجویز پیش کی کہ عدالت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ تاریخی مقامات محفوظ ہیں کہ نہیں اپنی زیرِ نگرانی کمیشن تشکیل دے اور ماہرین کو مقرر کرے جن کی رپورٹ کو مدّنظر رکھتے ہوئے یہ عدالت اپنے فیصلے پہ پہنچے۔دلائل کو سمیٹتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ اگر اورنج لائن ٹرین منصوبے کی وجہ سے کسی ایک قدیم یا تاریخی مقام کو بھی نقصان پہنچا تو ایسا اجازت نامہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہو گا اور عدالت چاہے تو اس منصوبے کو روک سکتی ہے۔اس کیس کی مزید سماعت آج27جنوری کو ہوگی۔

مزید :

لاہور -