ہائی کورٹ نے شو آف ہینڈز کے ذریعے مقامی حکومتوں کے انتخاب کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی درخواستوںپر جواب طلب کرلیا

ہائی کورٹ نے شو آف ہینڈز کے ذریعے مقامی حکومتوں کے انتخاب کے خلاف اپوزیشن ...
ہائی کورٹ نے شو آف ہینڈز کے ذریعے مقامی حکومتوں کے انتخاب کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی درخواستوںپر جواب طلب کرلیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد وحید نے تحریک انصاف اورمسلم لیگ (ق) کی جانب سے مقامی حکومتوں کی تشکیل کے لئے خفیہ رائے شماری ختم کرنے اور مخصوص نشستوں میں اضافہ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران انتخابات روکنے کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا نا منظور کردی۔عدالت نے الیکشن کمشن،پنجاب حکومت اوردیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3فروری تک جواب طلب کرلیا ہے۔پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی دوجماعتوں تحریک انصاف اورمسلم لیگ (ق) کے رہنماﺅں اسحاق خان خاکوانی اورکامل علی آغاکے ذریعے دائرآئینی درخواستوں میںموقف اختیار کیاگیا ہے کہ ضلعی حکومتوں کی تشکیل کے لئے قوانین کے تحت خفیہ رائے شماری کرانا لازم ہے مگرلوکل گورنمنٹ ایکٹ میں شوآف ہینڈ کی ترمیم کرکے حکومت من پسندامیدواروں کوجتواناچاہتی ہے،جوغیرقانونی اقدام ہے۔ درخواستوں میں کہاگیاہے کہ چیئرمین ضلع کونسل اوروائس چیئرمین کے انتخاب کے لئے خفیہ رائے شماری نہ کراناآئین کے منافی ہے۔ آئین کے تحت کسی آزادامیدوار کوکسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لئے مجبورنہیں کیا جاسکتا۔انتخابات کاشیڈول جاری ہونے کے بعد کسی آرڈیننس کے ذریعے بلدیاتی قانون میںتبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن اس کے باوجودترامیم کرکے مخصوص نشستوں اورنوجوانوں کی نشستوں میں بھی اضافہ کردیاگیا ہے۔درخواست گزاروں نے الیکشن روکنے کے لئے حکم امتناعی جاری کرنے کی بھی استدعا کی۔ عدالت نے حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعامستردکردی اورالیکشن کمیشن، پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کونوٹسز جاری کرتے ہوئے 3 فروری تک جواب طلب کرلیاہے۔

مزید :

لاہور -