پاکستان کا ایٹمی سفر جاری رہے گا

پاکستان کا ایٹمی سفر جاری رہے گا
پاکستان کا ایٹمی سفر جاری رہے گا

  

پاکستان کے جوہری پروگرام نے امریکہ اور بھارت کی نیندیں اڑا رکھی ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی زہریلا پراپیگنڈہ کرکے دہائی دیتے ہیں حالانکہ ان کے خبث باطن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بالادستی کی خاطر پاکستان کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں ۔اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان نے ایٹمی ٹیکنالوجی کا سفر کیوں شروع کیا۔

پاکستا ن نے 28 مئی1998 کو بلوچستان کے مقام چاغی(راس کوہ) 1000 میٹر گہرائی پر7 ا یٹمی تجربات کرکے دنیا کوبتا دیاتھا کہ اب اس خطہ میں ایک نئی ایٹمی قوت نے اپنا جھنڈا گاڑ ھ دیا ہے ی۔یہ ان دھماکوں کا جواب تھا جو 11 مئی1998کو بھارت نے راجستاین کے علاقے پوکھرا ن میں شکتی ون کے نام پرپانچ ایٹمی دھماکے کئے جس کی گہرائی200 میٹر تھی۔ پاکستان کے معرض وجود آنے کے بعد بھارت کے اسٹیٹ اور غیر اسٹیٹ اداروں نے سازشوں کا جال پھیلاناشروع کر دیاتھا۔ بھارتی ایجنسی را پاکستان کو ہر لحاظ سے جانی، اقتصادی ، معاشی اور سرحدی و جغرافیائی حدود کو نقصان پہنچانے پر معمورہے۔ 1947 اکتوبر میں آزادی کے صرف دو ماہ بعد بھارت نے اپنی فوجوں کو بھیج کر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا جو آج بھی قائم ہے۔نہتے کشمیر ی آج بھی اپنی آزادی کی تاریخ اپنے خون سے لکھ رہے ہیں۔ پاکستان قوم نے ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقوق (آزادی حق رائے دہی، قتل و اغارت کی بندش، عصمت گری کی روک تھام ، معاشی و اقتصادی اور مالی پابندیوں کا خاتمہ) کی آواز کو ا جاگر کیا ہے انشا ء4 اللہ آزادی کے دن تک پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور مالی امداد کو جاری رکھیں گئے۔

بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تشویش لاحق ہوئی جس کے نتیجے میں کئی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ دنیا کے نقشے پر اس وقت امریکہ، چین، فرانس، روس اور برطانیہ ورلڈ ایٹمی گروپ کے ممبر تھے۔ 8 دسمبر1953 میں امریکہ نے ایٹم فار امن کا اعلان کیا تواس وقت پاکستان کے وزیر خار جہ محمد ظفر اللہ خان نے امریکی تائید کرتے ہوئے پالیسی بیان جاری کیا کہ پاکستان ایٹم بم کی تیاری کے خلاف ہے۔ 1954 میں پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے امریکن صدر آئیزن ہاور سے ملاقات میں امریکی منصوبے ا یٹم فار پیس میں شمولیت کا اعلان کیا جس سے دونوں ممالک کے دوران مختلف دیگر شعبوں میں تعاون بڑھنے پر اتفاق ہوا۔امریکی صدر آئیزن ہاور کا ہدف امریکہ کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی صلاحیت سے دور رکھناتھا۔ امریکی صدر کے اس منصوبے ایٹم فار پیس پر کئی ممالک نے تنقید کی، پاکستان میں دفاعی تجزیہ کاروں نے ملکی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف قرار دیاجس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شعبوں کے ساتھ ساتھ عسکری و فو جی امور پر تعاون فروغ پایا۔ 11 اگست 1955 امر یکہ اور پاکستان کے درمیان جوہری توانائی کے معاہدے پر اتفاق کے ساتھ ایک دوسرے کی ہر ممکن مد د کی یقین دہانی کرائی جس کے نتیجے میں امریکہ نے پاکستان کو بجلی کے حصول کے لئے نیو کلیئر ری ایکٹرکا تحفہ دیا لیکن اسکی نگرانی اپنے پاس رکھی جس کی مالیت تقریبا350,000 ڈالر تھی۔

بھار ت نے انتہائی خا موشی اور چالاکی سے جو ہری تجربات کی تیاری جاری رکھی ،جب کہ دوسری طرف پاکستانی قیادت امریکہ کے ساتھ روابط بڑھانے پر ناز کرنے میں مشغول تھی حکومت کے نزدیک جوہری توانائی کی دوڑ میں شامل ہونا فضول تھا۔ 1963 میں ذوالفقار علی بھٹو جو صدر ایوب خان کی کابینہ کے وزیرتھے جوبھارت کے جوہری پروگرام پر گہری نظر رکھے ہو ئے تھے انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں جوہری توانائی اور ٹیکنالوجی کو پاکستان کی اہم ضرورت قرار د یتے ہوئے جوہری پروگرام کو فوراً شروع کرنے کی تجویز دی۔اس دْور میں صدر ایوب خان اور ان کے دیگر وزراء4 کا جھکاؤ امریکہ نواز پالیسیوں کے ساتھ تھا اسلئے اس تجویز پر کسی نے کان نہیں دہرے۔ اسی سال فرانسیسی ہم منصب چارلس ڈی گا ل نے صدر ایوب خان کو جوہری ری پراسنگ پلانٹکی پیش کش کی۔صدر ایوب خان نے چیف آف جنرل سٹاف جنرل یحٰی ، سائنسی امور کے مشیر ڈاکٹر عبدالسلام اور منصوبہ بندی کمیشن کے سربراہ ایم ایم احمد سے صلاح مشور ہ کرنے کے بعد اس آفر کو گول کر دیاجب کہ دوسر ی طرف بھارت کی طرف سے جوہری توانائی پر عبور حاصل کرنے کے دعوے سامنے آنے لگے۔

انڈیا نے انتہائی جارحیت کا قدم اٹھاتے ہوئے 1965 میں پاکستان پر جنگ مسلط کی، اللہ رب العزت کے کرم و فضل سے پاکستانی افواج اور عوام نے یک جان ہو کر دشمن کے دانت کٹھے کیے اور مجبور ا بھارت کو پسپا ہونا پڑا۔ بھارت کو شاید اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کی افواج کو سخت مزاحمت کے ساتھ افسوس ناک شکست کا مزا چکھناپڑے گا۔ اس جنگ کے بعد صدر ایوب خان اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے چین کا دورہ کیا۔ چین کے وزیر اعظم چواین لائی نے صدر ایوب خان کو جوہری ٹیکنالوجی کی افادیت کے ساتھ بھارت کی جوہری صلاحیتوں اور سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ہی وہ سنگ میل تھی جس نے جوہری پروگرام کی بنیاد فراہم کی۔1965 کی جنگ میں شکست کے بعدبھارت نئی پلاننگ کے ساتھ میدان میں اترا اور مشرقی پاکستان کے اندر تعصب اور فرقہ واریت کی فضا قائم کرنا شروع کی، پاکستان کی مقتدر قوتوں اور حکمران طبقے نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا۔ بھارت نے 1971 میں گھناؤنی سازش کے تحت پاکستان کو دو لخت میں تقسیم کرنے میں پورا کردارادا کیا ، مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے الگ ملک بن گیا۔ جس کا کریڈٹ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم اور ہندؤ پسند دہشت گرد جماعت کے رہنماء4 نرندر مودی نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے کئی مسلم ممالک کے دورے کئے ،مسلم امت کو اکٹھے کرنے کیلئے بہت کوشش شروع کیں۔ایران ،ترکی، مراکش، الجرائز، تیونس، لبیا اور مصر کے سربراہان سے سلسلہ وار ملاقاتیں کیں اور آپس میں ملکر تمام مسائل کا حل نکالے پر زور دیا اس کے ساتھ ہی جوہری ٹیکنالوجی کے پروگرام کا سلسلہ تیزی سے شروع ان حالات میں ذوالفقار علی بھٹو نے ہالینڈ میں ڈاکٹر عبد القدیرخان سے رابطہ کیا انہیں پاکستان آنے پر آمادہ کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان برطانیہ، ہالینڈ اور جرمنی کی اْس ٹیم کا حصہ رہے جس نے یورپین یورینیم اانرچمنٹ کنسورشیم نے یورینیم کو افزودہ کرنے کی نئی ٹیکنالوجی سینٹری فیوج ایجاد کی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان آمد کے بعد جوہری کمیشن کے سربراہ کو ہٹا کرڈاکٹر عبد القدیر خان کو اس کا سربراہ کے ساتھ مکمل اختیار دے دیا جس کے بعد کہوٹہ میں جوہری ریسرچ کے ادارے کا قیام عمل میں لایا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فرانسیسی گورنمنٹ کو ان کی پرانی آفر جوہری ری پراسیس پلانٹ کی تجویز پر آمادہ کیااس دوران پاکستانی سیاست کے اندر بہت سے مدو جزر آئے امریکی دباؤ اور پریشر کے باوجود پاکستان نے جوہری پروگرام جاری رکھا۔

مئی 1974 میں بھارت کے جوہری تجربات سے ایٹمی پھیلاؤ کے خلاف دنیا کی تشویش ایک بار پھر بڑ ھ گئی۔ امریکہ سمیت تمام ایٹمی ممالک نے جوہری صلاحتیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کی ضرورت پر زور ڈا لا۔ ایٹمی ٹیکنالوجی اور جوہری صلاحیتیوں میں استعمال ہونے والی اشیاء اور مواد کی بر امدآمدی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے سیاسی حکومت کو برطرف کرتے ہوئے مارشل لاء نافذ کیا ۔اس دوران ایٹمی پروگرام کا سلسلہ برق رفتاری سے جاری رہا۔ حکومت نے ایٹمی پروگرام کو ملک کے کئی مقامات پر پھیلا دیا۔ پاکستان کے سائنس دان اپنی ماہر انہ صلاحیتوں سے ایورینیم کی افزودہی کا پروگرام 1978 میں مکمل کر چکے تھے۔ ایٹمی تجربات کے لئے مختلف جگہوں کا انتخاب کیا گیا ۔

مئی1998 بھارت نے ایٹمی دھماکوں سے جارحانہ برتری کا مظاہرہ دکھایا جب کہ دوسری طرف یورپی ممالک پاکستان پر جوہری تجربات نہ کرنے کا دباؤ و پریشر برقرار رکھے ہوئے تھے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے سخت ترین مشکل گھڑی میں اس کو چیلنج سمجھتے ہوئے قبول کیا۔ میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے 28 مئی1998 کوایٹمی تجربات کا سنہری عہد تحریر کیا۔ بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کو ایٹمی تجربات کے بعد یورپی ممالک کابے حد دباؤ اور پریشر برداشت کرنا پڑا ، دونوں ممالک نے سی ٹی بی ٹی پر دستخط سے انکار کیا۔ بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اگر اس خطے میں ایٹمی پھیلاؤ روکنا چاہتا ہے تو پہلے چین کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکے۔ بعض ممالک کے خیال میں امریکہ سب سے پہلے اپنے جوہری ہتھیار تلف کرے ۔ورنہ یہ ایٹمی ریس اس طرح جاری و ساری رہے گی۔ 9اکتوبر 2006 شمالی کوریا دنیا کا آٹھویں ملک بن گیا ہے جس نے جوہری تجربات کرکے ایٹمی پاور ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ یکطرفہ پابندیاں کوئی چیز نہیں ہوتیں۔بڑے ملک جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں انہیں دوسرے ملکوں کو اسکے حقوق سے نہیں روک سکتے۔

پوری دنیا کے اندر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں روایتی حریف حالت جنگ میں جوہری اسلحہ کا استعمال نہ کر بیٹھیں۔بھارت نے 2001 دسمبر میں جعلی ڈرامہ رچاکر اپنی پارلیمان پر خود حملے کروایا اور اس کا الزام حسب منشا پاکستان کے سر ڈال کر اپنی فوجیں پاکستانی سرحدوں پر لے آیاتھا۔ پاکستان کی مسلح فوج بھارت کی تمام نقل وحرکت اور چالوں سے اچھی طرح واقفیت رکھتی ہیں جتنی دیر میں بھارتی فوجیں حملے کی پوزیشن اختیار کرتیں پاکستان نے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی اور ہر قسم کی جارحیت کا جواب کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح آموجود ہوئی ، جس کے بعد بھارت کو مجبورً ا واپس جانا پڑا۔ اس دوران بھارتی میڈیا نے اپنی ہی حکومت کی دھہجیاں اڑا تے ہوئے اسے ایک ناکام فوجی ڈرامہ قرار دیا۔

نائن الیون کے بعد سے امریکہ اور بھارت کے درمیان قر بت بڑھ چکی ہے ۔دونوں ممالک کے دیگر شعبوں کی طرح افغانستان کے اندر مفادات بھی مشترکہ ہیں۔ امریکہ جو پاکستان کا دوست ہونے کا دم بھرنے کے باوجود پاکستانی جوہری ٹیکنالوجی ، صلاحتیوں پر ناراض ہے کئی مرتبہ امریکی میڈیا سے گمراہ کن اطلاعات سننے کو ملی ۔امریکہ پاکستان کے جوہری اسلحہ و ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کی خاطر اپنی اسپشل فورس کے ذریعے اپنی تحویل میں لینے کا ارادہ رکھتا ہے چونکہ امریکہ کو یہ تشویش ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کہیں مسلح کالعدم تنظمیوں کے ہاتھ نہ چڑجائیں۔حالانکہ ایسا ناممکنات میں سے ہے پاکستان نے اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی و اثاثے کے استعمال اور انکی حفاظت کے لئے ایک جامع و افعال نیو کلیئر کمانڈر اتھارٹی بنا رکھی ہے جو اس بات کی ضمانت ہے کہ کئی دوسرے ملکوں سے زیادہ پاکستان میں ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کا نظام مضبوط ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اپنے دفاع کی مد میں ایک کثیر الا رقم خرچ کر رہے ہیں جب کہ دونوں ممالک کی عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ دونوں ایٹمی ممالک کا وسیع اور فروغ پاتا ہوا ایٹمی پروگرام جس کے تحت نت نئی جوہری ٹیکنالوجی ( راکٹ ، میز ائل ، ٹینک، طیارے اور دیگر آلات) کے تجربات سامنے آرہے ہیں جو اس خطے میں نہ ختم ہونیوالی اسلحہ کی ریس ہے۔دونوں ممالک کی حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آنے والی اپنی نسلوں کے لئے جنگ و جدل کی بجائے محبت ، امن اور سلامتی کی فضا قائم کریں تاکہ دونوں ملک کے عوام کے ساتھ اس پورے خطے میں ترقی و خوشحالی کا دور دورا ہو۔ لیکن برابری کی اس فضا کو پہلے بڑی طاقتوں کو عدل کرنا ہوگا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -