ڈاکٹر طاہرالقادری بدل گئے؟

ڈاکٹر طاہرالقادری بدل گئے؟
ڈاکٹر طاہرالقادری بدل گئے؟

  

نوراللہ صدیقی صاحب سے اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسے کے حوالے سے بات ہو رہی تھی ، کئی ایشوز پر مختلف حوالوں سے سوالات تھے جن پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایسے مواقع پر خود لاہور کے صحافیوں کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے اور طویل نشستوں میں ان سے کئی بار حالات حاضرہ اور اس پر ان کا نقطہ نظر جاننے کا موقع ملتا تھا، ڈاکٹر صاحب کا ہمیشہ صحافیوں سے بڑا قریبی تعلق رہا ہے ،لیکن اب طویل عرصہ سے یہ سلسلہ رکا ہوا ہے ، خاص طور پر جب سے انہوں نے سیاست کو خیرباد کہا اور کینیڈا سے لو لگائی تب سے ہم ان کی محفل سے محروم ہیں ، اب جبکہ ڈاکٹر صاحب دوبارہ سیاست میں سرگرم ہورہے ہیں تو انہیں یہ سماجی رابطے بھی دوبارہ بحال کرنے چاہئیں، نوراللہ صدیقی کا اگلے ہی روز فون آگیا اور انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے آپ کی تجویزسے اتفاق کیا اور بہت جلد یہ نشست رکھی جارہی ہے، جمعہ کے روز برادر حفیظ چوہدری نے ہفتہ کوڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا بلاوا دے دیا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے جب بھی سیاست میں اپنی پارٹی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تو انہیں ایک زبردست اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑا، مذہبی حلقوں نے الزام عائد کیاکہ وہ سیاسی عزائم رکھنے والے عالم دین ہیں جن کا اصل ہدف اقتدار ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں نے انہیں محض ایک مذہبی رہنما ہونے کا طعنہ دے کر ان کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی۔

اس دوران ان کی اپنی سیاست میں بھی بعض ایسے تضادات اور حکمت عملی کا فقدان نظر آیا جس نے ان کے مخالفین کی رائے کو تقویت دی۔

بالخصوص ماضی قریب میں 2012 میں اسلام آباد کی طرف سیاست نہیں ریاست بچاؤ مارچ کی ناکامی اور پھر دوسال بعد ہی 2014ء میں اسلام آباد میں ڈھائی ماہ پر محیط طویل دھرنا کے بے نتیجہ اختتام نے ان کی سیاست کو بہت نقصان پہنچایا۔ مجھے ڈاکٹر طاہرالقادری کو بحیثیت رپورٹر کور کرتے بیس سال ہوگئے ہیں، ہفتہ کے روز ان کے ساتھ کم و بیش ڈھائی گھنٹے طویل نشست میں مجھے ان میں بعض بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔

اگرچہ ان کی موجودہ سیاست ، نقطہ نظر اور آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے ان سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے، لیکن جس تبدیلی کی میں بات کررہا ہوں وہ ان کے انداز سیاست میں تبدیلی کی ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے تھوڑا سا ماضی میں جانا پڑے گا۔

سیاسی اتحادوں کی سیاست کے بادشاہ نوابزادہ نصراللہ نے نواز حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا ایک الائنس بنانے کا سلسلہ شروع کیا تو اس وقت کے حالات بہت مختلف تھے۔ 1996ء کے انتخابات میں بدترین شکست کے بعد بینظیر بھٹو پر نواز حکومت نے اتنے کیسز بنادئیے کہ وہ زچ ہوکر رہ گئیں، صبح کراچی تو دوپہر کی فلائیٹ سے لاہور پہنچ کر عدالتوں میں اپنا مقدمہ لڑ رہی ہوتیں۔

ایسے میں پیپلزپارٹی کا ورکر انتہائی بددل تھا، اور مشکل یہ تھی کہ حکومت مخالف تحریک کے لئے اتنے کارکن کہاں سے آئیں گے۔ اس کا حل ڈاکٹر طاہر القادری نے دے دیا اور انہوں نے نواز مخالف تحریک کو اپنے پرجوش اور انتھک کارکنوں کا کندھا فراہم کردیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے بننے والے اس الائنس کا صدر بنادیا گیا۔

نوابزادہ نصراللہ خاں اور بینظیر بھٹو ان کی صدارت میں بیٹھتے۔ قادری صاحب کی سیاست میں یہ ایک اہم سنگ میل تھا، لیکن سیاسی میدان میں تجربے کی کمی کی وجہ سے الائنس کے ہر اجلاس اور ہر جلسے میں عوامی تحریک اور پیپلزپارٹی قیادت سے لے کر کارکن تک ایک دوسرے کے متحارب کھڑے نظر آتے۔

ہر اجلاس سے ہمیں عوامی تحریک کے دیگر جماعتوں سے اختلافات کی گرما گرم خبریں مل جاتیں اور ہمارا کام چل جاتا۔ جلسوں میں تعداد زیادہ ہونے کی بنیاد پر ہی عوامی تحریک کے کارکن مستقبل کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم قادری کے نعرے لگاتے ، جواب میں جیالے وزیراعظم بینظیر کا نعرہ بلند کرتے، گویا نواز حکومت سے مقابلہ تو بعد کی بات ، انہوں نے آپس میں ہی سیمی فائنل کھیلنا شروع کردیا۔ ہر جلسے اور اجلاس کے بعد لگتا کہ یہ الائنس اب آگے نہیں چلے گا، لیکن نوابزادہ نصراللہ مرحوم کبھی مایوس نہ ہوتے، ہر دھماچوکڑی کے بعد ہم ان سے پوچھتے کہ نواب صاحب اب آپ کے الائنس کا کیا بنے گا، تو نوابزادہ حقے کی نے منہ میں لیکر لمبا کش لگاتے اورکہتے دیکھیں الائنس کا مطلب یہ نہیں ہوتاکہ جماعتوں کا ایک دوسرے میں انضمام ہوگیا ہے، اس الائنس کی خوبی بھی یہ ہے کہ تمام جماعتیں اپنے الگ الگ نظریے،منشور اور پروگرام کے ساتھ ایک ساتھ بیٹھی ہیں، ہمارا کام ہے کہ انہیں ساتھ بٹھانے کے لئے کم سے کم مشترکہ ایجنڈا تیار کیا جائے، سو یہ کام ہم نے کردیا ہے ، ہم نے انہیں نواز ہٹاؤ تحریک کا یک نکاتی ایجنڈا دے دیا ہے۔

اب اسی پر ان جماعتوں نے آگے چلنا ہے اس سفر میں ان کے درمیان اختلافات بھی آئیں گے، لیکن ان کا مشترکہ ایجنڈا ہی انہیں یکجا رکھے گا۔ نوابزادہ صاحب کا یہ جواب بعد کی گفتگو میں اس نوعیت کے تمام سوالات کو ایک ہی بار نمٹا دیتا۔ قادری صاحب نے نوازشریف کے ہٹتے ہی پرویز مشرف کی حمایت کا نعرہ لگا کر نوابزدہ نصراللہ اورمحترمہ بینظیر بھٹو سے علیحدگی اختیار کرلی۔

انہوں نے تمام تر توقعات پرویزمشرف سے وابستہ کرلیں۔ اور سمجھ لیا کہ دوسال کی سیاسی جدوجہد کے بعد وہ منزل آگئی ہے، جس کے لئے پاکستان عوامی اتحاد بنایا تھا، لیکن ان کی یہ خوش فہمی جلد ہی دور ہوگئی۔ جلد بازی کی پالیسی کے تحت مشرف سے وابستہ کی گئیں توقعات نے نہ تو کبھی پورا ہونا تھا نہ ہی ہوئیں۔

جب انہیں اپنی اصلاحات کی خواہشوں کا جنازہ نکلتا نظر آیا تو وہ طویل استعفیٰ لکھ کر نہ صرف پارلیمنٹ سے باہر آگئے، بلکہ ملک ہی چھوڑ گئے اور دوبارہ اپنے تحریکی کام میں مصروف ہوگئے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ ایک سیاسی ناپختگی تھی جو بدرجہ اتم موجود تھی ، اوراس کا اظہار خود ڈاکٹر طاہرالقادری بھی کرتے ہیں۔

دوسری طرف نوابزادہ نصراللہ اور محترمہ بینظیر بھٹو چونکہ فل ٹائم سیاسی لوگ تھے انہیں معلوم تھا کہ ان کی جدوجہد کا ایک مرحلہ ختم ہوا ہے اوراب پرویز مشرف کی صورت میں دوسری افتاد آن پڑی ہے اس لئے انہوں نے اسی کم سے کم مشترکہ ایجنڈے کے فارمولے کے تحت گو مشرف گو کے سنگل پوائنٹ ایجنڈے ا پرے آرڈی کے نام سے ایک نیا لائنس تشکیل دے دیا، جس میں اپنے بدترین مخالف نوازشریف کو شامل کر لیا۔

اب میں اس تبدیلی کی بات کرنے لگا ہوں جو میں نے حالیہ ملاقات میں محسوس کی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کے سامنے درجن سے زائد صحافی بیٹھے تھے، لاہور میں چیئرنگ کراس پر ان کی صدارت میں متحدہ اپوزیشن کے جلسہ میں ہونے والی تقاریر کے بعدچند گھنٹوں میں ہی دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے مابین جو نئی محاذ آرائی سامنے آئی اس کے بعد ان صحافیوں کے پاس سوالات کا ذخیرہ تھا۔

سب جاننا چاہتے تھے کہ اب اس نوزائیدہ الائنس کا کیا بنے گا۔ ڈاکٹر صاحب کو بھی اچھی طرح ان تمام سوالات کا ادراک تھا، لیکن انہوں نے بات بالکل غیر سیاسی موضوعات سے شروع کردی۔ تمہید طول پکڑنے لگی تو رپورٹروں کے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا اور انہوں نے سوال داغ ہی دیا، اور سوال ہی نہیں، بلکہ

سوالات۔۔۔ دونوں جماعتوں نے آپ کے ماڈل ٹاؤن کیس کو خراب تو نہیں کردیا ؟

۔۔۔ کیا آپ اگلا جلسہ کر پائیں گے؟۔۔۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اب کیسے دوبارہ اکٹھی ہوں گی؟۔۔۔ اس سیاسی کشاکش میں کیا آپ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کو انصاف دلوا پائیں گے؟۔۔۔ اور آپ نے نوازشریف کے جانے کے بعد کیا سیاسی منظر نامہ سوچ رکھا ہے ، وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ طاہرالقادری کا ان سوالات پر جو ردعمل تھا وہ سیاسی دانشمندی سے بھرپور تھا۔

وہ کسی بھی سوال پر پکڑائی نہ دئیے اورا نہوں نے بالکل نوابزادہ صاحب والا انداز اور فارمولا اختیار کرتے ہوئے تمام سوالات کو ایک ہی جواب میں لپیٹ دیا کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دو الگ الگ جماعتیں ہیں، ہم نہ تو ان کی الگ الگ شناخت ختم کرنا چاہتے ہیں اور نہ یہ ہوسکتی ہے، وہ ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے اکٹھی ہوئیں۔

ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا یا موقف ان پر کیسے مسلط کرسکتے ہیں؟۔۔۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر طاہرالقادری نے کوئی ایسی ڈھیلی یا کچی بات نہ کی، جس سے دونوں جماعتوں میں پیدا ہونے والے فاصلے کو ایک بڑی خلیج بنانے کا موقع کسی کو ہاتھ آئے۔

یہاں محسوس ہوا کہ قادری صاحب جو کبھی پاکستان عوامی اتحاد کے دور میں بطور صدر الائنس، معاملات کو اپنے گرد رکھنے اور بینظیر بھٹو کے ساتھ ٹکراؤ والے روئیے کی حامل شخصیت تھے، اب وہ اپوزیشن کو جوڑنے کی خاطر اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر بات کرتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے اپنی پہلی ملاقات میں انہیں نوابزادہ نصراللہ کا متبادل قرار دیا تھا، لگتا ہے کہ یہ بات کہیں نہ کہیں شعوری یا غیر شعوری طور پر قادری صاحب کے گرد گھومتی رہتی ہے، اور پھر حالات بھی ایسے آن پڑے ہیں کہ جس میں اپوزیشن کو متحد کرنے کے لئے ایک ایسے ہی کردار کی گنجائش نکل رہی ہے، اگرچہ یہ کوئی حتمی بات نہیں، لیکن قادری صاحب نے اب تک اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے لئے جس انداز سے ایک پل کا کام کیا ہے اس میں ان کے اور نوابزادہ نصراللہ مرحوم میں ایک مماثلت نظر آتی ہے۔

دونوں جماعتوں کے مابین پارلیمنٹ کے بارے میں اختیار کی گئی زبان اور استعفوں کے معاملے پر اختلافات بہت شدت اختیار کرگئے ہیں۔ نوبت اسمبلیوں سے مذمتی قرارداد تک پہنچ گئی، لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر صاحب پرامید ہیں کہ وہ جب بھی بلائیں گے ان کی اتحادی جماعتیں ان کے پاس ضرور آئیں گی۔

انہیں اپنے اس نئے کردار کا بخوبی ادارک ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں وہی ایک ایسی شخصیت ہیں، جن پر تمام مختلف الخیال سیاسی جماعتیں اعتماد کرتی ہیں۔قادری صاحب نے ایک اور بات بڑی اہم کی کہ اب وہ کسی کے اکسانے پر کوئی بڑا اعلان نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب مجھے بعض لوگوں نے جسٹس باقر نجفی رپورٹ پرانتہائی ردعمل دینے کو کہا تو میرا موقف تھا کہ 2014ء کے دھرنے کے بعد میں نے اب اپنی ایک نئی عینک بنوالی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ مجھے اس عینک سے جو نظر آئے گا اسی پر یقین کروں گا۔

ان کی یہ بات بھی ان میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ گویا وہ سمجھ گئے ہیں کہ اس سے قبل وہ جانے انجانے میں کہیں نہ کہیں استعمال ہوگئے۔

یہ ایک اچھی بات ہوئی کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی شکل میں ایک ایسا نیا سیاسی لیڈرملک کی سیاست میں ابھرنے کے آثار نظر آئے جو ملک میں آئین کی سربلندی اور ایک صحت مند جمہوری سیاسی کلچر کے فروغ کے لئے جدوجہد کرنا چاہتا ہے۔

اور اس مقصد کے لئے ایک ایسی سیاسی شخصیت کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے جو سیاسی طور پر متحارب قوتوں کو بھی بوقت ضرورت اپنی غیرمتنازعہ حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکٹھا کردے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قادری صاحب کو اب بھی اپنے اس نعرے کو مزید واضح اور آئین کی بالادستی سے مشروط کرنے کی ضرورت ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ آئندہ الیکشن سے پہلے ایک کڑا احتساب ہونا اور انتخابی اصلاحات ہونی چاہئیے، کیونکہ یہ مطالبہ اتنا سادہ معلوم نہیں ہوتا، مجھے تو اس مطالبے میں پھر اسلام آباد دھرنے کے لئے اکسانے والوں کی بو آتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -