ایسا نہیں ہونا چاہئے

ایسا نہیں ہونا چاہئے
ایسا نہیں ہونا چاہئے

  

وزیراعلیٰ شہبازشریف کو مَیں ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کی نظر سے دیکھتا ہوں، ان کی تقریروں کو مَیں بہت غور سے سنتا ہوں، ان کے چہرے کے تاثرات کو بھی پڑھتا رہتا ہوں، عمومی طور پر ان کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا اور مجھے یوں لگتا ہے کہ سچائی کی کوئی نہ کوئی رمق ان کے وجود میں کہیں نہ کہیں موجود ضرور ہے، بھلے انہیں ان کے سیاسی مخالف ’’شوباز‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن مَیں ایسا نہیں سمجھتا۔۔۔ مگر گزشتہ روز زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف نیوز چینلرز کی سکرینوں پر جو کچھ دکھایا گیا وہ قطعی طور پر مناسب نہیں لگا۔۔۔ اس میں نمودونمائش کا عنصر بہت نمایاں تھا، قاتل کی گرفتاری پر قوم کو مبارک باد دینا بھی عجیب لگا۔۔۔ مختلف افسران کو کھڑا کرکے ان کی ستائش کا سلسلہ بھی خاصا تکلیف دہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے قاتل کو ڈھونڈ نکالا ہے کیا انہوں نے کوئی بہت ’’مشکل‘‘ ٹارگٹ حاصل کیا ہے؟ یا کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں تھی؟

میرے خیال میں جس جس ادارے نے بھی قاتل گرفتار کرنے میں مدد کی ہے یا اپنا کردار ادا کیا ہے یہ ان کی ذمہ داری تھی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو بہت تاخیر سے پورا کیا۔۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب جو صوبے کے حکمران ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، اصولی طور پر انہیں سب سے پہلے پنجاب کے عوام سے معذرت کرنی چاہئے تھی کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود زینب کا قاتل دیر سے گرفتار ہوا ہے۔

قصور کوئی اتنا بڑا شہر نہیں ہے جہاں اتنی فورسز کو لگانے کے بعد قاتل گرفتار کیا جائے، یہ کام تو کسی بھی ضلع کے پولیس حوالدار کے ذمہ لگایا جاتا تو وہ بھی چوبیس گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر لیتا۔۔۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ شہبازشریف کے اردگرد ایسے لوگ جمع ہو چکے ہیں جو انہیں مزید آگے کے منصب پر پہنچنے سے پہلے عوامی سطح پر غیر مقبول بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان سے ایسے ایسے کام کروائے جائیں جو کہ انتہائی ’’بچگانہ‘‘ قسم کے تاثر کے ساتھ لوگوں کے سامنے آئیں۔۔۔ اور ان کی مستقبل کی سیاسی شخصیت ایک سوالیہ نشان کے ساتھ آگے بڑھے، سو شہبازشریف کو چاہئے کہ وہ اپنے ’’میچورپن‘‘ کو قائم رکھیں، پنجاب کے عوام ان سے محبت رکھتے ہیں اور اب ملک بھر کے عوام بھی انہیں بہرحال بڑے منصب پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے انہیں وزیراعظم کے منصب کے لئے نامزد کر رکھا ہے تو انہیں ’’کونسلر‘‘ کی سطح پر نہیں آنا چاہئے، اس پریس کانفرنس کے بعد ان کی سیاسی اور اخلاقی حیثیت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ یہ بات انہیں صرف وہی بتا سکتا ہے جو ان کے ساتھ مخلص ہے، سو شہبازشریف کو اپنے مخلص مشیروں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے، آگے بڑھنے سے مجھے خیال آیا کہ مال روڈ پر ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسے میں شیخ رشید کے استعفیٰ کے اعلان کے بعد مجھے امید تھی کہ اب معاملات آگے بڑھیں گے اور شیخ رشید کے بعد تحریک انصاف کے ممبران بھی اس ’’لعنتی پارلیمینٹ‘‘ سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر حیرت کی بات ہے کہ خود شیخ رشید نے بھی پارلیمینٹ سے نکلنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے اور کہا ہے کہ عمران خان ان کے راستے کی دیوار بن گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ ابھی اس پارلیمینٹ میں موجود رہیں۔۔۔ شیخ رشید دراصل جذباتی آدمی ہیں اور کنونشن والے دن انہیں مزید جذباتی کرنے کی ذمہ داری عوامی تحریک کے خرم نواز خان گنڈا پور کے سر جاتی ہے۔

ان گنڈا پور نے جلسے کے آغاز سے چند لمحے پہلے یہ خبر بریک کی کہ جلسے سے خطاب کے دوران پی پی پی اور تحریک انصاف والے پارلیمینٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیں گے۔۔۔ ان کا یہ بیان بریکنگ نیوز کے طور پر دو چینلز نے نشر کیا۔۔۔ شیخ رشید سمجھے کہ شاید ’’اندرون خانہ‘‘ یہ فیصلہ ہو گیا ہے، انہوں نے سوچا کہ وہ کیوں نہ ’’بازی‘‘ لے جائیں سو انہوں نے دائیں بائیں دیکھے بغیر اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے اعلان کے ساتھ عمران خان کی طرف مُلتجی نظروں سے دیکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ بھی پارلیمینٹ سے مستعفی ہو جائیں، ان کے اس مطالبے پر عمران خان کے ساتھ ساتھ ان کے دیگر ساتھیوں نے بھی اپنی اپنی کرسی پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لی۔۔۔ جو اس بات کا اعلان تھا کہ :

’’اللہ خیر کرے یہ تو ہمارے پیچھے پڑ گیا ہے‘‘

بہرحال اپنی تقریر کے دوران عمران خان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ مشورہ کرکے بتائیں گے کہ انہوں نے آگے کیا کرنا ہے۔ اس گفتگو کے دوران عمران خان کے چہرے پر صاف لکھا نظر آ رہا تھا کہ ’’ہم سے یہ امید نہ رکھو‘‘

سو اب شیخ رشید نے اعلان کیا ہے عوام میرے مستعفی ہونے کی اُمید نہ رکھیں کیونکہ میرا استعفیٰ عمران خان کے فیصلے کے ساتھ مشروط ہے۔۔۔

بہرحال ایک بات طے ہے کہ اپوزیشن اپنی تمام تر جدوجہد کے باوجود حکومت کو گرانے میں تادم تحریر ناکام ہے اور ہر طرح کے ’’حربے‘‘ نعرے اور الزامات لگانے کے باوجود پریشان ہے۔

میرے خیال میں اب اپوزیشن کو حکومت گرانے کے مقصد سے ’’توبہ تائب‘‘ ہو جانا چاہئے۔ اگلے الیکشن کے لئے سیاسی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہئے۔

عمران خان کو چاہئے کہ وہ اب قومی اسمبلی میں اپنی نمائندگی کو بھرپور بنائیں۔ قومی اسمبلی ایک ایسا فورم ہے جہاں وہ حکومت کے لئے روزانہ کی بنیاد پر پریشانی پیدا کر سکتے ہیں اور پھر انہیں ملک کے دیگر مسائل کے حوالے سے بھی بات کرنی چاہئے۔ نوازشریف کو انہوں نے کرپٹ کہا۔۔۔ عدالت نے انہیں گھر بھیج دیا۔۔۔ اور نیب ان کے خلاف تحقیقات میں مصروف ہے مگر اب عمران خان محض ’’کرپشن‘‘ کے نعرے کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے اور انہیں یاد رکھنا چاہئے خود ان کی جماعت میں بھی ان کے دائیں بائیں کرپٹ لوگ موجود ہیں، ان کے ایک سب سے موثر سیاسی پارٹنر کو عدالت نے نااہل قرار دیتے ہوئے ان پر تاحیات پابندی لگادی ہے۔

سو اب مسلم لیگ (ن) کی طرح تحریک انصاف بھی ایک عدد ’’نااہل‘‘ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ سو عمران خان کو عوام کے حقیقی مسائل کے حوالے سے بھی بات کرنی چاہئے۔۔۔ بیروزگاری، مہنگائی، بدامنی جیسے مسائل ملک میں موجود ہیں اور ان مسائل کی وجہ سے عوامی پریشانی آسمان کو چھو رہی ہے مگر انہوں نے اس حوالے سے عوامی نمائندگی کا حق ادا نہیں کیا۔۔۔ وہ کے پی کے حوالے سے بہت جذباتی ہو جاتے ہیں۔۔۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر کے پی کے میں پنجاب سے زیادہ اچھے حالات ہیں، وہاں قانون کی عملداری ہے تو پھر قصور میں اگر زینب کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو کے پی کے کے مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔۔۔ تو کیا یہ حالات پنجاب سے مختلف؟

میرے خیال میں اگر پنجاب کے حالات اچھے نہیں ہیں تو سندھ اور کے پی کے کے حالات بھی مختلف نہیں ہیں، بلوچستان میں حکومتی تبدیلی کے بعد بھی روزانہ کی بنیاد پر ’’ٹارگٹ کلنگ‘‘ ہو رہی ہے تو ان حالات میں ایک قومی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور ملک کے حقیقی مسائل کے حل کیلئے تمام لوگوں کو مثبت سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ملک میں افراتفری بڑھتی رہے گی اور کوئی بھی حقیقی طور پر عوامی مسائل کے حل کی منصوبہ بندی نہیں کر سکے گا۔۔۔

مزید :

رائے -کالم -