معیشت سمیت تحریک انصاف کی حکومت اب تک اپنی پالیسیوں کے سلسلے میں کوئی سمت متعین نہیں کر سکی:لیاقت بلوچ 

معیشت سمیت تحریک انصاف کی حکومت اب تک اپنی پالیسیوں کے سلسلے میں کوئی سمت ...
معیشت سمیت تحریک انصاف کی حکومت اب تک اپنی پالیسیوں کے سلسلے میں کوئی سمت متعین نہیں کر سکی:لیاقت بلوچ 

  



حیدرآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ معیشت سمیت تحریک انصاف کی حکومت اب تک اپنی پالیسیوں کے سلسلے میں کوئی سمت متعین نہیں کر سکی، مدینہ کی ریاست کے قیام کے دعوی کا ہم نے خیرمقدم کیا تھا مگر عملاً حکومت قادیانیوں اور اسرائیلیوں کو مراعات دے رہی ہے، مزید 6 ماہ حکومت کا منفی رویہ اور پالیسیاں اسی طرح رہیں تو اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جائے گا، اپوزیشن کا متحد ہونا کیوں قابل اعتراض ہے جبکہ تحریک انصاف کی حکومت ایم کیو ایم ق لیگ اور دیگر کئی گروپوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، اگر تحریک انصاف نے سندھ کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا تو عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ پھر کسی کا مینڈیٹ سلامت نہیں رہے گا۔

حیدرآباد پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام میں گفتگو کرتے  ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی طرف سے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے اعلان کا ہم نے خیرمقدم کیا تھا کیونکہ پاکستان کی بنیاد اسلامی نظریہ ہے لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہوئے خاتم النبینﷺ کے الفاظ درست طور پر ادا نہ کر سکے تھے تو اسی وقت لوگوں کا ماتھا ٹھنکا تھا، پھر مختلف حوالوں سے قادیانیوں کی سرپرستی کی جانے لگی، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی، اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد میں لینڈنگ کی خبر عام ہوئی جسے چھپایا گیا، پھر تحریک انصاف کی ایک خاتون رکن نے قومی اسمبلی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں تقریر کی اور اب ایک پاکستانی شہری کو اسرائیل کے دورے کے سلسلے میں دستاویزات فراہم کرنے کی خبریں منظرعام پر آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے قطر میں اپنے خطاب میں سکھوں کا مکہ مدینہ پاکستان میں ہونے کی جو بات کہی ہے وہ افسوسناک ہے وہ ان کے شایان شان نہیں ہے، مکہ اور مدینہ اربوں مسلمانوں کے ایمان کے حوالے سے عقیدت اور احترام کا مرکز ہے، اگر ان کے تقدس کے بارے میں وزیراعظم کو خود علم نہیں تھا تو وہ پیرنی صاحبہ سے ہی پوچھ لیتے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پانامہ کیس میں نوازشریف کے سواء 436 دیگر افراد کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی، قرضے معاف کروانے والوں کی فہرست موجود ہے مگر ان کو رعایات دی جا رہی ہیں، بیرون ملک لوٹی ہوئی رقم لانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کے بیرون ملک اثاثہ جات منظرعام پر آنے کے بعد لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے معاملے کو سردخانے میں ڈال دیا گیا ہے، اس سے واضع ہے کہ عمران خان نے کرپشن لوٹی ہوئی دولت اور قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں جو بلندبانگ دعوے کئے تھے وہ محض لفاظی تھی اور عوام کو فریب دینا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیوروکریسی اور سیکیورٹی اداروں میں کرپٹ افراد کے خلاف کاروائی اب شائد تحریک انصاف کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے، احتساب کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے،پوری دنیا میں کشکول اٹھا کر قرضے لانا پاکستان کے مسائل کا حل نہیں، 70 سال سے یہی ہوتا آیا ہے، اب بھی بھاری سودی قرضے دنیا بھر سے جمع کئے جا رہے ہیں لیکن یہ مسلمہ بات ہے کہ قرضوں کی معیشت سے کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر شعبے میں باصلاحیت اور ہنرمند لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے اس لئے اگر خودانحصاری اختیار کی جائے، سودی معیشت کا خاتمہ کیا جائے، لوٹی ہوئی دولت واپس وصول کی جائے، اپنے ہاریوں محنت کشوں تاجروں اور صنعتکاروں پر اعتماد کیا جائے تو ہی پاکستان قرضوں کی دلدل سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے مگر عمران خان اپنے تمام دعوؤں اور وعدوں کو فراموش کرکے اس طرح آنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا ہی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے جس سے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام شدید مہنگائی بیروزگاری تلے دبے ہوئے ہیں ان کی قوت خرید دم توڑ رہی ہے اور غریبوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے جبکہ حکومت اپنی عوام دشمن پالیسیوں کے ذریعے غریب اور متوسط شہریوں پر ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی بلز کا مزید بوجھ لاد رہی ہے،پہلے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایک بجٹ پیش کیا پھر پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو اس نے اپنا بجٹ دیا اور اب پھر سال کے دوران تیسرا منی بجٹ عوام پر تھوپ دیا گیا ہے جس میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے ایک طرف مخصوص طبقات کو کچھ ریلیف دیا گیا ہے تو دوسری طرف عوام پر مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے، اس طرح ایک سال میں بجلی گیس تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے ساتھ ٹیکسوں کا بوجھ بھی تین گنا کر دیا گیا ہے،صرف حکومت نے ایل این جی کی بروقت درآمد میں جو تاخیر کی اس سے پیدا ہونے والی بدنظمی سے صنعت و تجارت ہی نہیں عام صارفین بھی منفی اثرات سے دوچار ہوئے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ سانحہ ساہیوال نے پوری قوم کو رلا کر دکھ دیا ہے، قانون نافذ کرنے والےریاستی اداروں اور حکومت کی لاقانونیت اور سفاکیت انتہا کو پہنچ چکی ہے اور یہ محض سانحہ ساہیوال تک محدود نہیں ہے، کراچی، سندھ کے اندرونی اضلاع، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں اس طرح کے سانحات تسلسل سے ہوتے آ رہے ہیں جبکہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اب جے آئی ٹی پر عوام کا اعتماد اور بھروسہ ختم ہو چکا ہے 

مزید : علاقائی /سندھ /حیدرآباد