قبائلی اضلاع میں الیکشن ایکٹ 18ء کے تحت عام ،بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ

قبائلی اضلاع میں الیکشن ایکٹ 18ء کے تحت عام ،بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ

  



اسلام آباد (صباح نیوز) قبائلی اضلاع میں الیکشن ایکٹ 2018 ء کے تحت عام اور بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ خواتین ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ 10فیصد کم ہونے پر دوبارہ الیکشن کرانے کا بھی قانون لاگو ہوگا۔قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد حلقہ بندیوں کی تشکیل کا عمل شروع ہوگیا ہے اور قبائلی علاقوں کو صوبائی اسمبلی کیلئے 16حلقوں تقسیم کیا گیاہے حلقہ پی کے 100 سے پی کے 115 کیلئے ووٹوں کے اندراج کا سلسلہ(بقیہ نمبر21صفحہ12پر )

جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے قبائلی اضلاع میں ووٹوں کے اندراج کیلئے خصوصی مراکز بھی قائم کردیے گئے ہیں۔الیکش کمیشن آف پاکستان کی ایڈیشنل سیکرٹری نگہت صدیق نے ایک انٹرویومیں کہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں الیکشن ایکٹ 2018 کے تحت ہی عام اور بلدیات انتخابات کرائے جائیں گے وہ تمام قوانین لاگو ہوں گے جس کے تحت 2015 کے الیکشن کرائے گئے ہیں۔ قوانین کے حوالے کوئی رعایت نہیں دی جارہی، خواتین کا ٹرن آٹ کے حوالے سے قانون بھی لاگو ہوگا جس حلقے میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آٹ دس فیصد سے کم ہوگا وہاں نتائج کلعدم قرار دے کر دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے۔نگہت صدیق کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹوں کے اندارج کیلئے خصوصی مہم چلائی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماں، قبائلی عمائدین اور خواتین سے بھی ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔

قبائلی علاقوں میں الیکشن

مزید : ملتان صفحہ آخر