لیبیا میں لڑنے والی جنگجو تنظیم کے ترکی اور ایران سے مراسم کا انکشاف

لیبیا میں لڑنے والی جنگجو تنظیم کے ترکی اور ایران سے مراسم کا انکشاف

ریاض(این این آئی)ایبٹ آباد میں القاعدہ کے بانی سربراہ اساہ بن لادن کے مبینہ ٹھکانے سے ملنے والی دستاویزات میں ایک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ لیبیا میں لڑنے والی ایک جنگجو تنظیم کے مراکز ترکی میں بھی موجود ہیں اور اسے ترکی کی حکومت کی جانب سے تحفظ فراہم کیاجاتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق بن لادن دستاویزات میں بتایا گیا کہ لیبیا میں لڑنے والے جنگجو کمانڈر عبدالحکیم بلحا المعروف ابو عبداللہ الصادق کی تنظیم کے ٹھکانے ترکی میں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے سنہ 1990ء کے عشرے کے دوران ایرانی رجیم اور قذافی حکومت اور مصر کے ساتھ جاری کشیدگی سے فایدہ اٹھا کر ایران سے مدد لینے تہران(بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

سے رابطہ رکھنے کے جواز کا فتویٰ دیا تھا۔دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ تہران میں موجود القاعدہ کے ایک کمانڈر کی طرف سے یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ لیبیا میں لڑنے والی تنظیم ایرانی رجیم کے ساتھ تعلقات کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس تنظیم کے سربراہ کا تعارف عبدالحکیم بلحاج المعروف ابو عبداللہ الصادق کے نام سے کیا جاتا ہے۔ یہ تنظیم ایرانی رجیم اور قذافی حکومت کے درمیان کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر ایران کے قریب ہونا چاہتی تھی۔تاہم تنظیم کے بعض رہ نماؤں جن میں ابو المنذر ابو یحییٰ خاص طورپر شامل تھے نے ایران کے ساتھ تعلقات کے قیام کی کوششوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ ایران کے ساتھ صرف ناگزیر حالات میں تعلقات کے قیام کی تجویزپر غور کیا جاسکتا ہے۔ البتہ عبدالحکیم بلحاج دیگر ساتھیوں کی رائے سے اختلاف کیا۔لیبیا میں لڑنے والی تنظیم کے سابق رہ نما نعمان بن عثمان نے کہا کہ بن لادن دستاویزات میں لیبیا کے اس لڑاکا گروپ کے بارے میں جو کچھ کہا گیاہے وہ درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالحکیم بلحاج سمیت کئی دوسرے لیبی جنگجو گروپوں نے بحران سے نکلنے کے لیے ترکی کو ایک اڈے کے طورپر استعمال کیا۔ بحران سے نکلنے کے بعد وہ مشرقی ایشیا، چین، انڈونیشیا اور ملائیشیا کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر