پنجاب اسمبلی ، سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی مسترد ، جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ، اپوزیشن

پنجاب اسمبلی ، سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی مسترد ، جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ، ...

لاہور (نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی میں سانحہ ساہیوال پر بحث کے دوران اپوزیشن نے واقعہ کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔اپوزیشن ارکان نے کہا کہ دفتر خارجہ پاکستان میں داعش کی موجودگی کی نفی کر رہا ہے جبکہ حکومت پنجاب کہہ رہی ہے کہ ذیشان داعش کیلئے کام کررہا تھا، سانحہ ساہیوال پر بحث کے دوران پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی آبدیدہ ہو گئے،وزیر قانون(بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

نے سٹینڈنگ کمیٹیوں کا باضابطہ اعلان کردیا، حکومت کو 21اپوزیشن کو 19کمیٹیوں کی چیئر مین شپ ملے گی ،میر چاکر خان رند یونویرسٹی آف ٹیکنالوجی ڈیر غازی خان کا بل پیش کر دیا گیا ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس اڑھائی گھنٹے تاخیر سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے زیر صدارت شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ صنعت و تجارت،محنت و وسائل اور ماحول سے متعلق صو بائی وزیر میاں اسلم اقبال،عنصر مجید اور چوہدری ظہیر الدین کی جانب سے جوابات دیے گئے۔امن و امان پر بحث کے دوران لیگی رکن سمیع اللہ خان نے کہا سکیورٹی اداروں نے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد بھی کیے ہیں لیکن ایک آپریشن 19جنوری کو بھی کیا گیا جس کا نام بقول وزیر قانون ’’آپریشن سو فیصد درست‘‘ ہے،اس ایوان میں ہمت اور جرات بھی ہونی چاہیے کہ جس ایجنسی نے غلط اطلاع دی ہے اور جس سے بے گناہ جانیں گئی ،اس ایجنسی کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ نے پاکستان میں داعش کی موجودگی کی تردید کردی مگر پنجاب حکومت ذیشان کا تعلق داعش سے جوڑنے میں کوشاں ہے۔سابق سپیکر رانا اقبال نے کہا سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کیلئے جو ڈیشل کمیشن بنایا جائے کیونکہ واقعہ کی تحقیقات جے آئی ٹی کے بس میں نہیں۔پی ٹی آئی کے رکن صمصام بخاری نے کہا پنجاب پولیس سٹیٹ پولیس بن چکا ہے،اس نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،انصاف کے معاملے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے سانحہ ساہیوال کی جے آئی ٹی رپورٹ پر سوالات اٹھا دئیے،پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی ایوان میں آبدیدہ ہوگئے، حسن مرتضی نے کہا حکومتی بریفنگ کوئی جیمز بانڈ سیریل کی کہانی لگ رہی تھی۔قبل ازیں وزیر قانون راجہ بشارت نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی ٹیکنالوجی آف ڈیرہ غازی خان کا بل ایوان میں پیش کیا اور قوانین کی معطلی کی تحریک پیش کرکے سٹینڈنگ کمیٹیوں کے قیام کی بھی تحریک پیش کردی،جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔تحریک کے مطابق حکومت نے چار قائمہ کمیٹیوں میں مزید اضافہ کردیا،نئی کمیٹیوں میں سپیشل ہیلتھ ،سکول ایجوکیشن،انرجی اورپبلک پراسیکیوشن کی سٹینڈنگ کمیٹی شامل ہیں ،چار کمیٹیوں کے اضافے کے اب کمیٹیوں کی تعداد 41ہو گئی ہے۔اسمبلی کا ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : ملتان صفحہ آخر