توہین عدالت کی 6مختلف درخواستوں پر4افسروں کو نوٹس جاری

توہین عدالت کی 6مختلف درخواستوں پر4افسروں کو نوٹس جاری

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)؂لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی 6مختلف درخواستوں پر ایم ڈی بیت المال پنجاب ،چیف سیکرٹری، محکمہ سوئی گیس کے سربراہ ، سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب ، چیف انجینئر لیسکواور چیئرمین ریلوے کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لئے ہیں، پہلے کیس میں درخواست گزار وں کی جانب سے مرزا مصطفی زیب ایڈووکیٹ نے موقف اختیا رکیا کہ عدالت نے 2015 ء میں مزدوروں کو جہیز فنڈ دینے کا حکم دیا تھا،بیب المال انتظامیہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہی ،دوسرے کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر کو نوٹس جاری کئے ہیں،ان کے خلاف لاہور کی مختلف یونین کونسلوں کے اکاؤنٹس کلرکوں نے درخواست دائر کی ہے،تیسرے کیس میں عدالت عالیہ نے توہین عدالت کی درخواست پر محکمہ سوئی گیس اوروفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیاہے ،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ وہ گزشتہ 30سالوں سے محکمہ میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں،عدالتی حکم اور سرکاری پالیسی کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا جارہا۔چوتھے کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب حسن اقبال کو نوٹس جاری کئے ہیں ،ان کے خلاف ہیڈ کلرک سید محمد باقر نقوی نے درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیاہے کہ انہیں ریگولر کرنے سے متعلق عدالت کے دسمبر2018ء کے حکم کی تعمیل نہیں کی جارہی۔پانچویں کیس میں چیف انجینئر لیسکولطیف مغل کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں،ان کے خلاف تحسین الحق نے درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیاہے کہ ان کے گھر کے ساتھ سے بجلی کی تاریں گزرتی ہیں ، عدالتی حکم کے باجودان تاروں کو نہیں ہٹایا جارہا،چھٹے کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین ریلوے سکندر سلطان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیاہے،ان کے خلاف غلام مرتضیٰ حیدر نے درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیاہے کہ وہ محکمہ ریلوے میں بطور لا ء افسر کام کررہے ہیں، عدالتی حکم کے باوجود انہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل کے عہدہ پر ترقی نہیں دی جا رہی۔

مزید : صفحہ آخر