حکومت لابیوں کے ہاتھ میں آیا کھلونا ہے

حکومت لابیوں کے ہاتھ میں آیا کھلونا ہے
حکومت لابیوں کے ہاتھ میں آیا کھلونا ہے

  


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے قیام کے فوراً بعد پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے انرجی کی لاگت کم کرنے کی ٹھانی اور گیس کی قیمت ساڑھے چھے ڈالر فی مکعب فٹ کردی تھی ۔ پنجاب میں قائم ٹیکسٹائل ملوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اس خیال پر کہ حکومت نے چونکہ سبسڈائزڈ گیس کی فراہمی کا اعلان کردیا ہے ، ارب ہا روپے کی گیس پھوک ڈالی ۔ سوئی نادرن گیس کمپنی نے جب ٹیکسٹائل ملوں کو گیس کے یوٹیلیٹی بل بھیجے تو وہ امدادی قیمت کی بجائے پوری قیمت کے بل تھے ، یعنی ساڑھے چھے ڈالر فی مکعب فٹ کا ڈبل تھے۔

ملوں والے بھاگم بھاگ سوئی گیس کے دفتر پہنچے اور یاد دلایا کہ حکومت انہیں امدادی قیمت پر گیس کی فراہمی کا اعلان کرچکی ہے جس کے جواب میں سوئی گیس محکمے نے انہیں بتایا کہ اگر امدادی قیمت پر انہیں گیس فراہم کی گئی تو پورے سال میں 42ارب روپے کا خسارہ کمپی کو برداشت کرنا پڑے گا اس لئے اگر ٹیکسٹائل انڈسٹری سستے نرخوں پر گیس کی فراہمی چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ حکومت سے 42ارب روپے کا نوٹیفیکیش کروائے ،تاکہ محکمے کو علم ہو کہ یہ 42ارب روپیہ اسے حکومت قومی خزانے سے ادا کرے گی۔

حکومت نے فوری طور پر کوئی نوٹیفیکیشن نہ جاری کیا تو ٹیکسٹائل انڈسٹری اعلیٰ عدالتوں سے سٹے آرڈر لے آئی اور پھر لگ بھگ دو ماہ کی لیت و لعل کے بعد حکومت نے صرف 25ارب روپے کی امدادی رقم کا نوٹیفیکشن جاری کیا اور یوں ان بلوں کی ایڈجسٹمنٹ کی گئی۔

حکومت کا خیال ہے کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو فروغ دے کر قرضوں کی ادائیگی کے لئے جن ڈالروں کی ضرورت ہے ، وہ حاصل کئے جا سکتے ہیں مگر ان ڈالروں کے حصول کے جس طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیمپرنگ کی جارہی ہے اس طرح تو کوئی بچہ بھی ایکسپورٹ کرلے گا۔ اس سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ اتنی خطیر رقم خزانے سے ادا کرکے بعد محض ایکسپورٹ میں محض ایک فیصد سے کچھ زائد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ جو امدادی رقم اسے گیس کی قیمت کی مد میں ادا کی گئی ہے اس خسارے کو عوام پر ٹیکسوں سے یا پھر سٹیٹ بینک کے ذریعے پیسہ چھاپ کر پورا کیا جائے گا۔

ابھی حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی لابی سے جان نہ چھڑواسکی تھی کہ اب آٹو مینوفیکچررز نے اپنی مرضی کا پیکج لے لیا ہے اور 23جنوری کو پیش کیا جانے والا فنانس بل نہ صرف آٹو مینوفیکچررز، بلکہ دیگر کئی قسم کی لابیوں کے ہاتھوں حکومت کی یرغمالی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ اس صورت حال کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ

معیشت خود بگڑتی ہے سنبھلتی ہے بدلتی ہے

حکومت لابیوں کے ہاتھ میں آیا کھلونا ہے

مسئلہ یہ ہے کہ بزنس مین لابیوں کے ناز نخرے اٹھانے کے لئے حکومت نے عوام کی جیبوں میں پڑے پیسے پر جو ڈاکہ ڈالا ہے اس کے بعد بھی لگتا ہے کہ ملکی معیشت کا ’مس کیرج‘ ہو کر رہے گا ۔

ملکی معیشت کے طفیلی صنعتی شعبے ملکی خزانے پر بوجھ ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک تاثر کو بنانے کی تگ و دو کے باوجود بھی عوام کا حکومت پر اعتماد اس حد تک بحال نہیں ہوگا کہ وہ بزنس ایکٹویٹی کی طرف مائل ہو سکے ۔ اس کی تازہ مثال سٹاک ایکسچینج کی ہے کہ نئی مراعات کے اعلان کے اگلے روز سٹاک مارکیٹ میں محض 500پوائنٹس کا اضافہ دیکھا جا سکا۔

حکومت کا حال اس بیوہ جیسا ہوچکا ہے جو سسرال سے شوہر کی جائیداد کے حصول میں اپنی جمع پونچی بھی ہمدردوں کو لٹا بیٹھتی ہے اور اس امید پر پیسہ پانی کی طرح بہاتی ہے کہ ایک دن وہ کروڑوں کی جائیداد کی مالک بن جائے گی۔ ایسے ہی حکومت بھی سب کچھ لٹا کر خوش پھر رہی ہے اور عوام کا حال یہ ہے کہ

نہیں محفوظ ہے اب جاب کوئی

معیشت بھی مصیبت ہو گئی ہے

کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ اس ملک کو جو حاکم ہے وہ صاحب ہے یا خانم ہے ، چھے مہینے گزر چکے اور حکومت تیسرا بجٹ پیش کرکے بھی ابھی تک معیشت کی سمت کا تعین نہیں کرسکی ہے اور اصلاحاتی پیکج کے نام پر پورا نظام تلپٹ کرنے کے درپے ہے۔

ادھر حال یہ ہے کہ ذرا سی بارش ہوتی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب شروع ہو جاتا ہے ، وہ تو شکر ہے کہ آسمانی بجلی کچھ دیر کے لئے سہی مگر گھر تو منور کردیتی ہے وگرنہ لگتا ہے کہ اندھیرے ایک مرتبہ پھر اس قوم کا مقدر بننے والے ہیں۔

مزید : رائے /کالم