سی ای اوپی آئی اے کی تقرری کیلئے شفاف طریقہ کار اپنایا جائے ، سپریم کورٹ

سی ای اوپی آئی اے کی تقرری کیلئے شفاف طریقہ کار اپنایا جائے ، سپریم کورٹ

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ نے قومی ایئر لائن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای ا و )کے عہدے پر تقرری کیلئے آزادانہ شفاف اور غیر جانبدار طریقہ کار کو اپنانا چاہیے۔پی آئی اے کے سابق سی ای او مشرف رسول سیاں کی تقر ری سے متعلق کیس میں تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کمپنی کے سی ای او کی تعیناتی کیلئے منصوبہ بندی، تقرری کا عمل اور اس عہدے کیلئے موزوں امیدوار کا مناسب میعار پر انتخاب بی او ڈی کی ذمہ داری ہے۔ 3 ستمبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلے میں تقر ر ی کیلئے اپنائے جانیوالے طریقہ کار اور قوانین و ضوابط کی خلاف ہونے پر پی آئی اے کے سربراہ مشرف رسول سیاں کی کالعدم قرار دیا تھا ۔ عد الت نے اپنے حکم میں وفاقی حکومت کو بھی سی ای او پی آئی اے کی تعیناتی کیلئے سختی سے معیار اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے مشرف رسول سیاں کی تعیناتی کا معاملہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی عدالت میں ایک درخواست پر زیر سماعت آیا تھا جس میں پی آئی اے حکام پر اقرباپروری اورپسندیدگی کو ترجیح دینے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔درخواست میں کہا گیا تھا پی ٓائی اے کے اعلی افسران قانونی اختیار نہ ہونے کے باوجود عہدے سنبھالے ہوئے ہیں اور قومی اثاثوں کو کوڑیوں کے دام فروخت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔تفصیلی فیصلے میں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ایئرلائن کے بورڈ کی ہی ذمہ داری ہے بورڈ کی کارروائی اور کمپنی کے انتظامی عہد وں پر فائز سینئر اور جونیئر افسران کیلئے کوڈ آف کنڈکٹ تشکیل دے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا بورڈ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے، نشاندہی اور نگرانی کے دوران خطرات اور اشیا کی خریداری کیساتھ ساتھ خدمات کے حوالے سے پالیسی ترتیب دے۔علاوہ ازیں تفصیلی فیصلے میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ سلیکشن بورڈ نے مشرف رسول سیاں کی قابلیت کا جائزہ لیتے ہوئے قوانین و ضوبط پر عمل کیا۔اس کیساتھ سابق سی ای او کا نہ ہی کوئی انٹرویو لیا گیا جبکہ اس سلسلے میں عدالت عظمی کی جانب سے پہلے کی دی گئیں ہدایات کو بھی نظر نداز کردیا گیا۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر