محکموں کے مابین باہمی رابطے کے فقدان کو ختم کیا جائے،عبدالعلیم

محکموں کے مابین باہمی رابطے کے فقدان کو ختم کیا جائے،عبدالعلیم

  



لاہور ( جنرل رپورٹر )سینئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے ہدایت کی ہے کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی روائتی انداز اختیار کرنے کی بجائے احسن انداز میں بہتر بنائی جائے ، بالخصوص مختلف محکموں کے مابین باہمی رابطے کے فقدان کو ختم کیا جائے تاکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے ،سینئر وزیر نے90شاہرائے قائد اعظم پر بلدیات ، ایل ڈی اے ، واسا، ضلعی انتظامیہ ،پولیس ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر شہری اداروں کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایات دیں کہ اربوں روپے کے ایسے زیر التوامنصوبے جن پر بھاری رقوم خرچ ہو چکی ہیں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر ایسی پالیسی طے کی جائے جس سے ان منصوبوں کو جلد از جلد عوام کے لئے فنکشنل بنایا جا سکے،انہوں نے کہا کہ شہری سہولتوں کی فراہمی کیلئے ذمہ داریوں کا بھی واضح تعین ہونا چاہیے اور کہیں بھی اوورلیپنگ نہیں ہونی چاہیے ،سینئر وزیر نے درپیش مسائل کے حل کیلئے مختلف محکموں پر مشتمل ورکنگ گروپس کے قیام کی منظوری دی جو کم سے کم وقت میں حل طلب امور پر حکمت عملی طے کرے گا ، سینئر وزیر پنجاب نے ہدایت کی کہ پنجاب کے 22شہروں کے ماسٹر پلان اور دیگر شہری امور کیلئے عالمی معیار کے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جائیں ،انہوں نے ایل ڈی اے ، ٹیپا ، واسا اور دیگر شہری اداروں کیلئے اہم ٹاسک کی منظوری دی ،انہوں نے کہاکہ تمام محکمے رواں مالی سال کیلئے واضح ایجنڈہ سامنے رکھیں اور ناکارہ یونٹس کو بند کیا جائے ،سینئر وزیر نے یہ ہدایت بھی کی کہ ماضی میں لاہور ائیر پورٹ سمیت مختلف تعمیراتی منصوبوں میں سامنے آنے والی خرابیوں کا واضح تعین کیا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ان کا اعادہ نہ ہو ، عبدالعلیم خان نے لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کو دریرپا بنیادو ں پر حل کرنے کا بھی کہا ،انہوں نے کہا کہ ہمیں میٹرو اور اورنج لائن ٹرین کے مستقبل کے مسائل کا ابھی سے اندازہ لگانا ہوگا ،سینئر وزیر نے محکمہ بلدیات کو صوبے کے تمام شہروں میں خرچ نہ ہونے والے سرکاری فنڈز کے استعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ،اجلاس میں طے پایا کہ فروری کے مہینے میں تمام محکمے اپنی سفارشات تیار کر لیں گے جس کے بعد عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا ۔

عبدالعلیم خان

مزید : صفحہ آخر