اپوزیشن لیڈر ایوان میں نہیں آئے گا تو وزیر اعظم بھی نہیں آسکے گا : مسلم لیگ (ن)

اپوزیشن لیڈر ایوان میں نہیں آئے گا تو وزیر اعظم بھی نہیں آسکے گا : مسلم لیگ (ن)

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم کے مشیر نعیم الحق کی طرف سے شہبازشریف کے پروڈکشن آرڈر منسوخ کیے جانے کے اشارے پر سخت رد عمل کا اظہار کیاہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس ایوان میں حکومت کا رویہ سب کے سامنے ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے تین ٹویٹ کیے اور دھمکیاں دیں لہٰذا لیڈر آف اپوزیشن ایوان میں نہیں آئے گا تو لیڈر آف ہاؤس بھی نہیں آسکے گا۔انہوں نے کہا کہ آج حکومت والے خود پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو دھمکیاں دے رہے ہیں، یہ معاملہ ایوان میں اٹھانا چاہتے تھے لیکن سپیکر نے اجازت نہیں دی، ملک کا وزیراعظم پارلیمنٹ کو تنہا کررہاہے، ہم نے اپنی شکایت سپیکر چیمبر میں جاکر پیش کردی ہے۔اس موقع پر خواجہ آصف نے کہا کہ نعیم الحق جو الفاظ استعمال کررہے ہیں یہ وزیراعظم کی زبان ہے، پہلے بھی یہ جو کچھ کرتے رہے سب کو معلوم ہے اور یہ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہم بھی تیار ہیں، ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ کی توقیر ہو۔

مسلم لیگ(ن)

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر ) سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر اپیل اٹھارہ فروری کو سنی جائے گی ۔ عدالت عالیہ اسلام آباد نے عبوری حکم نامہ جاری کردیا ۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے عبوری حکم نامہ تحریر کیا ۔ حکم نامہ دو صفحات پر مشتمل ہے جس کے مطابق درخواست گزار نواز شریف سزا معطلی کے خواہشمند ہیں ۔نواز شریف کو ریفرنس نمبر 19 میں سزا دی گئی ہے نواز شریف کو احتساب عدالت نے سات سال کی سخت سزا سناتے ہوئے جیل بھجوانے کا حکم دیا نواز شریف کو 1.5 بلین یو ایس ڈالر جرمانے کابھی احتساب عدالت کا حکم ہے نواز شریف کے وکیل کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت نے غیر مناسب حکم نامہ جاری کیا ۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے شواہد کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا نواز شریف کے وکیل کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر کی نواز شریف ذمہ دار نہیں ہے ۔نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست اپیل کیساتھ سنی جائے گی ۔دوسری جانب سابق وزیراعظم کے وکلا کی جانب سے سزا معطلی کی درخواست کے ساتھ کچھ دستاویزات جمع کرانے کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے منظور کرلیا تھا۔نوازشریف کے وکلا کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈھائی ہزار صفحات پر مشتمل اضافی دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں۔دستاویزات میں گواہوں کے بیانات اور ٹرائل کورٹ میں جمع کرائے گئے شواہد کا ریکارڈ شامل ہے۔سابق وزیراعظم کے وکلا نے ریکارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں عدالت میں جمع کرائی ہیں۔

نوازشریف کی اپیل

مزید : صفحہ اول