ذیشان دہشتگرد تھا ابھی پنڈ وراباکس نہیں کھولنا چاہتے : آئی جی

ذیشان دہشتگرد تھا ابھی پنڈ وراباکس نہیں کھولنا چاہتے : آئی جی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو سانحہ ساہیوال پر آئی جی پنجاب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس فائرنگ کے نتیجے میں مارا جانے والا ذیشان دہشت گرد تھا ابھی پنڈورا باکس نہیں کھولنا چاہتے کہنے کیلئے ہمارے پاس بہت کچھ ہے، واقعہ کا علم ہوتے ہی سی ٹی ڈی افسران کو عہدوں سے فوری طور پر ہٹاتے ہوئے ایف آئی آر درج کی گئی، کمیٹی ارکان نے آئی جی پنجاب کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کیاجس پر کمیٹی ارکان اور آئی جی پولیس میں تلخ جملوں کا تبادلہ جھڑپ کی صورت اختیار کرگیا،کمیٹی چیئرمین نے آئی جی پنجاب سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ 30دن میں طلب کرلی،کمیٹی نے واقعہ میں مارے جانے والے خلیل احمد کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری پنجاب حکومت کے سپرد کرنے کی سفارش کر دی،سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان کے قانون میں پولیس مقابلوں کا کوئی ذکر نہیں، یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ سانحہ ساہیوال کہیں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش تو نہیں،اگر کسی نے یہ سازش کی ہے تو اس کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہیے۔جمعہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان، آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی سمیت کمیٹی ارکان و دیگر افسران نے شرکت کی۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کمیٹی کے آج کے ایجنڈے میں تمام نکات کو موخر کر دیا گیا ہے،آج صرف سانحہ ساہیوال پر بات کی جائے گی کیونکہ اس سے اہم کچھ نہیں ہے، کمیٹی نے 41اور 12الگ الگ سوالات بنا کر پہلے ہی پنجاب حکومت اور سیکرٹری داخلہ کو بھجوا رکھے ہیں، اجلاس میں سانحہ ساہیوال میں شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کی گئی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ جب گاڑی روک دی گئی تھی تو پھر گولیاں کیوں چلائی گئیں، محفوط بچ جانے والے بچے گاڑی کی سیٹوں کے نیچے چھپنے کے باعث زندہ رہے۔آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے سانحہ ساہیوال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث سی ٹی ڈی اے تمام افسران کو او ایس ڈی کر دیا گیا ہے، آپریشن میں ہمارا ٹارگٹ ذیشان تھا جو دہشت گردوں کا ساتھی تھا اور یہ اندازہ تھا کہ اس گاڑی میں سب دہشت گرد ہوں گے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ جب بچے گاڑی سے نکالے گئے تھے تو کیا اس وقت فائرنگ کرنا بنتا تھا؟ ہمیں تو اس جے آئی ٹی پر بھی اعتماد نہیں کیونکہ اس میں پولیس افسران شامل ہیں۔ کمیٹی ارکان کی طرف سے سوال پوچھنے پر آئی جی پنجاب غصے میں آ گئے جس پر ارکان اور آئی جی پنجاب میں تلخ کلامی بھی ہوئی، کمیٹی ارکان نے آئی جی پنجاب کی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ یہ مذاق نہیں انتہائی اہم ایشو ہے، آپ اسے مذاق سمجھ رہے ہیں؟جس پر سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ہم مذاق نہیں سمجھ رہے، آپ نے ہم پر مذاق کا الزام کیوں لگایا؟۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس کہنے تو بہت کچھ ہے لیکن ہم پنڈورا باکس نہیں کھولنا چاہتے، جہاں غلطی ہو گی وہاں تسلیم کریں گے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ خلیل کو 13گولیاں مارنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سیلف ڈیفنس نہیں تھا،سیلف ڈیفنس میں پولیس کیلئے کچھ ایس او پیز ہوتے ہیں جن کی پیروی کرنا ضروری ہے، پولیس مقابلوں میں ہتھکڑیوں میں بندھے قیدیوں کو بھی مار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کو سیلف ڈیفنس میں مارا گیا ہے، چادر و چاردیواری کا تقدس ضروری ہے تاہم اس کے باوجود پولیس گھروں میں گھس جاتی ہے، خلیل کے یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری حکومت پنجاب کی ہے۔

آئی جی پنجاب

لاہور(کرائم رپورٹر) ساہیوال واقعے کی تحقیقات سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو نا مکمل شواہد بھیجے گئے۔دنیا نیوز ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول مل گئے لیکن جس رائفل سے گولیاں چلیں، وہ نہیں بھیجی گئی۔ فرانزک ایجنسی کے کسی افسر نے جائے وقوعہ کا معائنہ تک نہیں کیا۔ گاڑی گزشتہ روز وصول کر لی جس کا معائنہ جاری ہے۔ فرانزک کرنے والوں کا کہنا ہے مکمل شواہد ہوتے تو رپورٹ بنانے میں مدد ملتی۔ادھر ساہیوال میں جے آئی ٹی کے ارکان نے دو عینی شاہدین کو بیان قلمبند کرانے کیلئے پولیس ریسٹ ہاؤس طلب کیا تھا، عینی شاہدین طیب اور مہابت خان نے اپنے بیان درج کرائے۔دوسری جانب سانحہ ساہیوال میں گرفتار پانچ ملزمان میں سب انسپکٹر صفدر حسین، اہلکار محمد رمضان، حسنین اکبر، احسن خان اور سیف اللہ شامل ہیں جو چار دن گزرنے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیے جا سکے ہیں۔ادھرسانحہ ساہیوال میں متاثرہ خلیل کے خاندان نے تحقیقات میں پیشرفت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ مقتول خلیل کے بھائی کا کہنا ہے کہ قاتل اہلکاروں کو مکمل تحفظ دیا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ خاندان سڑکوں پر دھکے کھا رہا ہے۔لاہور میں اپنے وکیل شہباز بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے کہا کہ صدرمملکت عارف علوی اور چیئرمین سینیٹ نے ان کے خاندان سے خصوصی ملاقات کیلئے اسلام آباد بلوایا لیکن وہاں پہنچ کر علم ہوا کہ صدرمملکت کراچی کے دورے پر ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کا خاندان اسلام آباد کی سڑکوں پر خوار ہو رہا ہے، حکومت واقعہ میں سنجیدگی دکھانے کے بجائے متاثرہ خاندان کا تماشا بنا رہی ہے۔متاثرہ خاندان کے وکیل شہباز بخاری نے کہا کہ اگر حکومت اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے دو روز میں اہم پیش رفت نہ کی گئی تو پیر کے روز وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

مزید : صفحہ اول