حکومت کا 50ممالک کو ’’ویزاآن آرائیول 175کو ای ویزا‘‘ کی سہولت دینے کا اعلان ، شہباز شریف کو جیل میں ہونا چاہئے : فواد چودھری

حکومت کا 50ممالک کو ’’ویزاآن آرائیول 175کو ای ویزا‘‘ کی سہولت دینے کا اعلان ، ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے 50 ممالک کو آن آرائیول ویزا جبکہ 175 ممالک کے شہریوں کو ای ویزا کی سہولت دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نئی ویزا پالیسی متعارف کرا رہے ہیں جس کے تحت 50 ممالک کے شہریوں کو ویزا آن ارائیول جبکہ 175 ممالک کو ای ویزا کی سہولت دی جارہی ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ برٹش اور امریکن پاسپورٹ رکھنے والے بھارتی باشندوں کو ویزا آن ارائیول کی سہولت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ طالبعلموں کو مختلف مدت کے ویزے دیے جائیں گے اسی طرح صحافیوں کو لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم ویزے جاری کریں گے۔وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ ، جن کے چہروں پر ماڈل ٹاؤن کا خون ہے آج وہ سانحہ ساہیوال پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، سب سے زیادہ ماورائے عدالت قتل شہباز شریف کے دور میں ہوئے ان کو بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کو وزیراعظم کا احترام کرنا ہو گا، جنرل ضیاء کی گود سے نکلے لوگ عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہہ رہے ہیں اور ان لوگوں نے معیشت تباہ کر دی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن نے ان کو موقع نہیں دیا،تحریک انصاف کے اندر اختلافات کے باوجود شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بنایا، شہباز شریف اور سعد رفیق پر نیب کی تحقیقات مذاق بن کر رہ گئی ہیں، جتنا پروٹوکول شہباز شریف کے پاس ہے اتنا وفاقی وزیر کے پاس بھی نہیں ، پارلیمنٹ کو چلانا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے، اپوزیشن تعاون نہیں کرتی تو ہم سے بھی امید نہ رکھے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر آج پاکستان سب سے اہم کردار ادا کررہا ہے، پوری دنیا افغانستان میں امن کیلئے عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہے، جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے، سعودی ولی عہد پاکستان آرہے ہیں جو پاکستان کی تاریخ بدل دے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ والوں کے دل آج کل کمزور ہیں، ان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالیں، وزیراعظم سندھ کا دورہ کریں گے، پاکستان کو خطرہ نہیں بلکہ سندھ کے زرداروں کو خطرہ ہے۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہم نے نوازشریف پر کوئی مقدمات نہیں بنائے ، پاناما کے بعد ان کے احتساب میں نیا موڑ آیا ، آصف زرداری اور مراد علی شاہ ڈوب رہے ہیں تو انہیں دنیا ڈوبتی لگ رہی ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے ہمارے رہنماؤں کو این آر او دیا جائے ، اپوزیشن کے ساتھ کشیدگی پہلے دن سے ہی ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے اتنی گندی زبان استعمال نہیں جتنی (ن) لیگ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے سپیکر اسمبلی خود فیصلہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ اسد عمر اور پرویز خٹک نے مجھے کہا کہ آپ اسمبلی میں نہ بولنا کیونکہ اپوزیشن کا ماحول خراب ہوجاتا ہے جبکہ میرے نہ بولنے کے باوجود بھی اپوزیشن نے اپنا رویہ برقرار رکھا ، سپیکر اسد قیصر خود بھی اپوزیشن کے روپے سے دل برداشتہ ہیں کیونکہ اپوزیشن رہنماؤں کی کمرے میں زبان کچھ اور کمرے سے باہر کچھ اور ہوتی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نعیم الحق جذباتی آدمی ہیں ان کے دل میں جو آیا وہ انہوں نے کہہ دیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو چلانے کے دو ہی طریقے ہیں یا تو ان کو این آر او دے دیں یا اس کشمکش کو جاری رکھیں جبکہ پاکستان کے مفاد میں یہ سب مقدمات چلانا ضروری ہے۔

فواد چودھری

مزید : صفحہ اول