ماں و بچہ کی صحت کے مسائل حل کرنے کیلئے معالجین کی مہارت ناگزیر ہے،پروفیسر راشد

ماں و بچہ کی صحت کے مسائل حل کرنے کیلئے معالجین کی مہارت ناگزیر ہے،پروفیسر ...

  



لاہور ( جنرل رپورٹر )ماں و بچہ کی صحت کے مسائل حل کرنے اور دوران زچگی پیش آنے والی پیچیدگیوں سے موثر حکمت عملی کے ساتھ نمٹنے اور حاملہ خواتین و نومولود بچوں کی شرح اموات پر کنٹرول کیلئے شعبہ گائنی سے وابستہ معالجین کی پیشہ وارانہ تربیت اور مہارت ناگزیر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے معروف گائناکالوجسٹ اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی متعارف کروانے والے پروفیسر راشد لطیف نے لاہور جنرل ہسپتال میں پوسٹ گریجویٹ سٹوڈنٹس کیلئے شروع ہونے والے 10روزہ لانگ کلینکل کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں زچہ و بچہ کی شرح اموات کی بڑی وجہ غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے وضع حمل کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عوامی شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ جب خواتین حاملہ ہوں تو ابتداء سے ہی ان کا معائنہ کسی ماہر امراض نسواں سے کروانا چاہئے تاکہ وہ پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اس موقع پر پروفیسر محمد طیب ، پروفیسر سردار الفرید ظفر، پروفیسر عالیہ بشیر ، ایم ایس ڈاکٹر محمود صلاح الدین سمیت مختلف شعبوں کے پروفیسرز اور نوجوان ڈاکٹرز موجودتھے۔ پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب نے کہا کہ آج بھی ہزاروں خواتین اپنے نسوانی امراض اور دوران حمل معاملات کیلئے روایتی دائیوں سے رجوع کرتی ہیں جس کے باعث اکثر زچگی کے عمل پیچیدگیوں کا شکار ہو کر ماں و بچہ دونوں کی زندگیوں کو خطرہ سے دو چار کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا شمار ماں اور بچے کی شرح اموات کے لحاظ سے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جو قابل افسوس ہے۔ پرنسپل پروفیسر محمد طیب نے کہا کہ ہمیں جلد اس صورتحال کو بدلنا ہو گا اور شعبہ صحت سے وابستہ معالجین کو نہ صرف اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مہارت کو بہتر بنانا ہو گا بلکہ کمیونٹی میں شعور اجاگر کرنے کی ذمہ داری بھی پوری کرنا ہوگی تاکہ خواتین اپنے پیچیدہ مسائل کے سلسلہ میں عطائیوں اور غیر تربیت یافتہ دائیوں کے پاس جانے کی بجائے مستند معالج سے اپنا طبی معائنہ و علاج کروائیں۔ پروفیسر محمد طیب نے کہاکہ10روزہ کلینکل لانگ کورس میں پورے ملک سے شریک ہو نے والے گائناکالوجسٹ کو سینئر اساتذہ کے تجربات و علم سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع میسر آئے گا اور اس کورس میں شرکت کرنے والے ڈاکٹرز اپنے علاقے میں جا کر مریضوں کی بہتر خدمت سر انجام دے سکیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4