ایم اے او کالج:اکھاڑے سے آڈیٹوریم تک

ایم اے او کالج:اکھاڑے سے آڈیٹوریم تک
ایم اے او کالج:اکھاڑے سے آڈیٹوریم تک

  



پچھلے وقتوں کی بات ہے جب نام ور قانون دان اعجاز بٹالوی نے ایک نوجوان کو ایم اے او کالج میں پڑھانے والے پروفیسر عطاء الحق قاسمی کے پاس ایک رقعہ دے کر بھیجا تھا جس میں لکھا تھا: ’’یہ نوجوان انٹر میں داخلے کا آرزو مند ہے اور سمجھتا ہے کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمہیں ایم اے او کالج ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔ اس قسمت کے مارے نوجوان نے اتنا بھاری بھرکم سفارشی رقعہ لکھوا کر پتھر سے مکھی مارنے کی کوشش کی تھی، لیکن آج منظر بدل چکا ہے۔ آج ایم اے او کالج پر اتنا ’’بُرا وقت‘‘آن پڑا ہے کہ یہاں داخلہ صرف اور صرف میرٹ پر ہوتا ہے۔ کسی اعجاز بٹالوی کا رقعہ کام نہیں آتا۔

آج نامور نقاد، محقق اور ادبیاتِ اردو کے استادِ مکرم ڈاکٹر عبادت بریلوی کے فرزندِ ارجمند ڈاکٹر فرحان عبادت ’’شاندار روایات‘‘ کے حامل اس کالج کے سربراہ ہیں اور ’’شاندار روایات‘‘ پر لگے ہوئے کومے ہٹانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ وہ 2011ء میں بھی اس کے پرنسپل رہے، لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنتے ہی خواجہ سعد رفیق کی وساطت سے ریلوے کو پیارے ہو گئے تھے۔ خواجہ سعد رفیق نیب کو پیارے ہوئے تو ڈاکٹر فرحان عبادت ایک بار پھر اپنے ادارے میں واپس آ گئے اور اب ملازمت سے سبکدوشی کے آخری دن تک یہیں رہنے کے آرزو مند ہیں۔ طیور کی زبانی خبر آئی ہے کہ پورے ملک کی طرح ایم اے او کالج میں بھی تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے۔

مجھے یقین تب آیا جب میں اپنے دوست اور گورنمنٹ دیال سنگھ کالج کے پرنسپل پروفیسر نعیم اکبر یٰسین صاحب کے ساتھ ساتھ ایم اے او کالج کے نہایت آراستہ و پیراستہ آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں پہنچا جس کا انتظام و انصرام شعبۂ ابلاغیات کے سربراہ اور ممتاز کالم نگار عابد تہامی نے کر رکھا تھا۔ انہوں نے میڈیا کی موجودہ صورتِ حال اور معاشرتی استحکام میں اس کے کردار پر روشنی ڈالنے کے لیے چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کے علاوہ نامور صحافیوں اور تجزیہ نگاروں مجیب الرحمن شامی، عارف نظامی، عبدالرؤف اور مجاہد منصوری کو مدعو کر رکھا تھا۔ یہ جان کر میری طرح ،تمام مہمان حیران ہوئے کہ ایم اے او کالج کے شعبۂ ابلاغیات میں اس وقت تین سو طلبہ و طالبات پڑھ رہے ہیں۔

عارف نظامی صاحب کے تجزیے میں خبر بھی ہوتی ہے۔ یہاں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے اخبارات کو پریس ایڈوائس، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے آیا کرتی تھی۔ اب آئی ایس پی آر کی طرف سے آتی ہے اور وہ ایڈوائس دینے کا حق رکھتے ہیں، کیونکہ ڈی ایچ اے کے اشتہارات آئی ایس پی آر ہی کی طرف سے جاری ہوتے ہیں۔ نظامی صاحب کو گِلہ تھا کہ میڈیا نے ایڈیٹر کا ادارہ ختم کر دیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری نے دنیا کو عالمی گاؤں تسلیم کرتے ہوئے اپنی بات کا آغاز کیا اور کہا کہ آج دنیا کا ہر آدمی، دوسری قوم کے لوگوں کو جانتا اور پہچانتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک گاؤں میں رہنے والے تمام لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج میڈیا اور پریس کو آزادی ضرور حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی سزا کا حربہ بھی موجود ہے۔ پروفیسر عبدالرؤف نے انکشاف کیا کہ دُنیا کی بہترین پانچ سو یونیورسٹیوں میں ایک بھی مسلمانوں کی یونیورسٹی نہیں۔ تحقیقی اداروں میں بھی ہمارے آدمی دکھائی نہیں دیتے۔ میڈیکل سائنس کی کتابیں ہمارے ہاں نہیں چھپ رہیں۔بھارت سے آنے والی کتابیں ہم پڑھا رہے ہیں۔آپ کس معاشرتی استحکام کی بات کرتے ہیں۔ فلسفہ اور فنون لطیفہ پڑھیے۔اپنے آپ کو مضبوط کیجیے۔ ٹیکنیک کیا ہے؟ یہ تو آپ تین ماہ میں سیکھ سکتے ہیں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سب ٹیکنیک سیکھنے اور سکھانے کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ عبدالرؤف صاحب کا کہنا تھا کہ میڈیا کی تباہی میں ایک خاص کردار ان لوگوں کا ہے جو اسے اپنی گرفت میں رکھ کر خاص قسم کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مجیب الرحمن شامی صاحب نے گفتگو کا آغاز ہلکے پھلکے انداز میں کیا اور اختتام نہایت فکر انگیز نقطے پر کیا۔کہنے لگے: ’’مَیں ایک مدت تک ایم اے او کالج کا ہمسایہ رہا ہوں۔اس کے سا تھ والی گلی میں میرا دفتر ہُوا کرتا تھا اور آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمسائیگی بہت مشکل تھی۔ اس زمانے میں یہ کالج ایک بڑا اکھاڑا لگتا تھا۔ اب اس کا یہ آراستہ و پیراستہ آڈیٹوریم دیکھ کر جی خوش ہُوا ہے اور ڈاکٹر فرحان عبادت کو داد دینے کو جی چاہتا ہے‘‘۔ اس محفل میں شامی صاحب نے کمال کا نکتہ اٹھایا۔ کہنے لگے:’’جس طرح دستور کے مطابق مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ پر ریاست کے وسائل صرف ہوتے ہیں اسی طرح میڈیا کے لیے بھی ریاستی وسائل وقف ہونے چاہئیں۔آج سرکار نے میڈیا کے لیے وقف حصہ کم کر دیا ہے جس سے میڈیا کساد بازاری کا شکار ہو گیا ہے‘‘۔

اب مَیں عرض کرتا ہوں کہ اگر ریاست میڈیا اور صحافت کو اپنا چوتھا ستون سمجھتی ہے تو پھر اسے اس کا واجب حصہ ضرور ملنا چاہیے۔یہ صحافت ہی تو ہے جو مقننہ ،عدلیہ اور انتظامیہ کی کوتاہیوں،خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کرتی ہے اور حکومت کو گورننس بہتر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے،لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے سارے میڈیا کو شاید اپنی مخالف جماعت سمجھ لیا ہے اور اس پر تابڑ توڑ حملے کر کے اسے ناک آؤٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔بظاہر اس میں حکومت کامیاب نظر آتی ہے، لیکن یہ وقتی ہے۔ بالآخر حکومت کو گھنٹے ٹیکنا پڑیں گے۔ بے روزگار ہونے والے صحافی اور میڈیا ورکر سڑکوں پر نکلے ہیں تو حکومت نے نیوز پرنٹ پر عائد5فیصد ڈیوٹی ختم کر دی ہے، لیکن مسئلہ اس سے حل نہیں ہونے والا۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

یہ شاید کسی کالج یا یونیورسٹی کی پہلی تقریب تھی جس میں چیئرمین پیمرا بھی شریک ہوئے۔ ان دِنوں یہ عہدہ نہایت عمدہ ادبی و شعری ذوق رکھنے والی شخصیت محمد سلیم بیگ کے پاس ہے۔ جب انھوں نے مجھے یہ بتایا کہ وہ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں چھپنے والی میری شاعری بہت شوق سے پڑھتے ہیں تو میرا سیروں خون بڑھ گیا اور میر کا یہ شعر بھول گیا:

خشک سیروں، تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے

تب نظر آتی ہے اک مصرع�ۂ تر کی صورت

سلیم بیگ صاحب نے ایم اے او کالج کو ایف ایم ریڈیو کا لائسنس دینے کی پیش کش کی، جو ظاہر ہے کہ فوراً قبول کر لی گئی۔انھوں نے ابلاغیات کے طلبہ و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ مایوس نہ ہوں۔

ہم ٹی وی چینلز کے مزید76 لائسنس جاری کرنے والے ہیں، جس سے ملامتوں کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت نفرت، جھوٹ اور مغالطوں پر مبنی خبریں ہمارے لئے ایک چیلنج ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا نظام ہو جس سے ہر ٹی وی چینل اپنا احتساب خود کرے۔

کالج کے پرنسپل ڈاکٹر فرحان عبادت نے حرفِ تشکر کے بعد کہا کہ اکھاڑے سے آڈیٹوریم تک کا یہ سفر نہایت صبر آزما ثابت ہوا ہے۔ مَیں اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر حالات بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر میڈیا ہماری اِن کاوشوں میں ہماری مدد کرے تو ہمارا کام مزید آسان ہو سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم