غریب کا شتکاروں کا استحصال نہیں ہونے دینگے : اسد قیصر

غریب کا شتکاروں کا استحصال نہیں ہونے دینگے : اسد قیصر

  



صوابی(بیورورپورٹ)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے واضح کر دیا ہے کہ تمباکو کے کاشتکاروں ، چھوٹے کمپنیوں کے صنعت کاروں اور ڈیلروں کے حقوق کا تحفظ کرینگے۔ غریب کاشتکاروں کا استحصال نہیں ہونے دینگے ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے زیر صدارت تمباکو کے حوالے سے ایک منعقدہ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا جس میں ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد خان کے علاوہ وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم خان ، ایم این اے عثمان خان ترکئی، چیر مین پی ٹی بی سید سہیل احمد ، سیکرٹری زراعت عطاء اللہ خان، ممبر ایف بی آر احمد مشتاق مہر ، پی ٹی سی کے نمائندوں نور آفتاب ، محمد اسرار خان ، کاشتکار نمائندوں، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر میاں افتخار الدین باچا، آصف خان ، محمد علی ڈاگی وال ، لیاقت یوسفزئی، حاجی جان بہادر خان ، امیر الملک ، انور حقداداور دیگر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تمباکو کے کاشتکاروں ، چھوٹے کمپنیوں کے صنعتکاروں اور ڈیلروں کو در پیش مسائل کے حل کے لئے سینیٹرز ، ایم این ایز ، ٹوبیکو ڈیلروں ، ٹوبیکو کمپنیوں کے صنعت کاروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیدی جو اس حوالے سے ایک ماہ کے اندر اندر کام کو مکمل کرئے گی۔شرکاء اجلاس نے بتایا کہ تمباکو پر دس کی بجائے تین سو روپے فی ٹیکس لگانے سے ٹوبیکو کے چھوٹے کمپنیوں اور کاشتکاروں کو خسارہ جب کہ اس کا براہ راست فائدہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پہنچے گا اور مطالبہ کیا کہ تمباکو فصل کو صوبائی فصل قرار دے کر اس کا اختیار بھی صوبے کے حوالے کیا جائے ۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت صوابی سمیت دیگر اضلاع سے صرف تمباکو کی مد میں وفاق کو 130ارب روپے سالانہ مل رہا ہے اس فصل کو صوبے کو دینے سے یہ رقم صوبے کو ملنے سے یہاں ترقی کا دور شروع ہو جائیگا انہوں نے کہا کہ تمباکو کے سر پلس کا سبجیکٹ ختم کیا جائے اسی طرح سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی میں تین سو فی صد اضافہ ہونے سے چھوٹے کمپنیوں کے صنعت کار اور کاشتکاران دونوں مالی طور پر خسارے کا سامنا کر رہے ہیں اور اس کا براہ راست فائدہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پہنچ رہا ہے ۔ وفاقی حکومت نے گذشتہ ضمنی بجٹ میں سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی دس سے بڑھا کر تین سو روپے فی کلو کرنے کا جو اعلان کیا ہے یہ فیصلہ واپس لیا جائے انہوں نے کہا کہ اس قسم کے فیصلوں سے مقامی ایکسپورٹ کے راستے بند ہو گئے اور تمباکو کا ایکسپوٹ شدید متاثر ہو کر پچاس فیصد گر گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو خیبر پختونخوا کا واحد نقد آور فصل ہے۔ اس لئے کاشتکاروں کا استحصال نہیں ہونے دینگے#

مزید : پشاورصفحہ آخر