قبائلی علاقوں کے پرائیویٹ تعلیمی ادارے مشکل صورتحال سے دوچا ر ہیں ،ماہر حسین

قبائلی علاقوں کے پرائیویٹ تعلیمی ادارے مشکل صورتحال سے دوچا ر ہیں ،ماہر حسین

پاراچنار(نمائندہ پاکستان)خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان نے کہا ہے کہ قبائلی ضلعوں کے پرائیویٹ تعلیمی ادارے دہشت گردی سمیت مخصوص حالات کے باعث مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اس لئے ریگولیٹری اتھارٹی ان علاقوں کے سکولوں کو سخت قوانین سے مستثنیٰ قرار دے دیں ورنہ مجبورا عدالت سے رجوع کریں گے پاراچنار میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن ضلع کرم کے صدر ماہر حسین ، سیکرٹری جنرل سید میثم علی شاہ ، معزاللہ مقبل ، جلیل حسین اور لیاقت حسین پرائیویٹ سکولز سربراہان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی ضلعوں میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے انتہائی کم فیس لیکر مشن کے تحت علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں اور بد امنی اور دہشت گردی سمیت قبائلی ضلعوں کی مخصوص حالات اور حکومت کی عدم تعاون کی وجہ سے انتہائی مشکل صورت حال سے دوچارہیں اس لئے وہ ریگولیٹری اتھارٹی کے سخت شرائط اور بھاری فیسوں کے متحمل نہیں ہوسکتے اس لئے استثناء نہ ملنے کی صورت میں قبائلی ضلعوں کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے رہنماؤں کا کہنا تھا ریگولیٹری اتھارٹی کے الیکشن میں نہ قبائلی علاقوں نے حصہ لیا ہے اور نہ اس میں نمائیندگی دی گئی ہے صوبے میں ریگولیٹری ایکٹ کا نفاذ 2017 میں ہوا ہے جبکہ فاٹا کا کے پی کے میں انضمام ابھی پانچ سال سے دس سال کیلئے زیر تکمیل ہے اس لئے فوری طور پر ریگولیٹری اتھارٹی کا نفاذ نہ کیا جائے اور صوبائی بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص رقم میں قبائلی علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں کی مدد کی جائے کیونکہ سرکاری

مزید : پشاورصفحہ آخر