قانون کی حکمرانی کیلئے ہر شہری کو قانون کا احترام کرنا ہوگا ،قاضی جمیل

قانون کی حکمرانی کیلئے ہر شہری کو قانون کا احترام کرنا ہوگا ،قاضی جمیل

پشاور( سٹی رپورٹر)پاکستان میں قانون کی مکمل حکمرانی قائم کرنے کیلئے ہر شہری کو قانون کا احترام کرنا ہوگا، قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اورکوئی بھی اس سے بالاتر نہیں ،ان خیالات کا اظہار سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے اسلامیہ کالج پشاور میں سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام اولسی تڑون کے نام سے دو روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جس میں پشاورکے چھ یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات نے شرکت کی۔سی سی پی او قاضی جمیل نے کہا کہ آئین سے دوری اور قانون کی کمزورحکمرانی معاشرتی بگاڑ کاسبب بنتی ہے جس طرح سوات میں شدت پسندی نے جنم لیا اور سیکورٹی فورسز اور پولیس نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے وہاں شدت پسندی کا خاتمہ کیا ،انہوں نے نوجوانوں پر زوردیا کہ وہ قانون کا احترام کریں ، مختلف زبان بولنے والے لوگوں کے درمیان باہمی اعتماد اوراتفاق ملکی ترقی اور ایک متحد معاشرے کے لئے ناگزیر ہے۔جس کے لئے سی آر ایس ایس کوشاں ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایس پی کینٹ وسیم ریاض نے کہا کہ خود احتسابی یقینی بنانے اورقانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے گزشتہ چار سال کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کے سات ہزار نو سو افسران و اہلکاروں کو سزائیں دی گئی۔ جس میں تنزلی سے لیکر برطرفی تک کی سزائیں شامل ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے قانون کا یکساں نفاذ ناگزیر ہے، وسیم ریاض نے کہا کہ احتساب کا عمل بلا امتیاز ہونا چاہیے ورنہ قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ انھوں نے پختونخوا میں تنازعات کے حل کیلئے (مصالحتی کمیٹیوں )کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چار سال کے دوران ان کمیٹیوں نے تئیس ہزار تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کیا جس سے نظام انصاف سمیت لاکھوں عوام کو فائدہ پہنچا۔ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر توقیر عالم نے کہا کہ اس قسم کے ورکشاپ کا انعقادواحد طریقہ ہے کہ نوجوانوں کو معاشرے میں امن برداشت اور محبت پھیلانے اور مستقبل کے چیلینجز کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا جائے۔فاٹا سیکرٹریٹ کے یاسر حیات نے کہا کہ حقیقی جمہوریت کا مطلب ہے عوامی ضروریات اور خواہشات کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرنا۔ مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اکثریت اقلیت کے حقوق کے خلاف کام کر ے گی یا ان کے مسائل کو نظر انداز کیا جائے گا۔ پراجیکٹ منیجر شمس مومند نے سماجی ہم آہنگی میں میڈیا کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی معاشرے میں میڈیا کی مثال انسانی زبان کی طرح ہے جس سے اسکی پہچان ہوتی ہے انھوں نے کہا کہ پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کواپنی جگہ اہمیت حاصل ہے سماجی ہم آہنگی کے لئے اس کا مثبت استعمال معاشرے میں امن ترقی و خوشحالی کا سبب بن سکتا ہے۔ سی آر ایس ایس کے پروگرام منیجر مصطفی ملک اور ماہرتعلیم اور ماسٹر ٹرینر شگفتہ گل نے بچوں پر زور دیا کہ وہ خود کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم کی طاقت سے لیس کریں۔ پروگرام کے آخر میں حصہ لینے وا

مزید : پشاورصفحہ آخر