وزیر بلدیات کی یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشلائزیشن پر فوری پابندی لگانے کی ہدایت

وزیر بلدیات کی یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشلائزیشن پر فوری پابندی لگانے کی ہدایت

  



پشاور( سٹاف رپورٹر)یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں لینڈ کمرشلائزیشن پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔ جب قوانین موجود نہیں تو زمین اور املاک کے کمرشل استعمال کی اجازت کیسے دی گئی۔ صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کا اظہار برہمی۔ پشاور کے یونیورسٹی ٹاؤن میں لینڈ کمرشلائزیشن کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی نے کی جبکہ سیکرٹری بلدیات ظاہر شاہ، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ خضر حیات، ناظم ٹاؤن تھری، اسسٹنٹ کمشنر ٹاؤن تھری، ٹی ایم او، لیگل ایڈوائزر، پی ڈی اے اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشلائزیشن کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء کو یونیورسٹی ٹاؤن میں کی گئی کمرشلائزیشن اور اس کی روک تھام اور اس کے قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی ٹاؤن 245 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے جبکہ اس میں کل 1300 گھر ہیں جن میں سے 430 کا کمرشل استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس پر صوبائی وزیر نے حکام سے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت گھروں کے کمرشل استعمال کی اجازت دی گئی؟ شہرام خان ترکئی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوانین موجود نہ ہونے کے باوجود اجازت دینا یا خاموشی اختیار کر لینا قابلِ گرفت ہے۔ ایسے افسران کے عہدے پر رہنے کی کوئی ضرورت نہیں انہیں گھر بھیجا جائے گا۔ انہوں نے فوری طور پر یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشلائزیشن پر پابند عائد کرنے کی ہدایت کی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کی تشہیر اور انتظامیہ کو آگاہ کیے بغیر زمین یا گھر کا کمرشل استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی۔شہرام خان ترکئی نے کہا کہ سب سے قانون کے مطابق نمٹا جائے۔ پورے ٹاؤن میں جگہ جگہ کمرشلائزیشن سے رہائشیوں کی پرائیویسی متاثر ہو رہی ہے اور ان کا سکون تباہ ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات نے حکام کو تجویز دی کہ قانون سازی اور رولز میں ترامیم کے ذریعے یونیورسٹی ٹاؤن کی کوئی ایک سڑک یا سیکٹر کو کمرشل ڈکلیئر کیا جائے۔ اجلاس میں ٹاؤن تھری پی ڈی اے سے واپس لینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر