رہائشی عمارتوں کو توڑ نے کا کہا گیا تو وزرات چھوڑ دوں گا، سعید غنی

رہائشی عمارتوں کو توڑ نے کا کہا گیا تو وزرات چھوڑ دوں گا، سعید غنی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر )سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہاہے کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے پابند ہیں، کراچی کے شہری علاقوں میں لوگ رہتے ہیں ان کو توڑنا ممکن نہیں ہے، اگر بطور وزیر بلدیات مجھے کہا جائے کہ رہائشی عمارتوں کو توڑ دیں تو میں وزرات چھوڑ دوں گا، عام لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے، ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے انسانی المیہ پیدا ہو سکے۔جمعہ کوسندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہاکہ رمضان گھانچی پر فائرنگ کا واقعہ افسوسناک ہے ہماری ہمدردی ان کے ساتھ ہے، اس واقعہ کے بعد جو تاثر دیا گیا وہ غلط ہے تاہم قانون کے مطابق ملزمان کو سزا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ 19 برس میں پانی کے کنکشن کی اجازت کسی کو نہیں دی، پانی کے کنکشن پر جھگڑا ہوا ہے، علی سومرو ابھی مفرور ہے، جس کا جو اختیار ہے وہ استعمال کرے تاہم ایم پی اے کو اختیار نہیں کہ پانی کے کنکشن دے۔انہوں نے کہاکہ اتنے وسائل دستیاب نہیں ہیں کہ لوگوں کے لئے متبادل رہائش کا انتظام کریں، کراچی شہر کو بہتر کرنے کے لیے لونگ ٹرم وقت چاہیے، مجھ سے اگر رائے لی جائے گی تو میں لوگوں کا گھر نہیں توڑ سکتا وزرات چھوڑ سکتا۔انہوں نے کہاکہ 500کی تعداد ایسے ہی کہی گئی ہے، تعداد اس سے زیادہ ہوگی، کراچی میں رہائشی علاقوں کو توڑنا ہمارے لیے ممکن نہیں، قانونی زمین کو کمرشلائز کیاگیا انہیں توڑا گیا تو عہدے سے استعفیٰ دیدوں گا۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں پارک کی الاٹمنٹ کوکہاگیا وہ صحیح ہیں، 11-2001 ماسٹرپلان کامحکمہ سٹی گورنمنٹ کے پاس رہا، ہزاروں عمارتیں بغیر کسی اجازت کے تعمیر کی گئیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر