میر پو ر ناتھیلو میں تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات ، 3افراد قتل

میر پو ر ناتھیلو میں تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات ، 3افراد قتل

  



میرپور ماتھیلو (نامہ نگار ) میرپور ماتھیلو میں تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات ،3افراد کو قتل کر دیا گیا ۔قتل کے بعد لاشیں گنے کی فصل سے برآمد ،تینوں افراد کو سر میں گولیاں ماری گئیں ، مقتولین کی لاشوں کے ساتھ گھر کا پتہ اور غدار کے لفظ کی پرچیاں آویزاں۔قتل ہونے والے تینوں افراد کا تعلق پا ک پتن ،کرم ایجنسی اور حافظہ آباد سے ہے ۔صبح نو بجے فائرنگ کی آوازسنی گئی اہل علاقہ پہنچے تو تین لاشیں خون میں لت پت پڑی دکھائی دیں ۔لاشیں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی گئی پولیس نے لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیں۔کچھ لوگوں کو فائرنگ کے بعد مذکورہ مقام سے گاڑیوں میں جاتے دیکھا گیا،اہل علاقہ ۔دھند کے باعث گاڑیاں کس سمت جارہی ہیں اندازہ نہیں ہو سکا ،اہل علاقہ ۔پولیس تحقیقات کر رہی ہے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ،ایس ایس پی گھوٹکی ۔تفصیلات کے مطابق میرپور ماتھیلو کے نواحی علاقے صوفی رحمت اللہ میں تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ۔صبح نو بجے کے قریب مذکورہ علاقے میں فائرنگ کی آواز سنی گئی جس پر اہل علاقہ فائرنگ کی آواز کا تعین کرتے ہوئے گنے کی فصل کے قریب پہنچے تو تین افراد خون میں لت پت پڑے دکھائی دیئے جن کے سروں میں گولیاں لگی ہوئی تھیں اور تینوں لاشوں کے ساتھ پرچیاں موجود تھیں جن پر مقتولین کے گھر کا پتہ اور لفظ غدارعبارت کیا گیا تھا ۔واقعہ کے بعد اہل علاقہ کی جانب سے میرپور ماتھیلو پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر نعشیں اپنی تحویل میں لیکر کاغذی کاروائی کے لیے لاشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا ۔پولیس کے مطابق قتل ہونے والے مقتولین کی شناخت ابو بکر تعلق حافظہ آباد ، یاسر علی تعلق پاکپتن جبکہ عبدالمالک تعلق کرم ایجنسی سے بتایا جا ریا ہے ۔اہل علاقہ کے مطابق واقعہ صبح نو بجے پیش آیا اور جائے وقوعہ سے کچھ گاڑیوں کو لنک روڈ سے قومی شاہراہ کی سمت جاتے دیکھا گیا تاہم شدید دھند کے باعث گاڑیوں کی سمت کا تعین نہیں ہو سکا ۔مذکورہ واقعہ پر ایس ایس پی گھوٹکی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ واقعہ سے متعلق جب تک ٹھوس شواہد سامنے نہیں آتے واقعہ سے متعلق قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ قتل ہونے والے تینوں افراد حلیہ سے پختون ظاہر ہو رہے ہیں ، ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی کے مطابق مقتولین کے ورثا کو اطلاع کر دی گئی ہے ورثا کے پہنچنے کے بعد ورثا سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں تحقیق کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا اور اس بات کی بھی تصدیق ہو سکے گی کہ مقتولین گھوٹکی کے علاقے میں کیوں اور کیسے پہنچے ۔دوسری جانب آخری اطلاعات موصول ہونے تک مقتولین کا پوسٹ مارٹم ورثا کی عدم موجودگی کے باعث نہ ہو سکا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر