پاکستان کے پہلے صدر کی اہلیہ ناہیدسکندر مرزا انتقال کر گئیں

پاکستان کے پہلے صدر کی اہلیہ ناہیدسکندر مرزا انتقال کر گئیں

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر )پاکستان پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کی صدر اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپورو دیگرکے خلاف اقامہ رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمدعلی مظہرنے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پرکیوں بات نہیں کرسکتے؟۔جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں پیپلزپارٹی کی رہنما فریال تالپوراور دیگر کے خلاف اقامہ رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت میں سماعت کے دوران جعلی اکاؤنٹس سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیے گئے۔ایڈووکیٹ خواجہ شمس اسلام نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں سب ثابت ہوچکا ہے، رپورٹ میں عباس زرداری اورسموں کے بھی نام شامل ہیں، فریال تالپورنے ان دونوں کے نام پراربوں روپے دبئی منتقل کیے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نوڈیروکے بینک کے ذریعے اربوں روپے منتقل ہوئے، فریال تالپورنے سہیل انورسیال کے ساتھ ہزاروں دورے کیے، ان کے دوروں کی تصویریں اور شواہد موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ فریال تالپورنے غیرقانونی ٹرانزیکشن سے پیسے باہربھیجے، اقامے کا شماراثاثوں میں ہوتا ہے، فریال تالپورنے اقامہ ظاہرنہیں کیا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کویہاں زیربحث نہ لایا جائے، جودستاویزمنسلک ہیں صرف ان پر بات کی جائے۔جسٹس محمدعلی مظہر نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پرکیوں بات نہیں کرسکتے؟ ہم قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ فریال تالپورنے دبئی میں بیٹی کے نام پرکمپنی بنائی، فریال تالپور نے کمپنی اثاثوں میں ظاہرنہیں کی۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ان کا کچا چٹھا کھول کررکھ دیا ہے، جے آئی ٹی میں فاروق ایچ نائیک کا بھی نام ہے۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ صرف فریال تالپورکے حوالے سے بات کروں گا، غریبوں کی زمین فریال تالپورنے اپنے نام منتقل کی، زرداری گروپ کے نام پربلاول ہاؤس کے قریب زمین خریدی گئی۔انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ فریال تالپوراورسہیل انورسیال کونا اہل کرکے سزا دی جائے۔بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم فروری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پربھی درخواست گزارکے وکیل دلائل جاری رکھیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر