معیشت کی بحالی کے متعلق بلند عزائم

معیشت کی بحالی کے متعلق بلند عزائم

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کر دیا۔ اصلاحات پیکیج میں ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، صرف1800 سی سی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے (جو اندرون مُلک تیار ہونے والی ایسی ہی گاڑیوں پر بھی لاگو ہو گا)۔ رواں مالی سال کا ریونیو شارٹ فال پورا کر لیں گے، بیرونی معاشی مدد میں غیر معمولی کامیابی ملی، دوست ممالک نے پہلے کبھی ایسی سپورٹ نہیں کی، جس طرح اب کی ہے۔ 2018-19ء کے بیرونی فنانس گیپ کا انتظام ہو گیا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے تو بہتر شرائط پر جائیں گے، کسی کے آگے گھنٹے نہیں ٹیکیں گے،ڈکٹیشن نہیں لیں گے، پاکستان غیرت مند اور آزاد مُلک ہے دو تین دن صبر کر لیں چین سے بھی امداد آ جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ21کروڑ افراد کی معیشت میں بہتری کے لئے وقت درکار ہے اور معیشت کی بنیادوں کو ٹھیک کئے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ پائیدار استحکام سے عام آدمی کا معیار بلند ہو گا،حکومت کے پانچ سال پورے ہونے پر معیشت میں پائیدار استحکام نظر آئے گا اور اسی پارلیمینٹ کی مدت میں وہ تبدیلی نظر آئے گی، جوآج تک ہو نہ ہو سکی، انہوں نے اِن خیالات کا اظہار ’’منی پوسٹ بجٹ‘‘ پریس کانفرنس میں کیا۔

اس میں شک نہیں کہ دوست ممالک نے مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی مدد کی ہے، سعودی عرب نے تین ارب ڈالر فارن کرنسی اکاؤنٹس میں جمع کرائے ہیں اور اتنی ہی مالیت کا اُدھار تیل بھی دینے کا وعدہ کیا ہے،اِسی طرح متحدہ عرب امارات نے بھی تین ارب ڈالر دیئے ہیں،جس کی پہلی قسط سٹیٹ بینک میں جمع ہو چکی ہے، جس کے بعد سٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت14ارب 25کروڑ ڈالر بن جاتی ہے، جو کوئی غیر معمول رقم اِس لئے نہیں کہلا سکتی کہ جب مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اقتدار چھوڑا تھا (31مئی2018ء) تو زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت17ارب ڈالر سے زیادہ تھی،حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہمیں تباہ حال معیشت ملی تاہم اِس تباہ حالی کے باوجود اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر آج کے ذخائر سے تین ارب ڈالر زیادہ تھے، اِس لئے دو برادر ممالک کی ’’پہلی مرتبہ‘‘ امداد کے باوجود اگر زرمبادلہ کے ذخائر14ارب ڈالر سے کچھ ہی زیادہ ہیں تو یہ کوئی ایسی رقم تو نہ ہوئی ،جس پر حکومت خوشی سے پھولے نہ سمائے۔

اسد عمر سے اُن کی پریس کانفرنس میں ایک سوال ہوا تھا کہ وہ ’’مہنگے قرضے‘‘ لینے کی بجائے آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے سپورٹ پیکیج کیوں نہیں لیتے،جہاں سے ’’تقریباً صفر شرح‘‘ پر قرضہ مل جاتا ہے، اس سوال پر وہ ناراض ہو گئے اور کہا کہ ’’صفر شرح‘‘ پر کہیں سے قرضہ نہیں ملتا اور ایسا سوچنے والے گدھے ہیں، اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سوال کہاں سے آیا ہے۔ سوال تو جہاں سے بھی آیا تھا،لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ ہم نے دونوں دوست ممالک، یعنی سعودی عرب اور یو اے ای سے جو قرض لیا ہے اس پر3فیصد سے زیادہ سودا ادا کرنا ہے۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں حقیقت ہے اور یہ امر بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ آئی ایم ایف سے اگر کوئی پیکیج ’’گھٹنے ٹیکے بغیر بھی‘‘ لیا جائے تو بھی اس کی شرح سود ان دونوں قرضوں سے کم ہی ہو گی۔ بھلے سے ’’صفر‘‘ نہ ہو۔اسد عمر نے اسی پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ فنڈ مشن سے ویڈیو کانفرنس کریں گے اور اگر ضرورت ہوئی تو بہتر شرائط پر قرض لیں گے۔

جو منی بجٹ یا اصلاحاتی پیکیج اسد عمر نے قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے اس پر اگر وہ فخر کرنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کا حق ہے اور کوئی اُن سے یہ حق نہیں چھین سکتا، وہ کسی سوال کا جواب بھی خوش ہو کر دیں یا ناراض ہو کر،یا با لکل ہی نہ دیں، اُنہیں اس کا استحقاق بھی حاصل ہے،لیکن یہ حقیقت تو پھر بھی اپنی جگہ رہے گی اور یہ سوال بھی کیا جاتا رہے گا کہ اگر آپ نے بجٹ میں نئے وسائل پیدا نہیں کئے یا نئے ٹیکس نہیں لگائے تو صنعت کاروں اور تاجروں کے جو مطالبات مانے گئے ہیں اور انہیں جو سہولتیں دی گئی ہیں اُن کے لئے رقوم کہاں سے آئیں گی۔ ظاہر ہے صنعتکار اور تاجر تو ان مراعات پر خوش ہی ہوں گے،جو اُنہیں پیش کی گئی ہیں،لیکن اس طرح ریونیو میں جو کمی آئے گی اور جو شارٹ فال پہلے سے موجود ہے، اسد عمر کے دعوے کے مطابق وہ سب پورا کر لیا جائے گا اُن کے اس دعوے کا پتہ تو سال کے آخر میں چلے گا جب ریونیو کے ہدف کے حاصل ہونے یا نہ ہونے کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ البتہ یہ تو پہلے سے معلوم ہو چکا ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو3 فیصد سے معمولی زیادہ رہنے کا امکان ہے اور نہ صرف رواں مالی سال میں ایسا ہوتا نظر آتا ہے، بلکہ ماہرین کہتے ہیں کہ اگلے مالی سال میں بھی یہ شرح اسی حد میں رہے گی،جبکہ ایک کروڑ نوکریوں کا جو وعدہ کیا گیا ہے وہ اِسی صورت پورا ہو گا، جب شرح نمو سات اور آٹھ فیصد کے درمیان ہو گی۔ اگر یہ شرح نہیں بڑھتی تو نوکریاں کس سیکٹر میں اور کس طرح پیدا ہوں گی۔ اسد عمر کسی وقت اس پر بھی روشنی ڈال دیں تو اُن کی مہربانی ہو گی،کیونکہ اِس وقت تو بیروز گاری کا دور دورہ ہے،پہلے سے جو لوگ ملازمتوں پر موجود ہیں آجر انہیں بھی فارغ کر رہے ہیں اور بہت سے سیکٹروں میں ایسا ہو چکا ہے، جو ملازمین اپنی نوکریوں پر موجود ہیں،ان کی تنخواہوں اور مراعات میں کمی ہو گئی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری و ساری ہے۔ اگر اسد عمر یہ سلسلہ روک دیتے ہیں تو اُن کی اس کوشش کو سراہا جائے گا اور اُن کی قابلیت اور اہلیت کی تعریف کی جائے گی۔البتہ ان کے حقیقی بھائی زبیر عمر نے قومی اسمبلی میں اُن کی تقریر کے 90فیصد حصے کو ’’سیاسی تقریر‘‘ قرار دیا ہے، پتہ نہیں اس پر وہ اپنے بھائی سے ناراض ہوئے یا نہیں؟اس پرہم کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔

وہ معیشت کی جس بنیاد کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کی مضبوطی تو نئی سرمایہ کاری اور نئی صنعتیں لگے بغیر ممکن نہیں، حکومت کے پاس جو نوکریاں موجود ہیں اُن کی تعداد بھی تدریجاً کم ہو رہی ہے۔ ریلوے میں سُنا ہے کچھ آسامیاں نکلی ہیں، لیکن باخبر حلقوں کے خیال میں اِن آسامیوں پر تقرر بھی ’’مفت‘‘ نہیں ہو گا،ایسے میں نئی ملازمتوں کے لئے تو سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے اور اس کے لئے سازگار ماحول بھی درکار ہے۔اسد عمر نے سٹیل ملز کو بھی پاؤں پر کھڑا کرنے کا اعلان کیا ہے اس کے لئے اُن کے پاس جو منصوبہ ہے وہ تو سامنے نہیں آیا،لیکن اگر وہ اپنے اِس دعوے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر نہ صرف ملازمتوں کا تحفظ بھی ہو گا،بلکہ یہ ملز معیشت میں اپنا حصہ بھی ڈال سکے گی، جو اس نے اپنے قیام سے لے کر آج تک بہت ہی کم ڈالا۔ اسی لئے جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس ملز کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ اُن کے وزیراعظم شوکت عزیز نے اعلان کر دیا تھا کہ یہ اگر ایک روپے میں بھی بکتی ہے تو بیچ دینی چاہئے۔ اس ’’قیمت‘‘ پر خریدنے والا گاہک بھی وہ کہیں سے ڈھونڈ لائے تھے۔ موجودہ کابینہ میں بہت سے وزیروں کا تعلق ان کے دور کی کابینہ سے رہا ہے یہ سب ان کے علم میں ہوگا۔ تاہم اُن کے اس ارادے کی راہ میں سپریم کورٹ حائل ہو گئی اور اس کی پرائیوٹائزیشن رُک گئی،اس وقت سے اب تک اس ملز کو ’’امدادی پیکیج‘‘ ہی دیئے گئے ہیں، پاؤں پر کھڑا نہیں کیا گیا۔ اگر اسد عمر اسے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں تو اس کی تعریف ہی کی جائے گی۔ بشرطیکہ وہ ایسا کرکے بھی دکھا دیں۔

مزید : رائے /اداریہ