۔۔۔۔۔۔وچوں وچ کھائی جاؤ؟

۔۔۔۔۔۔وچوں وچ کھائی جاؤ؟
۔۔۔۔۔۔وچوں وچ کھائی جاؤ؟

  


وہ وقت یقیناًخوشی کا ہوتا ہے، جب کوئی پرانا رفیق یاد کر لے، صبح ہی صبح پرانے شہر (جائے پیدائش) والے دوست کا فون تھا، چہک کر بول رہا تھا کہ اس کی عادت ہے۔ مخاطب کرتے ہی مولوی سعید اظہر جیسی بے تکلفی پر اُتر آیا، بمشکل اُسے ڈھب پر لانا پڑا اور حال دریافت کیا۔ نذیر نے کہا سبھی شہر چھوڑ گئے۔ عادات تبدیل نہیں ہوئیں، اب بھی کوئی پرانا ملے تو جی مچل جاتا ہے۔ مزید کہنے لگا، مَیں کبھی کبھار تمہارے کالم وغیرہ(یہ وغیرہ جیسے الفاظ بول کلام میں شامل رہتے ہیں) پڑھ لیتا ہوں اور یاد آتے ہو، آج وٹس ایپ سے نمبر لے کر فون کر لیا ہے۔مَیں نے اس کا شکریہ ادا کیا، پھر بچھڑے دوستوں کی یاد آئی تو صابر جاوید کو یاد کرنے لگے، مَیں نے بتایا کہ صابر جاوید جیسا ایک دوست مولوی سعید اظہر کی صورت میں ملا ہوا ہے کبھی کبھار ملاقات ہو تو منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔بہرحال تھوڑی گفتگو کے بعد ہی وہ مطلب پر آ گیا اور پوچھا ’’یار! تم اتنے بڑے صحافی بنے پھرتے ہو، یہ تو بتاؤ، یہ سیاست دان حضرات قوم کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہے ہیں،مَیں نے پوچھا، بات بتاؤ، بات کیا ہے‘‘ تو بولا! یار یہ سب مل کر ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں، بات وہی ہے۔’’وچوں وچ کھائی جاؤ تے اُتوں رولا پائی جاؤ‘‘۔

یہ پنجابی محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دو فریق ایک دوسرے کے دشمن اور مخالف ہونے کا شور مچاتے ہیں،لیکن اندر سے ایک اور مفادات مشترک ہوتے ہیں۔ محترم نے اس کی مثال قومی اور صوبائی اسمبلیوں (خصوصاً پنجاب+ سندھ) کی بات کی اور کہا یہ سب نے دیکھا کہ اراکین ایک دوسرے پر حملہ آور، ایک دوسرے کو بددیانت اور بے ایمان کہتے ہیں،لیکن جب مراعات اور معاوضوں کی بات ہوتی ہے تو سب کا ووٹ حق میں جاتا ہے۔قومی اسمبلی میں بھی یہی ہوا پنجاب اسمبلی میں بھی مشاہروں میں اضافے کا بل متفقہ طور پر پیش کیا گیا۔قومی اسمبلی میں بات بن نہیں رہی تھی، پنجاب اسمبلی کا بھی یہی حال تھا،پھر قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سے لے کر پی اے سی اور دوسری تمام کمیٹیوں کا فیصلہ ہوا اور اب پنجاب اسمبلی میں بھی چالیس کمیٹیوں میں سے21 حزبِ اقتدار اور 19حزبِ اختلاف کو مل گئیں، پیپلزپارٹی کو دو کمیٹیوں کی سربراہی دے دی گی،جبکہ پی اے سی(1) کے چیئرمین قائد حزبِ اختلاف حمزہ شہباز ہوں گے۔ نذیر کا کہنا تھا کہ یہ سب عوام کو کیوں بے وقوف بناتے ہیں۔

اب مَیں اسے یہ سمجھانے سے قاصر تھا کہ بھائی یہ جمہوریت ہے اور جمہوری نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ اختلاف اور تنقید کے ساتھ ساتھ مفاہمت چلتی رہتی ہے،لیکن نذیر نہ مانا اور مَیں اسے راضی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بات ختم ہوئی تو مَیں بھی اس سوچ میں مبتلا ہوا کہ آخر یہ حضرات جو منتخب(جیسے بھی) ہو کر اسمبلیوں میں گئے ہیں، مان کیوں نہیں لیتے کہ یہاں آئین کے مطابق پارلیمانی جمہوریت ہے اور پارلیمانی نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جائز تنقید کی جائے اور درست بات مان لی جائے تاکہ نظام چلتا رہے اور عوام کو کوئی ریلیف ملے،لیکن بدقسمتی سے یہاں ایسا نہیں ہو رہا اور جو بھی مفاہمت ہوتی ہے، وہ مجبوری نظر آتی ہے۔

پارلیمانی نظام میں زیادہ ذمہ داری حزبِ اقتدار کی ہوتی ہے کہ اسے ذمہ داری سونپی گئی (حکمرانی کی) تو نبھانا بھی ہوتا ہے اور اس کے لئے ضرورت اچھے اور مفاہمانہ ماحول کی ہے۔ اس کے لئے ایوان میں ایسے حضرات کی موجودگی یا نشاندہی لازم ہوتی ہے، جو کسی بھی تنازعہ کی صورت میں درمیانی راہ نکالنے والے ہیں اور عام طور پر یہ ذمہ داری سپیکر چند اراکین کو ساتھ لے کر نبھاتے ہیں، قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر بھی تجربہ حاصل کر چکے اور پنجاب اسمبلی والے چودھری پرویز الٰہی تو زیادہ ہی تجربہ کار ہیں،اِس لئے کمیٹیوں وغیرہ کی تشکیل تو ان کی تگ و دو سے ہو گئی۔البتہ ایوان کا ماحول درست نہیں ہو رہا۔ حزبِ اقتدار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اتفاقاً (یا ضرورتاً) قومی اور پنجاب اسمبلی میں عددی پوزیشن میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے اور قانون سازی کے لئے ساز گار ماحول کی ضرورت ہے،ایسا نہیں کہ سندھ اسمبلی کی طرح حزبِ اقتدار مخالف فریق حزبِ اختلاف کی پوری مخالفت کے باوجود قانون سازی کرانے کی اہل ہے۔ بہرحال پارلیمانی جمہوریت کا تو حسن یہ ہے کہ تنقید کریں، نقائص سامنے لائیں اور پھر کام کو آگے بڑھائیں۔ حزبِ اقتدار بھی درست بات ماننے کا حوصلہ رکھے، اسی طرح ممکن ہے کہ ماحول بھی درست ہو، عوام بھی یہ نتیجہ اخذ نہ کریں جو میرے یار نذیر نے نکالا۔

جہاں تک میری اپنی کچھ معلومات اور اطلاعات کا تعلق ہے تو مقتدر قوتوں نے بھی یہ بات محسوس کر لی ہے کہ محاذ آرائی زیادہ ہی شدید ہو گئی ہے۔اس کے دوران غلط اور صحیح کا انتخاب بھی مشکل ہو گیا اور اب شاید ادھر سے سمجھانے کی کوشش ہو اور یہ اسمبلیاں بھی اپنی مدت پوری کر لیں اور2023ء میں قوم کو ایک مرتبہ پھر موقع ملے کہ وہ اپنی رضا بتا سکے۔ بشرطیکہ ماحول تب تک مفاہمانہ ہو اور الیکشن کمیشن قواعد، احتساب اور احتساب کمیشن تک کے معاملات بھی طے پا چکے ہوں۔مَیں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہاں کچھ بھی ناممکن نہیں۔یہ اراکین اور رہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ حکمرانی، پارلیمان، احتساب اور قوانین کو آئین کے مطابق الگ الگ رکھیں۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں اور عوام کے مسائل و مصائب ختم کریں۔ ورنہ تو یہی ہو گا لوگ کہیں گے،’’وچوں وچ کھائی جاؤ‘‘۔

مزید : رائے /کالم