سانحہ ساہیوال اور جے آئی ٹی کی گگلی

سانحہ ساہیوال اور جے آئی ٹی کی گگلی
سانحہ ساہیوال اور جے آئی ٹی کی گگلی

  



ایک طرف تحقیقات کا حکم دے کر دوسری طرف حکومتی وزراء نے اپنے غیر ضروری بیانات اور پریس کانفرنسز سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ سانحہ ساہیوال میں انسداد دہشت گردی پولیس کی فائرنگ کی زد میں آنے والی گاڑی دہشت گردوں کے استعمال میں تھی اور دہشت گرد اِس گاڑی میں بچوں کو بطور ڈھال استعمال کرکے سفر کر رہے تھے۔ انسداد دہشت گردی پولیس ان دہشت گردوں کے تعاقب میں تھی، پولیس کو دیکھ کر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی، جوابی فائرنگ میں دہشت گرد مارے گئے، مگر اس مڈبھیڑ میں کچھ قیمتی جانیں بھی ضائع ہو گئیں۔ جائے وقوع سے آنے والی ویڈیوز نے انسداد دہشت گردی پولیس اور حکومتی وزرا کے اس موقف کی نفی کردی، کیونکہ پولیس کا ہدف بننے والی گاڑی سے کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ڈی سی ساہیوال نے بھی کہا کوئی مزاحمت نہیں ہوئی،پولیس نے پوری کارروائی ضروری حفاظتی تدابیر کے بغیر کی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کو معلوم تھا کہ کار سواروں کے پاس کوئی اسلحہ نہیں اور نہ ہی کسی مزاحمت کی توقع ہے۔ سی ٹی ڈی نے مطلوبہ فرد کو گرفتار کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اندھا دھند فائرنگ کرکے مشتبہ فرد کے ساتھ سفر کرنے والے بے گناہ افراد اور یہاں تک کہ پانچ سالہ اریبہ کو بڑی بے دردی اور سنگدلی سے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

اس واقعہ نے انسداد دہشت گردی فورس کی اہلیت، تربیت، قابلیت، انداز فکر اور دہشت گردوں کو ہینڈل کرنے کی اپروچ اور طریقہ کار میں موجود سقم کو طشت از بام کر دیا ہے۔

اگر تمام ثبوت ذیشان کے دہشت گردوں سے تعلقات کی نشاندہی کرتے تھے۔ تو اسے گرفتار کر کے اس کی تفتیش کی جاتی اور حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف دہشت گردوں کے اس نیٹ ورک کا قلع قمع کرنے میں مددگار ثابت ہوتیں،بلکہ ذیشان اگر دہشت گرد تھا تو اس کو عدالت سے قرار واقعی سزا بھی دلوائی جا سکتی تھیں۔ سی ٹی ڈی کے اعلیٰ عہدیداروں نے اتنے بڑے واقعے کے بعد استعفا نہ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے نزدیک ایسے واقعات کوئی انہونی نہیں یا پھر عوام کی جان و مال اور جذبات سے زیادہ اہم اپنی ذات اور اپنا عہدہ ہے۔

جب سی ٹی ڈی اور حکومتی وزرا کے موقف کو پذیرائی انہیں ملی تو زبردست عوامی دباؤ سے نکلنے اور عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے جے آئی ٹی کی گگلی استعمال کی گئی ہے۔ جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ذیشان کا کردار مشکوک تھا (یاد رہے اس سلسلے میں اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا جا سکا) اس لئے پولیس ایکشن جائز تھا۔ دوسری طرف پولیس افسران کے تبادلے سے عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا اہتمام کر دیا گیا۔

سی ٹی ڈی کے سربراہ کو بطور سزا وفاق میں رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔ ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انہیں کسی اور ڈپارٹمنٹ میں پھر کسی اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز دیا جائے گا گویا کسی اور محکمے کی بربادی کا پروانہ خاموشی سے ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا.

جو افسران معطل ہوئے ہیں کچھ دنوں میں وہ بحال ہو جائیں گے۔ چند دن کی خاموشی کے بعد جعلی پولیس مقابلے پھر سے ہونے لگیں گے تاوقتیکہ کوئی اور اندوہناک واقعہ پیش ہو اور کہرام مچ جائے۔

حکومت عوامی دباؤ کے پیش نظر اگر اپنی پوری توجہ صرف ساہیوال کے واقعے پر مرکوز رکھتی ہے اور اس میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دیتی ہے تو یہ ایک جزوی اور وقتی کامیابی ہو گی۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پولیس کے کردار کا جائزہ لیا جائے، جو آج طاقتور لوگوں کی باندی,بھتہ خوروں، قبضہ مافیا، اغوا کاروں اور ڈرگ ڈیلر کی شریک جرم بن چکی ہے۔ عوام کے ساتھ ناروا سلوک، بدتمیزی، تضحیک اور تشدد روز کا معمول بن چکا ہے۔ بطور ادارہ اس کی اب حالت یہ ہے کہ اس کے اہلکار تنخواہ کام نہ کرنے کی لیتے ہیں اور کام کرنے کے لئے انہیں رشوت دینا پڑتی ہے۔جعلی پولیس مقابلے ترقی پانے، ذاتی انتقام اور بااثر لوگوں کے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اس کی غیر سیاسی اور پروفیشنل بنیادوں پر تشکیل نو کی جائے۔ پولیس بوسیدہ نظام، سیاسی مداخلت اور پولیس اہلکاروں کی ناقص تربیت اور نظم و نسق، نان پروفیشنل رویے، عادات اور طور طریقے اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ تشکیل نو آسان کام نہیں ہو گا، بلکہ یہ وقت طلب، مشکل اور صبرآزما مگر دیرپا حل ہوگا. ماضی قریب میں سیاسی مداخلت، پولیس افسران کے غیر ضروری تبادلے اور ناصر درّانی کا استعفا کچھ حوصلہ افزا اشارے نہیں۔ موجودہ حکومت اگر زبردست عوامی دباؤ اور سانحہ ساہیوال سے سبق سیکھتے ہوئے پولیس کی تشکیل نو کرنے کے بجائے اسے چند افسروں کے تبادلوں اور چند اہلکاروں کی سزا تک محدود رکھتی ہے، توحکومتی اقدامات ناکافی،عارضی اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم