ایم ایم اے اتحاد میں شامل کوئی جماعت الگ نہیں ہوئی ، پیراعجاز ہاشمی

ایم ایم اے اتحاد میں شامل کوئی جماعت الگ نہیں ہوئی ، پیراعجاز ہاشمی

لاہور( شہزاد ملک :تصاویر:ندیم احمد) ایم ایم اے کے نائب صدر اور جے یو پی کے مرکزی صدر پیر اعجاز ہاشمی نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کا اتحاد برقرار ہے اور اس اتحاد میں شامل کوئی بھی جماعت ایم ایم اے سے الگ نہیں ہوئی ہے اتحاد میں شامل کسی جماعت کو اگر کسی سے کوئی تحفظات ہیں تو ان کو جلد ہی ایم ایم اے کااجلاس بلا کر دور کردیا جائے گا ‘ حکومت اپنے انتخابی نعروں وعدوں پر عمل کرے اور اسمبلی کے اندر جاری تلخی کو دور کرنے کے لئے بھی حکومت اپنا کردار ادا کرے حکومت کا جارحانہ رویہ معاملات کو خراب کرتا ہے حکومت وقت کاکام اپوزیشن کی تنقید کو کھلے دل سے تسلیم کرکے انہیں ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے لیکن موجودہ حکومت اپوزیشن کی تنقید پر اپنی اصلاح کی بجائے الٹا اپوزیشن کی طرف ہی اپنی توپوں کا رخ کردیتی ہے جو مناسب بات نہیں ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے روز نامہ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے اور اب بھی ایم ایم اے اپنی مثبت سیاست کو آگے بڑھا رہی ہے اگر کسی کو کسی جماعت کے ساتھ کسی ایشو پر کوئی اختلاف رائے ہے تواس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اتحاد سے کوئی الگ ہو گیا ہے اتحاد اپنی جگہ پر قائم ہے البتہ کچھ ایشوز پر جماعتوں کا ایک دوسرے سے اختلاف رائے کرنا جمہوری حق ہے جلد ہی ایم ایم اے کااجلاس بلائیں گے اور اگر اس اتحاد میں شامل کسی جماعت کو کسی سے بھی اختلافات ہیں توان کو دور کر لیا جائے گا لیکن نائب صدر ہونے کے ناطے یہ بات کہنا چاہتا ہوں اتحاد قائم ہے اور رہے گا اور اگر کوئی بات ہے تو بطور نائب صدر اپنا کردار ادا کرکے سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں اپنا کردار ادا کروں گا ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ابھی تک عوام کو ڈلیور نہیں کر سکی ہے اس لئے ہم اسے کہتے ہیں کہ وہ عوام کو ڈلیور کرے اور صبر سے کام لیا کرے حکومتی وزراء کا جارحانہ رویہ اور اپوزیشن کو جواب در جواب والا طریقہ حالات کو خراب کرتا ہے اس وقت بھی حکومتی وزراء کی وجہ سے اسمبلی کا ماحول خراب ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزراء اپوزیشن کی تنقید کا مثبت جواب دیا کریں اور اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی روائت قائم کریں اسی مٰں پارلیمانی ماحول کی بہتری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور مہنگائی لا قانونیت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔انہوں نے حکومت کے منی بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام کوان کی توقع کے مطابق ریلیف نہیں دیا گیا اور وزیر خزانہ بجٹ تقریر کرنے کی بجائے سیاسی تقریر کرتے رہے وہ پہلے کہتے رہے کہ میرے پاس معاشی اصلاحات کا بڑا ایجنڈا ہے لیکن جب وہ وزیر خزانہ بنے تو اب تک انہوں نے کوئی ایک بھی کام ایسا نہیں کیا کہ جس سے عام آدمی کے حالات میں بہتری آتی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1