علامہ محمد اقبال کی سیاسی خدمات

علامہ محمد اقبال کی سیاسی خدمات
علامہ محمد اقبال کی سیاسی خدمات

  


تحریک پاکستان کے حوالے سے علامہ محمد اقبال کا یہ کارنامہ ناقابلِ فراموش ہے کہ انہوں نے مسلم انڈیا یعنی مسلمانوں کے لئے ہندوستان کو تقسیم کرکے ایک الگ ریاست کا تصور بڑے واضح الفاظ میں پیش کیا تھا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے نام اقبال کے خطوط پر مشتمل کتاب کا پیش لفظ لکھتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ’’مسلم ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں علامہ اقبال کے خیالات پورے طور سے میرے خیالات سے ہم آہنگ تھے اور بالآخر میں ہندوستان کے دستوری مسائل کے مطالعہ اور تجزیہ کے بعد انہی نتائج پر پہنچا اور کچھ عرصہ بعد یہی خیالات ہندوستان کے مسلمانوں کی اس متحدہ خواہش کی صورت میں جلوہ گر ہوئے، جس کا اظہار قرارداد لاہور کی صورت میں ہوا، جو عام طور پر قرارداد پاکستان کے نام سے موسوم ہے‘‘۔

علامہ محمد اقبال نے نہ صرف مسلمانوں کے لئے جداگانہ ریاست کا تصور پیس کیا، بلکہ مسلم ریاست کے قیام کے لئے برصغیر کے مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے یہ نشاندہی بھی کر دی کہ صرف محمد علی جناح اپنی دیانت، امانت اور قابلیت کے باعث مسلم ریاست کے حصول کے لئے موزوں ترین قائد ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک موقع پر علامہ اقبال نے ارشاد فرمایا کہ ’’مسٹر جناح کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی خوبی عطا کی ہے جو ہندوستان کے کسی اور مسلمان رہنما میں مجھے نظر نہیں آتی‘‘۔ سوال کیا گیا کہ وہ خوبی کیا ہے؟ علامہ اقبال کا جواب تھا۔ ’’جناح نہ تو بدعنوان ہے اور نہ ہی انہیں خریدا جا سکتا ہے‘‘۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک خط میں بھی قائداعظم کی دیانت اور قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’اس وقت مسلمانوں کے لئے یہی راہِ عمل کھلی ہے کہ وہ محمد علی جناح کی قیادت میں اپنی تنظیم کریں۔ مجھ کو ان کی دیانت پر کُلّی اعتماد ہے‘‘۔ علامہ اقبال نے قائداعظم کے نام اپنے 21جون 1937ء کے خط میں ان خیالات کا اظہار کیا تھا کہ ’’اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والا ہے۔ اس میں صرف آپ ہی کی ذات گرامی سے مسلمان قوم رہنمائی کی امید رکھتی ہے‘‘۔؂

علامہ اقبال مسلم لیگ کو قائداعظم کی قیادت میں ایک مقبول اور ہر دلعزیز سیاسی جماعت کی شکل میں دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے یہ تجویز پیش کی کہ مسلم لیگ کو اپنے منشور اور نصب العین میں عام مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے اور ان کی عمومی فلاح و بہبود کے لئے واضح پروگرام کا اعلان کرنا چاہیے۔ علامہ اقبال مسلم لیگ کو بالائی طبقوں کے بجائے مسلم جمہور کی جماعت بنانے کے علمبردار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسلم لیگ کا پروگرام عام مسلمانوں کی حالت سدھارنے کا ضامن نہیں ہوگا۔ اس وقت تک مسلم لیگ عوام کے لئے باعث کشش سیاسی جماعت نہیں بن سکتی۔ علامہ اقبال کی یہ رائے تھی کہ مسلم لیگ کا سیاسی مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ مسلمانوں کی غربت اور پسماندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کیا پروگرام دیتی ہے اور کیا کردار ادا کرتی ہے۔

علامہ اقبال نے قائداعظم کے نام اپنے خطوط میں مسلمان قوم کے سیاسی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی غربت و افلاس کے علاج کے لئے بھی اپنا نقطہ ء نظر پیش کیا۔28مئی 1937ء کو علامہ اقبال نے قائداعظم کے نام جو خط لکھا۔ اس میں انہوں نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ ریاست اور اس ریاست میں شریعتِ اسلامی کے نفاذ کی بات کی تھی۔ علامہ اقبال کا یہ موقف تھا کہ اگر شریعت اسلامی کو نافذ کر دیا جائے تو کم از کم ہر شخص کے لئے حقِ معاش محفوظ ہو جاتا ہے۔ اور شریعت اسلامی کا نفاذ ایک آزاد مسلم ریاست ہی میں ممکن ہے۔ علامہ اقبال کے سیاسی فلسفے کو اگر مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہو گا کہ مسلمانوں کی غربت اور معاشی بدحالی کا حل اسلامی شریعت کے نفاذ میں ہے اور اسلامی قانون کے نفاذ کے لئے برصغیر میں آزاد مسلم ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ معاشی عدل و انصاف کے حوالے سے علامہ اقبال کا نقطہ ء نظر یہ تھا کہ اسلام کے لئے معاشرتی جمہوریت کو کسی موزوں شکل میں اور شریعت کے مطابق قبول کرنا کوئی نئی بات یا انقلاب نہیں،بلکہ ایسا کرنا اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف لوٹنا ہو گا۔

آخر میں ایک بار پھر علامہ محمد اقبال کی سیاسی خدمات بلکہ قومی و ملّی خدمات پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ وہ علامہ اقبال ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے مسلمانوں کے جداگانہ ملّی تشخص کی بنیاد پر آزاد مسلم ریاست کا مطالبہ کیا اور پھر قوم کو ترغیب دی کہ عظمتِ کردار کے پیکر محمد علی جناحؒ کی قیادت میں متحد اور منظم ہو جاؤ۔ مسلمان قوم کی غربت اور پسماندگی کا حل بھی علامہ اقبال نے اپنے ان الفاظ میں بیان کر دیا کہ ’’اسلامی قانون کے طویل و عمیق مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر اس نظام قانون کو اچھی طرح سمجھ کر نافذ کر دیا جائے تو ہر شخص کے لئے کم از کم حقِ معاش محفوظ ہو جاتا ہے‘‘۔

(مجلس علم و عرفان کی ماہانہ تقریب میں پڑھا گیا)

مزید : رائے /کالم