اصلاحاتی پیکیج پانچ سال بعد نتائج دے گا

اصلاحاتی پیکیج پانچ سال بعد نتائج دے گا
اصلاحاتی پیکیج پانچ سال بعد نتائج دے گا

  


پاکستان زرمبادلہ کی شدید قلت کا شکار ہے، ہمارے پاس ڈالر ہماری ضروریات کے مطابق نہیں ہیں،عالمی قرضوں پر طے شدہ ادائیگی اور امپورٹ بل کی ادائیگی، ہمارے لئے مشکل ہو رہی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کے مطابق ہمیں دو ارب ڈالر ماہانہ کی ضرورت ہے، جبکہ خسارہ19 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک جا پہنچا ہے۔یہ سب کچھ انہیں پچھلی حکومت سے ورثے میں ملا ہے،انہوں نے بالکل درست کہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت (2008-2013ء) اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت (2013-2018ء) نے اپنے اپنے انداز میں قومی معیشت کو چلایا ہے ان کے طرزِ حکمرانی کے مثبت اور منفی نتائج کے حوالے سے دو آراء پائی جاتی ہیں۔ فریقین کے پاس اپنی اپنی رائے کے حق میں اور مخالف کی رائے کے خلاف دلائل موجود ہیں، جب پیپلزپارٹی کا دورِ حکمرانی ختم ہوا تو مسلم لیگ(ن) برسر اقتدار آئی، اُس نے ’’معاشی کمزوری اور پستی کا ذکر کیا۔ پھر جب2018ء میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو اس نے بھی معاشی بدحالی کا رونا رویا اور ہنوز یہ رونا دھونا جاری ہے۔انہوں نے 23جنوری کو دوسرا ترمیم کردہ فنانس بل پیش کیا۔ 2018-19ء کے مالی سال کے دوران یہ تیسرا فنانس بل ہے، جو پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان مشکلات کا شکار ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ نظام ریاست، نتائج نہیں دکھا رہا ہے،ریاست اور شہریوں کے مابین معاملات درست نہیں ہو رہے ہیں۔ یہ فریبِ نظر نہیں، ایک کھلی حقیقت ہے عام انسان ہی نہیں، خواص بھی گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔ معیشت، معاشرت، سیاست، صحافت، ہر شعبہ زندگی متاثر نظر آ رہا ہے، ہمارا زرعی و صنعتی شعبہ کام کر رہا ہے، چل رہا ہے، پیداوار دے رہا ہے،لیکن اس کے اثرات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ گندم، کپاس، چاول، مکئی، جوار، دالیں، سبزیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ جانور دودھ دے رہے ہیں،یہ سب کچھ شہریوں کو دستیاب نہیں ہے۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ جو پانی پی رہا ہے وہ صاف شفاف ہے، حتیٰ کہ منرل واٹر کمپنیوں کے فروخت کردہ پانی کے بارے میں بھی ہم کچھ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ہماری حالت اِس مسافر کی ہے جو سفر تو مسلسل کر رہا ہے، لیکن ’’رستہ نہیں کٹ رہا، منرل نہیں آ رہی‘‘۔

ہماری معیشت کی نبضیں ڈوب رہی ہیں، ہمارے موجودہ حکمران شاید اس کے اصلی ذمہ دار نہ ہوں،یعنی پیچیدہ معاشی خرابیاں، موجودہ حکمرانوں کی ذمہ داری نہیں ہیں،لیکن ان خرابیوں کو دور نہ کرنا اور اس کے باعث قومی معاشی حالت میں بڑھتا ہوا بگاڑ، موجودہ حکمرانوں کے ذمے ہے۔ اسد عمر نے23 جنوری2019ء جو ضمنی بجٹ پیش کیا ہے، اسے وہ بجٹ کی بجائے اصلاحاتی پیکیج کا نام دے رہے ہیں، کیونکہ اس میں کسی قسم کا نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے ’’وصولیوں کا حجم‘‘ بڑھنے کی توقع ہے۔

اصلاحاتی پیکیج میں ایس ایم ای کے منافع پر عائد39فیصد ٹیکس کو گھٹا کر20فیصد کر دیا گیا ہے، اس سے چھوٹے کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ زیادہ جوش کے ساتھ آگے بڑھنے کی طرف مائل ہوں گے،جبکہ زرعی قرضوں پر ٹیکس کی شرح کو بھی20فیصد کر دیا گیا ہے، جو پہلے 39فیصد تھا اس سے زرعی قرضوں کے حصول کی نئی دوڑ شروع ہو گی اور زرعی شعبہ پھیلاؤ کے عمل سے گزرے گا۔قومی پیداوار میں ہمارے زرعی شعبے کا کلیدی کردار ہے۔ ہماری صنعت، ہمارا صنعتی شعبہ بھی اپنی صلاحیت بروئے کار لانے کے لئے زرعی شعبہ کی کارکردگی پر انحصار کرتا ہے۔ زرعی شعبے کو ملنے والے ریلیف کے نتیجے میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس کی کارکردگی بہتر ہو گی،پیداوار میں اضافہ ہو گا، جس کے نتیجے میں نہ صرف کسان خوشحال ہو گا، بلکہ صنعتی شعبے کو خام مال کی فراہمی میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔

نیوز پرنٹ پر عائد5فیصد ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔ گرین پراجیکٹس کے لئے پلانٹ اور مشینری کی درآمد پر مکمل ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔سٹاک مارکیٹ کی بہتری کے لئے ٹیکس میں مکمل چھوٹ دے دی گئی ہے۔ سٹاک مارکیٹ ہماری قومی معیشت کے لئے انتہائی اہم ہے، میگا پراجیکٹس کے لئے درکار فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے سٹاک مارکیٹ مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔حصص کے لین دین کے ذریعے معاشی معاملات آگے بڑھتے نظر آتے ہیں،ٹیکس خاتمے سے توقع کی جا رہی ہے کہ حصص کا کاروبار سرعت رفتاری سے آگے بڑھے گا۔نان بینکنگ کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے،جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ نہ صرف ایسی کمپنیوں کے کاروبار میں وسعت پیدا ہو گی، بلکہ سرمایہ کار نئی کمپنیوں کے قیام کی طرف آئیں گے۔ اس طرح روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ود ہولڈنگ ٹیکس کے گوشوارے ہر ماہ جمع کرانے کی بجائے چھ ماہ بعد داخل کرائے جا سکیں گے، کاشتکاروں کے ڈیزل انجن کی خریداری پر سیلز ٹیکس میں کمی کر دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 150 اشیاء کی درآمدی ڈیوٹی میں کمی کر دی گئی ہے۔

سب سے اہم بات فائلر کے لئے بینکنگ لین دین پر عائد0.3فیصد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ نان فائلر بدستور یہ ٹیکس دیتے رہیں گے،اس کے علاوہ نان فائلر کو جائیداد اور گاڑی خریدنے کی اجازت دے دی گئی ہے،لیکن ان کے لئے ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔اس اقدام سے دوطرفہ فائدہ حاصل ہو گا ایک تو لوگوں میں فائلر بننے کی رغبت پیدا ہو گی، دوم نان فائلر سے زیادہ وصولیاں کی جائیں گی اور خزانے میں زیادہ رقم آئے گی۔

1800سی سی سے زیادہ امپورٹڈ گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی25فیصد تک بڑھا دی گئی ہے اس سے بڑی گاڑیوں کی درآمد کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنے کی کاوش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 1455 قسم کے خام مال پر امپورٹ ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے۔

فنانس بل کی جزوی تفصیلات یہاں درج کرنے کی گنجائش نہیں ہے،لیکن اِس بل کے مطالعے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت ڈالر خرچ کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے ۔درآمدات کو مشکل بنا کر، اندرونِ ملک صنعت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور قومی خزانے کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی۔

فنانس بل2019ء بہت سی اچھی تجاویز لئے ہوئے ہے،جو اسمبلی کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔اس کے نفاذ کے بعد معیشت کی بہت سی جہتوں پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا ری ہے۔ وزیر خزانہ نے بل پیش کئے جانے کے اگلے روز پریس کانفرنس میں ایسی بہت سی نیک اور مثبت توقعات کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے دو ارب ڈالر کے ماہانہ اور 19ارب ڈالر کے منتقل کردہ خسارے کے ساتھ معیشت کو مثبت سمت میں ڈال دیا ہے۔2023ء تک اس کے اثرات ظاہر ہونے لگیں گے،یعنی جب ان کی حکومت پانچ سال کی مدت پوری کرے گی تو اس وقت معیشت بہتر ہو چکی ہو گی۔گویا قوم کو معاشی استحکام اور بہتری دیکھنے کے لئے ابھی انتظار کرنا ہو گا۔ فنانس بل2019ء فوری نتائج ظاہرکرنے کا حامل ہرگز نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم