یرغمال جمہوریت

یرغمال جمہوریت
یرغمال جمہوریت

  



بلدیہ کراچی کے اجلاس میں جو دھینگامشتی اور مار کٹائی ہوئی، مجھے وہ ایک معمول کی کارروائی لگی، کیونکہ جہاں صوبائی اور قومی اسمبلی میں حالات اس قسم کے ہوں،وہاں ایک بلدیاتی اجلاس میں ایسے مناظر کیا خبریت رکھتے ہیں؟ جمہوریت کا ایک مطلب شائستہ حکومت بھی ہوتا ہے جو جمہوری اقدارو اوصاف سے متصف ہوتی ہے۔۔۔ تو کیا ہماری جمہوریت اس صفت سے محروم ہے؟ قومی اسمبلی میں آج کل ارکان اسمبلی کی گھن گرج کے سوا ہوتا ہی کیا ہے؟ یا پھر وہ شورشرابہ، جس میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اب اس بات کا کیا جواز تھا کہ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران مسلسل آوازے کسے جائیں، شوروغل کیا جائے۔۔۔ پھر اس بات کا بھی کیا جواز ہے کہ مراد سعید جیسے وفاقی وزراء چیخ چیخ کر اپوزیشن کے ارکان پر تنقید کریں اور لفظوں کا چناؤ بھی درست نہ ہو۔

وزیراعظم عمران خان اگر قومی اسمبلی میں آہی گئے تھے تو ان پر شہباز شریف نے طنز کے نشتر کیوں برسائے؟ ایوان میں شور شرابے کے دوران ’’گو عمران گو۔۔۔گو نیازی گو‘‘ کے نعرے کیوں لگے۔ وزیراعظم عمران خان کو کیوں گھر بھیجا جائے! ابھی کیا کچھ ایسا ہوگیا ہے کہ وزیراعظم کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں رہ گیا۔ بے تکے نعرے اور یہ مار دھاڑ والی تقریریں، کیا ان سب کو ہم جمہوریت کے خانے میں رکھ سکتے ہیں؟ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ایوان سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے وہ اکثر ایک خاتون کو سپیکر کی ذمہ داری سونپ کر چلے جاتے ہیں۔ ان کا ایوان پر کتنا کنٹرول ہوتا ہے؟ یہ سب دیکھتے ہیں۔ اپوزیشن نے تو گویا طے کرلیا ہے کہ اپنی بات کرنی اور حکومت کی بات سننی ہی نہیں۔ شہباز شریف قائد حزب اختلاف ہیں، اپنی دھواں دھار تقریر کرنے کے بعد وہ پہلا کام یہی کرتے ہیں کہ ایوان سے چلے جاتے ہیں۔ شاید ایوان میں ان کا آنا اس لئے مجبوری ہے کہ وہ پروڈکشن آرڈر پر نیب کی حراست میں ایوان کو رونق بخشتے ہیں۔ یہ مجبوری نہ ہو تو شاید وہ کئی کئی دن قومی اسمبلی کا رخ تک نہ کریں۔

مَیں جب چشم تصور سے اس قومی اسمبلی کو 70ء کی دہائی میں دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ اس میں کیسے کیسے قدآور رہنما موجود تھے اور آج بونے قد والے گنے جائیں ختم نہیں ہوتے۔ ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، عبداللہ درخواستی، شیر باز مزاری، عبدالحفیظ پیرزادہ، معراج خالد، مبشر حسن، غلام مصطفیٰ جتوئی، نوابزادہ نصراللہ خان غرض ہر شخصیت ایک نگینہ تھی۔ اس سے کبھی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ دھمکی آمیز گفتگو کریں گے یا نائشائستگی پر اتر آئیں گے۔ صاحبزادہ فاروق علی خان قومی اسمبلی کے سپیکر تھے۔ انہیں صرف ایک بار یہ تنبیہہ کرنی پڑی کہ کسی نے اب ایوان کے تقدس کو پامال کیا تو اسے نکال باہر کیا جائے گا۔ آج تو سپیکر قومی اسمبلی بے بسی کا اظہار ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے ہنگامہ کرنیوالے کوئی ایک یا دو تو ہوتے نہیں۔

پوری اپوزیشن اسمبلی ہی آسمان سر پر اُٹھا لیتی ہے، ایسے میں وہ کس کس کو روکیں، ٹوکیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اپوزیشن نے منی بجٹ تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی اور شورشرابہ کیوں کیا۔ بجٹ تقریر کو سنے بغیر آپ مسودے کی کاپیاں کیوں پھاڑتے ہیں۔ بجٹ اگر خراب ہے یا عوام دوست نہیں تو اسے سنے بغیر کیونکر مسترد کیا جاسکتا ہے۔ اس کا واضح مطلب تو یہی ہے اپوزیشن اس ایوان کو چلنے ہی نہیں دینا چاہتی۔ ایوان نہیں چلے گا تو جمہوریت کیسے چلے گی۔ ایوان کا بائیکاٹ تو آخری حربہ ہوتا ہے، یہاں پہلا کام ہی یہ کیا جاتا ہے۔ حکومتی وزراء کے پاس بھی سوائے اپوزیشن کو ہدف تنقید بنانے کے اور کچھ موجود نہیں، وہ ماحول کو گرمانے کی حکمتِ عملی پر چل رہے ہیں، حالانکہ حزبِ اقتدار کے لئے ماحول کو ٹھنڈا رکھ کر آگے بڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ چھ ماہ ہونے کو آئے ہیں پارلیمینٹ میں حکومت و اپوزیشن کے درمیان ہم آہنگی ناپید نظر آتی ہے۔ کیا یہ صورتِ حال جمہوریت کے کوئی نیک شگون ہے یا اس کی وجہ سے جمہوریت منی کی طرح بدنام ہو رہی ہے۔

بہت سال پہلے میں اور شوکت اشفاق نوابزادہ نصراللہ خان کا انٹرویو لینے ملتان کے ایک ہوٹل پہنچے، جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب ہم نے ان سے یہ پوچھا کہ آپ کی شناخت یہ بن گئی ہے کہ ہر حکومت کے خلاف جو اتحاد بنتا ہے وہ آپ بنواتے ہیں، کہنے لگے ہاں میں ایسا کرتا ہوں، لیکن ہر صورت میں ہمارا ایک ہی مقصد نہیں ہوتا کہ حکومت گرانی ہے، بلکہ ہمارا اصل مقصد یہ ہوتا ہے جمہوریت صحیح سمت پہ چلتی رہے اور حکومت کو بھی احساس ہو کہ اس کے لئے سب ہرا ہی ہرا نہیں، بلکہ اپوزیشن اس کی بداعمالیوں پر نظر بھی رکھے ہوئے ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شائستگی کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔ خاص طور پر اسمبلی کے اندر اگر غیرمعیاری باتیں کی جائیں گی تو اس کی حرمت رفتہ رفتہ قصۂ پارینہ بنتی چلی جائے گی۔ آپ دیکھیں کہ جب نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ پاکستانی سیاست میں تھے تو اوئے توئے کا کلچر موجود نہیں تھا۔ آج نئے اور نوجوان سیاست دانوں کی وجہ سے جوش و جذبے کے ساتھ ناشائستگی کا سیلاب بھی پارلیمینٹ میں آگیا ہے، ایک طرف عوام کی اتنی زیادہ اوربڑی توقعات ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت سے معجزوں کی توقع کر رہے ہیں اور دوسری طرف عالم یہ ہے کہ اپوزیشن ایڑی چوٹی کا زور لگا کر حکومت کے ہر اچھے کام کو روک دینا چاہتی ہے۔

حکومت کے سامنے سائل کے بڑے بڑے پہاڑ کھڑے ہیں اچھی جمہوریت میں اپوزیشن کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت پر صرف مسائل پرتوجہ دینے کے لئے دباؤ ڈالے، بلکہ اپنا تعاون بھی پیش کرے۔ یہاں اب تک یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو مفلوج رکھنا چاہتی ہے۔ کوئی بھی بل پیش ہوگا تو اپوزیشن اس کی مخالفت ہی کرے گی۔ کیا اس رویئے کو جمہوریت کے لئے مفید قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے حربے مشترکہ نقصان کا باعث نہیں بنتے؟ کیا ہم عوام کو جمہوریت سے متنفر کرنے کا باعث نہیں بن رہے اور کیا آج پاکستان جن مسائل میں گھرا ہوا ہے وہ پوری قوم سے یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنے کا تقاضا نہیں کر رہے۔

پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، تیار اس لئے بھی نہیں کہ پیچھے ہٹنے کی صورت میں ساکھ تباہ ہوتی ہے۔ یوں دونوں اپنی ساکھ بچانے کیلئے باہم دست وگریبان کی حالت میں ہیں۔ اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتیں یعنی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرنا چاہتی ہیں۔ احتساب کا جو عمل جاری ہے، اسے حکومت از خود نہیں روک سکتی مگر پھربھی اپوزیشن کا خیال ہے کہ سندھ میں آصف زرداری کے خلاف احتساب کا شکنجہ اور پنجاب میں شریف برادران کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی حکومت کی ہی وضع کردہ ہے۔ سڑکوں پر آنے کی اپوزیشن میں فی الوقت سکت نہیں، نہ ہی کسی بڑی تحریک کے چلنے کا امکان ہے۔ اس لئے سارا زور پارلیمینٹ میں لگایا جا رہا ہے ان باتوں کوبھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، جن پر ماضی میں اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

مثلاً فوجی عدالتوں کا معاملہ جن کی مدت بڑھانے کا وقت آگیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تو صریحاً اس کی حمایت سے انکار کردیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) یہ مسئلہ کچھ لو کچھ دو کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔ یہ بڑی افسوسناک بات ہے۔ حکومت نے اپوزیشن سے رابطے کیلئے وزیردفاع پرویز خٹک کو نامزد کیا تو دونوں جماعتوں نے انہیں رد کردیا اور کہا کہ اس موضوع پر صرف وزیراعظم سے مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ گویا اسے لٹکانا مقصود ہے تاکہ مقتدر قوتوں کو احساس دلایا جاسکے کہ ہمارے بغیر ان کا کام بھی نہیں چلتا۔ اب پولیس اصلاحات کا مرحلہ بھی آرہا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اس موضوع پر حکومت اور اپوزیشن میں کوئی اتفاق رائے پیدا ہو سکے گا، کیونکہ اس وقت سیاسی پولرائزیشن اتنی زیادہ ہے کہ کسی ایک نکتے پر اکٹھے ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔ چاہے وہ نکتہ قومی مفاد میں ہی کیوں نہ ہو۔ اسے دیکھ کر تو جمہوریت کہیں سے بھی آزاد و خودمختار نہیں لگتی۔ یہ تو یرغمال جمہوریت جسے اپنے مفاد کے لئے صرف تھوڑی دیر کیلئے آزاد کیا جاتا ہے، مفاد پورا ہو جائے تو دوبارہ محبوس کرکے اپنا مقصد حل ہونے تک صرف جمہوریت جمہوریت کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ جیسے کہ آج کل کھیلا جا رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم