سانحہ ساہیوال ، متعلقہ اداروں کی طرف سے ’مٹی پائو‘ پروگرام شروع؟ تحقیقات سے متعلق ایسا انکشاف کہ پاکستانیوں کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

سانحہ ساہیوال ، متعلقہ اداروں کی طرف سے ’مٹی پائو‘ پروگرام شروع؟ تحقیقات سے ...
سانحہ ساہیوال ، متعلقہ اداروں کی طرف سے ’مٹی پائو‘ پروگرام شروع؟ تحقیقات سے متعلق ایسا انکشاف کہ پاکستانیوں کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

  



لاہور  (ویب ڈیسک) سانحہ ساہیوال میں فارنزک سائنس ایجنسی کو نامکمل شواہد بھیجنے کا انکشاف ہوا ہے، فائرنگ کیلئے استعمال گن نہیں بھجوائی گئی۔ ایجنسی کے کسی افسر نے جائے وقوعہ کا معائنہ بھی نہیں کیا۔ جے آئی ٹی کے روبرو صرف دو عینی شاہدین بیانات قلمبند کرا پائے ہیں۔تیزی سے وقوع پذیر ہونے والے ساہیوال واقعے کی تحقیقات سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو نا مکمل شواہد بھیجے گئے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول مل گئے لیکن جس رائفل سے گولیاں چلیں، وہ نہیں بھیجی گئی۔ فرانزک ایجنسی کے کسی افسر نے جائے وقوعہ کا معائنہ تک نہیں کیا۔ گاڑی گزشتہ روز وصول کر لی جس کا معائنہ جاری ہے۔ فرانزک کرنے والوں کا کہنا ہے مکمل شواہد ہوتے تو رپورٹ بنانے میں مدد ملتی۔ادھر ساہیوال میں جے آئی ٹی کے ارکان نے دو عینی شاہدین کو بیان قلمبند کرانے کے لئے پولیس ریسٹ ہاؤس طلب کیا تھا، عینی شاہدین طیب اور مہابت خان نے اپنے بیان درج کرائے۔

دوسری جانب سانحہ ساہیوال میں ملوث ملزمان کو انسداد دہشتگردی کورٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ جے آئی ٹی کے ممبر ڈی ایس پی فلک شیر کے مطابق ملزمان ابھی سی ٹی ڈی کے پاس ہیں، ملزمان جے آئی ٹی کی حراست میں آنے کے بعد پیش کئے جائیں گے۔گرفتار پانچ ملزمان میں سب انسپکٹر صفدر حسین، اہلکار محمد رمضان، حسنین اکبر، احسن خان اور سیف اللہ شامل ہیں جو چار دن گزرنے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیے جا سکے ہیں۔

مزید : جرم و انصاف