ہمارا کرپٹ پولیس سسٹم تاریخ کے تناظر میں 

ہمارا کرپٹ پولیس سسٹم تاریخ کے تناظر میں 
ہمارا کرپٹ پولیس سسٹم تاریخ کے تناظر میں 

  



چند روز پہلے ساہیوال میں ایک افسوس ناک اور خون کے آنسو رلا دینے والاواقعہ پیش آیا ۔جس میں ایک ہی فیملی کے ماں باپ کو ان کے بچوں کے سامنے بے دردی سے مار دیا گیا ۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جن میں ابھی تک لواحقین کو انصاف نہیں ملا ۔اس کے علاوہ روزمرہ کے واقعات میں یہ چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ اگر کسی عام غریب شہری کو کسی کام سے تھانے جانا پڑ جائے تو اس کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے؟ہمارے ہاں پاکستان میں پولیس باقی دنیا سے مختلف ہے۔ یورپین ممالک امریکہ کینیڈا اور جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہاں پر پولیس کو دیکھ کر لوگ تحفظ محسوس کرتے ہیں۔ جب کہ یہاں پر عام عوام اپنے اردگرد پولیس کو دیکھ کر عدم اعتماد عدم تحفظ محسوس کرتی ہے۔

ہمارے پولیس سسٹم میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم لوگ ابھی تک 1861 کا پولیس ایکٹ اپنائے ہوئے ہیں ۔آگے بڑھنے سے پہلے 1861 کے پولیس ایکٹ کو تھوڑا سا تاریخ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر کی عوام میں زور و شور سے اپنے حقوق اور آزادی کے لئے آواز بلند کرنا شروع کی۔ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے برٹش راج کو حکومت کرنے میں کافی مشکلات پیش آنے لگی۔ برٹش گورنمنٹ نے وہاں کی عوام کو اور بالخصوص ان لوگوں کو جو اپنے حقوق اور آزادی کی بات کرتے تھے ان کو دبانے اور کنٹرول کرنے کے لئے پولیس ڈیپارٹمنٹ قائم کیا۔ اور 1861 میں ایک پولیس ایکٹ بنایا اس پولیس ایکٹ کی ایک دلچسپ اور اہم بات یہ تھی اس ایکٹ کے تحت پولیس والوں کے پاس Right to offenseکے اختیارات تھے۔ لیکن اگر کسی شخص کو پولیس والا زد و کوب کرتا ہے یا مارتا پیٹتا ہے۔ تو اس کے پاس Right to defense کے اختیارات نہیں تھے۔ وہ اپنی استدعا کو لے کر صرف عدالت جا سکتا تھا ۔لیکن وردی میں ملبوس کسی پولیس اہلکار پر ہاتھ نہیں اٹھایا جاسکتا تھا۔ اس ایکٹ کی رو سے پولیس کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے کسی قسم کے معیارات کو مقرر کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا نہ ہی یہ کسی ایسے غیرجانبدار نظام یا اداروں کی بات کرتا ہے جس کی مدد سے پولیس کی کارکردگی کی نگرانی کی جاسکے۔ دیگر اسی طرح کی وجوہات کی بنا پر یہ ایکٹ موجودہ دور کی ضروریات کا ساتھ دینے سے قاصر ہے مختصراً پولیس ایکٹ 1861 ملک میں قانون کی بہتر حکمرانی کے قیام اور پولیس میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ میں رکاوٹ کا باعث ہے

تاریخی تناظر: اس ایکٹ کے نتیجے میں ہونے والے ظلم و ستم کی مثال رولٹ ایکٹ کے بعد ہونے والے ہنگاموں اور جلسے جلوسوں میں مارے جانے والے ایک لیڈر لالا لجپت رائے کی دی جاتی ہے۔ عوام نے رولٹ ایکٹ کو مسترد کردیا ۔اوریوں پرامن مظاہروں و جلسے جلوسوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا ۔اسی طرح کے ایک جلسے کی قیادت لالا لجپت رائے کر رہے تھے ۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے اور جلسے کو ناکام کرنے کے لئے عوام پر لاٹھی چارج شروع کیا۔ پولیس کی قیادت سینڈر نامی ایک انگریز آفیسر کر رہا تھا ۔سینڈر نے لالہ لجپت رائے کے سر پر لاٹھی برسانی شروع کی اور اتنی لاٹھیاں برسائیں کہ لالہ لجپت رائے کی موت ہوگئی ۔یہ مقدمہ عدالت میں لے جایا گیا تو سینڈر نے اپنے ڈیفنس میں کہا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کا حق اسے قانون نے دیا ہے۔ اور اسی لاٹھی چارج کے نتیجے میں لالا لجپت رائے کی موت ہوئی ہے ۔یہ کام اس نے ذاتی بنا پر نہیں کیا۔ اور عدالت نے اسی وجہ سے سینڈر کو باعزت بری کردیا۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ جلیانوالہ باغ میں پیش آیا جہاں پر سینکڑوں مظاہرین کا قتل کیا گیا ۔ 

یہی پولیس ڈیپارٹمنٹ ہمیں 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد جہیز میں ملا ۔ اسی وجہ سے آج بھی یہ اپنی وہی پرانی روایات پر کاربند ہے ۔ آج بھی اس کا مقصد لوگوں کو خدمات مہیا کرنے کی بجائے عام عوام کو دبا کر رکھنا ہے ۔پہلے یہی کام برٹش سرکار کی خاطر کیا جاتا تھا۔ اب وہی کام ذاتی مفادات کے لئے کیا جاتا ہے۔

ماضی میں پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بہتر بنانے کے لئے کافی اقدامات بھی اٹھائے گئے ۔کہ شاید ان سے رشوت ستانی کو کنٹرول کیا جاسکے اور شاید پولیس ڈیپارٹمنٹ عوام کو اپنی خدمات دے سکے۔پولیس آرڈر 2002 پولیس سسٹم کو بدلنے کی طرف سے بہت بڑا اور قابل تعریف قدم تھا ۔اس ایکٹ کا مقصد ایک ایسے سسٹم کو بنانا تھا اور ایسے قوانین کا نفاذ کرنا تھا ۔جو کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے ساتھ ساتھ محکمہ پولیس میں اعلٰی اقدار کے فروغ کی ضمانت دے سکے ۔پولیس آرڈر 2002 پاکستان میں 14 اگست 2002 کو 1861 کے پولیس ایکٹ کی جگہ نافذ کیا گیا۔اور محکمہ پولیس کے قوانین میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں کہ محکمہ آئین قانون اور اہلیان پاکستان کی جمہوری خواہشات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے سکے۔ اور ایسے اداروں کو قائم کیا گیا جن کے ذریعے محکمہ پولیس پر عوامی نگرانی کو موثر طریقے سے قائم کیا جاسکے۔ انہیں اداروں میں ضلعی صوبائی اور قومی سطح پر پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام شامل تھا۔ اس ا یکٹ کے مطابق پولیس کی ذمہ داریاں اور فرائض میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں ۔پولیس آرڈر 2002 کے دوسرے باب کے مطابق ہر پولیس افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے ساتھ شائستگی اور رواداری سے پیش آئے ۔ عوام کے ساتھ دوستانہ ماحول کو فروغ دیں ۔اور دیگر اس طرح کی عوام دوست شقیں شامل ہیں۔اس کی ایک بڑی خوبصورتی یہ ہے اس کے تحت پولیس کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا گیا اور پولیس کی عوام کے سامنے جواب دہی کا ماڈل جاپان کی کمیونٹی پولیس سے لیا گیا۔ اور اس کا مقصد پولیس کے رویے اور طرز عمل میں بنیادی تبدیلی لانا تھا ۔تاکہ وہ اپنے آپ کو عوام کے حاکم سمجھنے کی بجائے عوام کا خادم تصور کریں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے قومی صوبائی وضلعی سطح پر پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹ کمیشن قائم کیے جانے تھے ۔ 

اسی اثنا میں 2008 سے 2013 کا پنجاب گورنمنٹ کا جو دور تھا اس میں محکمہ پولیس کی تنخواہیں بھی ڈبل کر دی گئی ۔لیکن پولیس ڈیپارٹمنٹ اپنی کارکردگی بہتر نہ کرسکا ۔ تاہم یہ پولیس ایکٹ ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس ایکٹ پولیس کے رویے میں مثبت تبدیلی تبدیلی کی نوید سناتا ہے ۔اگر اس کا نفاذ ہو جاتا ہے تو پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی ۔اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے عوام کو جوابدہ ہوں گے۔ لیکن عملی طور پر آج 2019 میں تقریبا17 سال گزر جانے کے باوجود قانون کا نفاذ سست روی کا شکار ہے۔ اور اس آرڈر کے تحت قائم کیے جانے والے بہت سے اداروں نے ابھی تک اپنا کام بھرپور طریقے سے شروع نہیں کیا۔

ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی اور پولیس کمپلینٹ کمیشن تاحال چند اضلاع میں قائم کیا جاسکا ہے۔ جن اضلاع میں کمیشن قائم کیا گیا ہے وہاں اس کی کارکردگی کوئی قابل رشک نہیں ہے پبلک سیفٹی کمیشن کی غیر موجودگی میں پولیس کی طاقت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 

پولیس آرڈر 2002 کے نافذ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہمارا سول سروس اسٹرکچر بھی ہے۔ کیونکہ اس سٹرکچر کو ہم نے برٹش گورنمنٹ کے امپیریل سول سروسز سے اپنا یا ہے۔ اور پولیس کی طرح امپیریل سول سروسز کا انڈیا میں قیام کا مقصد بھی وہاں کے لوگوں کو دبا کے رکھنا اور کنٹرول میں رکھنا تھا نہ کہ لوگوں کو سروسز فراہم کرنا ۔ تقریبا ڈیڑھ صدی گزر جانے کے بعد پولیس ایکٹ 1861 کی طرح سول سروس اسٹرکچر بھی دور حاضر کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ برٹش گورنمنٹ جو کہ سول سروس اسٹرکچر کو لے کر آئی تھی انہوں نے خود یونائیٹڈ کنگڈم میں1950 میں فل ٹون کمیشن کے نام سے ایک کمیشن بنایا جس کے ذریعے انہوں نے انگلینڈ میں موجود سول سروسز کا دور حاضر کی ضروریات کے مطابق مکمل طور پر دوبارہ ڈھانچہ تیار کیا اور اس میں جدید ریفارمز لے کر آئے۔ 

اسی تناظر میں میری اعلٰی حکام سے گزارش ہے کہ کم از کم ، عوام کو جو پولیس سے شکایات ہیں ان کے لیے ایک الگ کسی بھی ترقی یافتہ ملک یا انگلینڈکی طرزپر کمپلینٹ سیل قائم کیا جائے ۔جس کا مقصد صرف پولیس سے متعلقہ شکایات کا ازالہ کرنا ہو ۔کیونکہ شاید باقی تمام ڈیپارٹمنٹ سے عوام کو جو شکایات ہیں، وہ مجموعی طور پر پولیس سے ہونے والی شکایات سے کم ہیں۔ الگ کمپلینٹ سیل ہونے کی صورت میں عوام کو جلد ریلیف دینا ممکن ہوگا 

(بلاگر پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں ،اصلاح احوال کے لئے محققانہ تحریریں لکھتے ہیں )

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ