ہم کے ٹھہرے پردیس کے مسافر

ہم کے ٹھہرے پردیس کے مسافر
ہم کے ٹھہرے پردیس کے مسافر

  



کبھی ہم غور کریں کہ گھڑی کی ٹک ٹک مسلسل جاری ہے۔۔۔ سوئیاں اپنے محور پہ چلتی جا رہی ہیں۔۔۔ قیمتی گھڑیاں بیتی جارہی ہیں مگر ہم شغلِ دنیا میں بالکل بیفکر مست و بیخود۔۔۔ چار دن کی زندگی کے نایاب لمحے ضائع کر رہے ہیں جو کبھی دوبارہ نصیب نہ ہوں گے۔۔۔ عالم ارواح میں اللہ کی قربتوں کے انوار میں اَلَستْ بِرَبِّکْم کے نغمے سنتے تھے اور قَالْو ا بَلٰی شَہِد نَا کی صدائیں بلند کرتے تھے اللہ کی واحدانیت و ربوبیت کا اقرار کرتے تھے۔۔۔ پھر ہمارے رب نے ہمیں کچھ دیر آزمانے کیلیے عالمِ ارواح سے اس جہانِ فانی میں بھیج دیا۔۔۔ عالمِ ارواح سے چلے اِس پردیس میں پہنچے اور آخرکار اک دن واپس اپنے اصل دیس کو لوٹ جانا ہے... ہم ایسے بے فکر مسافر ہیں کہ جنھیں اپنی حقیقی منزل کی فکر ہی نہیں۔۔۔ پردیس میں آکر ایسا دنیا سے دل لگایا کہ اپنے اصل دیس کو بھول گئے عالمِ ارواح کے وعدے وفا گئے۔۔۔ اکثر بے وفا ہو گئے۔۔۔ اب اچانک کسی دن بلاوا آئے گا پھر ہمیں بلا تاخیر نہ چاہتے ہوئے بھی منوں مٹی تلے جانا ہی ہوگا۔۔۔ کوئی چارہ نہ ہوگا۔۔۔ کوئی ہشیاری چالاکی نہ بچا سکے گی۔۔۔ جان سے پیارے گھر والے اور عزیز و اقارب قبر میں دفن کرکے واپس لوٹ آئیں گے۔۔۔ چار دن باتیں ہوگی کچھ یادیں ہوں گی۔۔۔ پھر قصہ ختم۔۔۔ ہر کوئی کاروبارِ زندگی کی بھول بھلیوں میں کھو جائے گا۔۔۔

دنیا کی ہر چیز انسان کی سہولت اور استعمال کیلیے پیدا کی گئی ہے ہمیں چیزوں کی خاطر مر مٹنے کیلیے پیدا نہیں کیا گیا۔۔۔ آج عوام الناس کی اکثریت فانی دنیا کی فانی چیزوں کے حصول کیلیے حلال و حرام کے فرق کو بلائے طاق رکھتے ہوئے ہلکان و پریشان ہے ہماری زندگیوں میں صبر و قناعت نام کی چیز ہی نہیں رہی۔۔۔ آج ہماری قوم بہت سی فضول رسم و رواج، نمود و نمائش، ٹھاٹھ باٹھ و دبدبہ اور بیشمار خواہشات کی تکمیل کے چکر میں بھتہ خوری، رشوت خوری، چھینا جھپٹی، زمین و مکاں پر ناجائز قبضے، اغوا برائے تاوان، کم تولنا، اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ حتی کہ ادویات میں بھی ملاوٹ سے دریغ نہیں کرتی۔۔۔ انسانی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔۔۔ فکرِ آخرت کی بجائے فکرِ دنیا نے ہمارے معاشرہ کو تباہی کے گڑھوں میں دھکیل دیا ہے۔۔۔ جس کے نتیجے میں ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بن گئی ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے عوام ویسے حکمران ایک سے بڑھ کر بڑھ ایک چور اچکا ڈاکو قاتل اس قوم کو نصیب ہوتا ہے۔۔۔

بیشک اسلام ترقی پسند دین ہے ہماری ترقی و خوشحالی کا راز اخلاصِ نیت کے ساتھ جدید علوم، اور دینی تعلیم و تربیت حصول میں ہے۔۔۔ کھوٹے کھرے کی تمیز اور شعور و آگہی میں ہے۔۔۔ قلب و ذہن میں خوف خدا کے ساتھ حصولِ رزقِ حلال میں ہے۔۔۔ حقوق العباد کی بروقت ادائیگی میں ہے۔۔۔ صبر و قناعت اور تقوی و پرہیزگاری میں ہے۔۔۔ اگر ہم معاشرے کے ایسے مثالی و کارآمد فرد بن جائیں تو اللہ رب العزت بھی ہمارے حال پر یقیناً رحم فرمائے گا۔۔۔ قوم کو اپنے آئینی و بنیادی انسانی حقوق کیلیے غریب دشمن کرپٹ نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا۔ اس فرسودہ نظام کو سمندر برد کرنا ہوگا۔۔۔ نظام بدلے گا۔۔۔ انتخابی اصلاحات ہوں گی تو پھر قوم کو حقیقی تبدیلی نصیب ہوگی۔۔۔ اہل اور ایماندار قیادت منتخب ہوگی تو قوم کا مقدر بھی بدل جائے گا۔۔۔ کرپشن و لوٹ مار بند ہوگی تو خوشخالی و ترقی کا دور شروع ہوگا۔۔۔ پھر کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا۔۔۔ پھر کوئی غریب علاج معالجے اور تعلیم و انصاف سے محروم نہیں رہے گا۔۔۔ پھر کوئی زچہ بچہ سڑک پر نہیں تڑپے گا۔

قارئین! اکثر اوقات ہم ایک دوسرے سے یاد نہ کرنے کا گلہ و شکوہ کرتے ہیں۔۔۔ قصور وار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔۔۔ اور پھر سوچتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد کون یاد کرے گا۔۔۔ اس میں دراصل کسی کا نہیں ہمارا اپنا ہی قصور ہے۔۔۔ آج ہم جتنا اللہ کو یاد کریں گے کل اتنا ہی لوگ ہمیں یاد کرینگے۔۔۔ اگر آج ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنے پیارے رب کو بھولے رہے تو کل دنیا ہمیں بھول جائے گی۔۔۔ کامیاب زندگی کیلیے شیطان نفس اور دنیا کی دلفریب رنگینیوں سے بچنا ہوگا۔ دنیا میں رہ کر دل کو محبتِ دنیا سے دور رکھنا ہوگا۔۔۔ دل کو صرف اللہ کی یاد سے منور کرنا ہوگا۔۔۔ بس ہمیں دنیا میں رہ کر دنیا کو استعمال کرنا ہے ناکہ دنیا کیلیے استعمال ہونا ہے۔۔۔ اپنے مولا کو اور اپنے اصل دیس کو یاد رکھنا ہے۔۔۔ زندگی کی آخری سانس تک صبح و شام چلتے پھرتے سفر و حضر اور خلوت و جلوت میں اللہ کا پیارا نام جھپنے سے ایسا فیض اور برکت نصیب ہوتی ہیکہ کْلّْ نَفسٍ ذَاءِقَۃْ المَوتِ کے بعد پھر دنیا اللہ کے ذاکر بندے کا ذکر کرتی ہے آج ہم جتنا اللہ کو یاد کریں گے کل اتنا ہی لوگ ہمیں یاد کرینگے۔۔۔ دعاوں کیساتھ اچھے لفظوں میں یاد کرینگے۔۔۔ ہر بندے کو اس کے حال کے مطابق اللہ کے ذکر کا فیض ملتا ہے اگر ہم یونہی غفلت کی نیند سوئے رہے۔۔۔ اللہ کریم کو بھولے رہے تو کل لوگ ہمیں بھول جائیں گے کوئی دعا مانگنے والا بھی نہ ہوگا،

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے

"سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو۔"

[2:152]۔البَقَرَۃ

اللہ رب العزت کا یاد کرنا یہ ہے کہ جو بندگانِ الہی اپنے ربّ کے ذکر و فکر کے نور سے اپنی راتیں روشن کر لیتے ہیں اللہ ان کی قبریں بھی روشن فرما دیتا ہے۔۔۔ اپنے مبارک نام کی برکت سے اپنے بندے کا نام روشن فرما دیتا ہے۔ اپنے محبوب بندے کی محبت مخلوق کے دلوں میں ڈال دیتا ہے تو پھر دنیا یاد کرتی پھرتی ہے۔۔۔ اللہ کے ذاکر بندے کا ذکر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔۔۔ چاہے صدیاں بیت جائیں۔۔۔ کوئی خونی رشتہ نہ کبھی کوئی میل ملاقات نہ وہ زمانہ پایا۔۔۔ مگر دنیا اللہ کے ذاکر بندے کو ہمیشہ یاد کرتی ہے عقیدت و محبت کا دم بھرتی ہے۔۔۔

یہاں قابل غور بات ہے کہ حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ، حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ، حضور سیدی مرشدی غوث الاعظم دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت مولائے روم رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت خواجہ غریب معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ، حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ، حضرت حاجی محمد نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ، حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ، حضرت بہاء الدین نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت مخدوم علی احمد صابر کلیری پیا رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت لال شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ قدوۃاولیاء سیدنا طاہراعلاؤدین القادری الگیلانی البغدادی رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔ غرض یہ کہ ان اللہ والوں نے عمر بھر صبح و شام اپنے پیارے مولا کو کتنا یاد کیا ہوگا کہ صدیاں بیت گئیں مگر اللہ کے پیارے بندوں کی یاد اور ذکر آج بھی پوری دنیا میں زندہ و تابندہ ہے اور تاقیامت ان عظیم ذاکر ہستیوں کا ذکر پوری آب و تاب کیساتھ زندہ رہے گا ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ