اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 84

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 84
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 84

  

حضرت عبداللہ مہدی بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت سفیان ثوریؒ کی موت کے وقت ان کے قریب ہی موجود تھے۔ آپ نے فرمایا ’’میرا چہرہ زمین پر رکھ دو کیونکہ اب وقت بالکل قریب ہے۔‘‘

چنانچہ عبداللہ مہدی حکم کی تعمیل کرکے لوگوں کو اطلاع کرنے کی غرض سے باہر نکلے۔ باہر نکل کر دیکھا کہ ایک جم غفیر ہے اور جب انہوں نے پوچھا کہ تم لوگوں کو حضرت ثوریؒ کی نازک حالت کا کیسے علم ہوا تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہمیں خواب میں یہ حکم دیا گیا کہ سفیان ثوریؒ کی میت پر پہنچ جاؤ۔‘‘

اس کے بعد جب حضرت عبداللہ مہدیؒ اندر داخل ہوئے توآپ کی حالت بہت نازک ہوچکی تھی اور آپ نے تکیہ کے نیچے سے ایک ہزار کی تھیلی نکال کر فرمایا کہ اس کو فقراء میں تقسیم کردو۔ اس پر لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا ہوہوا کہ آپ دوسروں کو تو دولت جمع کرنے سے منع کرتے رہے اور خود ایک ہزار دینار جمع کرلیے۔

آپ نے لوگوں کی اس نیت کا اندازہ کرتے ہوئے فرمایا ’’ان دیناروں سے میں نے ایمان کا تحفظ کیا ہے کیونکہ جب ابلیس مجھ سے پوچھتا تھا کہ اب تم کہاں سے کھاؤ گے۔ تو مَیں جواب دیتا میرے پاس یہ دینار موجود ہیں اور جب وہ سوال کرتا کہ تمہیں کفن کہاں سے نصیب ہوگا تو اس وقت بھی مَیں یہی جواب دیتا۔حالانکہ مجھے ان دیناروں کی قطعاً ضرورت نہ تھی مگر وسواس شیطانی کے لیے جمع کرلیے تھے۔‘‘ یہ فرماکر کلمہ پڑھا اور دنیا سے رخصت ہوگئے۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 83 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب حضرت ابو علی شفیق بلخیؒ مکہ معظمہ پہنچے تو آپ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ خانہ خدا میں رزق کی تلاش مناسب نہیں اور جب وہاں حضرت ابراہیم بن ادھمؒ سے ملاقات ہوء ی تو ان سے سوال کیا ’’آپ نے حصول رزق کے لیے کیا ذریعہ اختیار کیا ہے۔‘‘

انہوں نے جواب دیا ’’اگر کچھ مل جاتا ہے تو شکر کرتا ہوں اور نہیں ملتا تو صبر سے کام لیتا ہوں۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’ایسا حال تو کتوں کا بھی ہے۔‘‘

جب حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ نے آپ سے حصول معاش کے لیے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ’’اگر کچھ مل جاتا ہے تو خیرات کردیتا ہوں اور نہیں ملتا تو شکر سے کام لیتا ہوں۔‘‘

یہ سن کر حضرت ابراہیم بن ادھم نے کہا ’’آپ واقعی ایک عظیم بزرگ ہیں۔‘‘

***

ایک دفعہ خلیفہ وقت کے شیروں نے امام ابو حنیفہؒ ، حضرت سفیانؒ ، حضرت شریحؒ اور حضرت شعرؒ کے نام قاضی کے عہدہ کے لیے پیش کیے اور جب طلبی کے لیے چاروں حضرات دربار کی طرف چلے تو حضرت ابو حنیفہؒ نے فرمایا’’میں کسی بہانے سے یہ عہدہ قبول نہیں کروں گا اور سفیان تم دربار پہنچنے سے قبل ہی فرار ہوجانا اور شعر تم پاگل بن جانا۔ اس طرح شریح کو اس عہدہ کے لیے منتخب کرلیا جائے گا۔‘‘

چنانچہ حضرت سفیان ثوریؒ راستہ ہی میں فرار ہوگئے اور جب یہ تینوں حضرات داخل دربار ہوئے تو خلیفہ نے امام ابو حنیفہؒ کو عہدہ قبول کرنے کا حکم دیا لیکن آپ نے انکار کرتے ہوئے کہا 

’’میں عربی النسل نہیں ہوں، اس لیے سرداران عرب میرے فتاویٰ کو غیر مستند تصور کریں گے۔‘‘

اس پر جعفر نے جو ا تفاق سے دربار میں موجود تھے۔ امام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’قاضی کے لیے نسب کی نہیں، علم کی ضرورت ہے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’یہ صحیح ہے لیکن مَیں اپنے اندر اس عہدے کی صلاحیت نہیں پاتا۔‘‘

اس پر خلیفہ چڑتے ہوئے بولا ’’آپ جھوٹے ہیں اور جھوٹ سے کام لے رہے ہیں۔‘‘

آپ نے جواب دیا ’’اگر مَیں جھوٹا ہوں تو پھر ایک جھوٹے کو یہ عہدہ تفویض نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر میرا قول سچا ہے تو جس میں قاضی ہونے کی صلاحیت نہ ہو، وہ خلیفہ کا نائب یا قاضی کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘یہ سن کر خلیفہ نے حضرت شعرؒ کو عہدہ قبول کرنے کو کہا لیکن وہ پاگل بن گئے۔ دوڑ کر خلیفہ کا ہاتھ پکڑا اور بیوی بچوں کی خیرت معلوم کرنے لگے۔ چنانچہ خلیفہ نے دیوانہ سمجھ کر انہیں بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد حضرت شریحؒ کو یہ عہدہ قبول کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے قبول کرلیا۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ نے تمام عمر شریح سے ملاقات نہیں کی۔

***

ایک دفعہ خلیفہ ہارون الرشید اور اس کی بیوی میں کسی بات پر تکرار ہوگئی تو زبیدہ نے کہا ’’تم جہنمی ہو۔‘‘

اس پر ہارون الرشید نے کہا ’’اگر میں جہنمی ہوں تو تجھ پر طلاق واجب ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بیوی سے کنارہ کشی اختیار کرلی لیکن جب جدائی برداشت نہ ہوسکی تو علماء کو بلا کر پوچھا ’’میں جہنمی ہوں یا جنتی؟‘‘

لیکن کسی کے پاس بھی اس کا جواب نہیں تھا۔ ان علماء میں امام شافعیؒ بھی کم سن ہونے کے باوجود شامل تھے چنانچہ آپ نے فرمایا ’’اگر اجازت ہو تو مَیں اس کا جواب دوں۔‘‘ 

خلیفہ نے اجازت دے دی۔ پھر آپ نے خلیفہ سے پوچھا ’’آپ کو میری ضرورت ہے یا مجھے آپ کی۔‘‘

خلیفہ نے جواب دیا ’’مجھ کو آپ کی ضرورت ہے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’اگر یہ بات ہے تو تم تخت سے نیچے آجاؤ کیوں کہ علماء کا مرتبہ تم سے بلند ہے۔‘‘

چنانچہ خلیفہ نے تخت سے نیچے اتر کر آپ کو تخت پر بٹھادیا پھر آپ نے خلیفہ سے سوال کیا ’’تمہیں کبھی ایسا موقعہ بھی ملا ہے کہ گناہ پر قادر ہونے کے باوجود محض خوف الہٰی سے گناہ سے باز رہے ہو۔‘‘

اس پر ہارون الرشید نے قسمیہ عرض کیا ’’ہاں ایسے مواقع بھی آئے ہیں۔‘‘

آپ نے فوراً جواب دیا ’’تم جنتی ہو۔‘‘

او رجب علماء نے اس کی حجت طلب کی تو آپ نے فرمایا ’’خداوند تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ’’قصد گناہ کے بعد جو شخص خوف خدا سے رک گیا اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 85 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے