سپریم کورٹ کے حکم پر میئرکراچی کا شادی ہالز اور رہائشی عمارتیں نہ گرانے کا اعلان

سپریم کورٹ کے حکم پر میئرکراچی کا شادی ہالز اور رہائشی عمارتیں نہ گرانے کا ...
سپریم کورٹ کے حکم پر میئرکراچی کا شادی ہالز اور رہائشی عمارتیں نہ گرانے کا اعلان

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر قائد کے میئر وسیم اختر نے شادی ہالز اور رہائشی عمارتیں نہ گرانے کا اعلان کردیا۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں 500 عمارتیں اور شادی ہالز گرانے کا حکم دے رکھا ہے۔

کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کوئی عمارت اور شادی ہال نہیں توڑیں گے البتہ غیر قانونی شادی ہالز گرائے جائیں گے ۔ رہائشی علاقوں میں قائم شادی ہالز کو نہ توڑا جائے۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر 500 عمارتیں گرانے پر عمل درآمد روکا جائے، سندھ حکومت عمارتیں گرانے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرے۔

وسیم اختر نے کہا کہ جن عمارتوں کو گرانے کا کہاگیا وہ تجاوزات نہیں بلکہ زمین کے استعمال کی تبدیلی کا معاملہ ہے، جن شادی ہالز میں شادی کی بکنگ ہے وہ بھی گرانے کو کہا گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان سے عمارتیں گرانے کے احکامات پر نظر ثانی کی اپیل کرتے ہیں، یہ ایک انسانی مسئلہ بن چکاہے، جب 525 کچی آبادیاں ریگولائز ہوسکتی ہیں تو ان مسائل پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

خیال رہے کہ میئر کراچی وسیم اختر سے قبل وزیر بلدیات سندھ سعید غنی بھی سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ سعید غنی نے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے لیکن رہائشی عمارتیں نہیں توڑیں گے۔

واضح رہے کہ 22 جنوری کو سپریم کورٹ نے شہر کو 40 سال پہلے والی پوزیشن میں بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے پارکوں، کھیلوں کے میدانوں اور اسپتالوں کی اراضی واگزار کرانے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے رہائشی عمارتوں اور گھروں کو کمرشل مقاصد میں تبدیلی کرنے، رہائشی پلاٹوں پر شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز اور پلازوں کی تعمیر پر بھی مکمل پابندی عائد کردی۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /سندھ /کراچی