’میرا شوہر میرے ساتھ زبردستی کرتا تھا اور اس کی ماں دروازے کے باہر کھڑے ہوکر اسے ہدایت دیتی تھی‘

’میرا شوہر میرے ساتھ زبردستی کرتا تھا اور اس کی ماں دروازے کے باہر کھڑے ہوکر ...
’میرا شوہر میرے ساتھ زبردستی کرتا تھا اور اس کی ماں دروازے کے باہر کھڑے ہوکر اسے ہدایت دیتی تھی‘

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی ممالک میں جا بسے جنوبی ایشیائی لوگوں کی طرف سے اپنے بچوں کی اپنی قومیت کے لوگوں سے زبردستی شادیاں کرانے کی خبریں گاہے آتی رہتی ہیں۔ اب ایک بھارتی نژاد لڑکی نے اپنی جبری شادی کی ایسی اندوہناک کہانی سنائی ہے کہ پر سننے والا پریشان رہ جائے۔ دی مرر کے مطابق 40سالہ سنی اینجل نے بتایا کہ ”میرے والدین نے زبردستی میری شادی ایک بھارتی نژاد نوجوان سے کر دی جو ذہنی معذور تھا، اس کا نام اجے تھا۔ اس وقت میری عمر محض 20سال تھی۔ اجے جسمانی اعتبار سے تو بڑا ہو چکا تھا لیکن ذہنی اعتبار سے وہ بالکل بچہ تھا اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شادی کیا ہوتی ہے۔ اس کی ماں اسے فحش فلمیں دکھاتی تاکہ وہ سیکھ سکے کہ اسے کیا کرنا ہے اور رات کو وہ اسے میرے پاس کمرے میں بھیج کر باہر دروازے کے پاس کھڑی ہو جاتی اور ہدایات دیتی رہتی تھی اوراجے اس کی ہدایات پر عمل کرنے ہوئے مجھے جنسی زیادتی کانشانہ بناتا تھا۔“

سنی اینجل کا کہنا تھا کہ ”میں کئی ماہ تک اس اذیت سے دوچار رہی۔ اس دوران آئے دن مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اس تمام صورتحال کا الزام میں اجے کو نہیں دیتی کیونکہ وہ تو اس قدر معذور تھا کہ اپنی ماں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد باہر کھڑی ماں کو کہنا کہ ’میں نے یہ کر دیا ہے، اب مجھے چاکلیٹ دو۔‘ گویا اس کی ماں اسے چاکلیٹ کا لالچ دے کر یہ کام کرواتی تھی۔ میرا سابق شوہر تو اس قدر معصوم تھا کہ وہ میرے سامنے برہنہ ہوتے ہوئے بھی خوفزدہ ہوتا تھا۔ میری ساس کہتی تھی کہ اسے بس ایک پوتا چاہیے۔“ رپورٹ کے مطابق سنی اینجل پولیس کی مدد سے اس اذیت ناک زندگی سے نکلنے میں کامیاب ہوئی اور اب دوسری شادی کرکے خوش و خرم ازدواجی زندگی گزار رہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ