فرینکفرٹ میں کشمیریوں اور سکھوں سمیت کئی تنظیموں کا بھارت مخالف مظاہرہ

فرینکفرٹ میں کشمیریوں اور سکھوں سمیت کئی تنظیموں کا بھارت مخالف مظاہرہ
فرینکفرٹ میں کشمیریوں اور سکھوں سمیت کئی تنظیموں کا بھارت مخالف مظاہرہ

  



فرینکفرٹ(ڈیلی پاکستان آ ن لائن ) جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں بھارتی قونصل خانے کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،جس میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں جاری مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

مظاہرے کا اہتمام بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر کیا گیا تھا جب26 جنوری 1950ء کو 1935ء انڈیا ایکٹ کی جگہ موجودہ بھارتی آئین نافذ کیا گیا۔ ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن برسلز۔ سکھ فیڈریشن جرمنی اور انٹرنیشنل سکھ فیڈریشن کے زیر اہتمام اس مشترکہ میگا پروٹیسٹ میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے جن میں یورپ میں مقیم بھارتی کمیونٹی کے افراد ، سکھ برادری، کشمیری اور انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن شامل تھے۔ مظاہرین بھارتی افواج اور حکومت کے مظالم کے خلاف احتجاج او رنعرے بازی کر رہے تھے۔ مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر، آسام،تربیورہ، ناگالینڈ، سکم اور منی پورہ سمیت مختلف بھارتی ریاستوں میں جاری آزادی کی تحریکوں کے حق میں نعرے لگائے اور بھارتی وزیر اعظم نریندر ا مودی اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کو ’’ دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آسام، تری پورہ، خالصتان اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے درج تھے جبکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کے خلاف بھی آواز اٹھائی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں وہاں موجود یورپی او ردیگر ممالک کے سیاحوں نے بھی یہ مناظر دیکھے۔ مظاہرین نے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کی کہ وہ کشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں میں جاری حکومتی اور ریاستی مظالم کا نوٹس لیں اور بالخصوص بھارتی سیکیورٹی فورسز کو انسانی حقوق کی پامالی سے روکنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔

مظاہرین نے بھارتی فوج اور وزیر اعظم نریندرا مودی کے خلاف نعرے بازی کی اور پاکستان زندہ باد کے ساتھ پاک فوج کی قیادت کے حق میں بھی نعرے لگائے۔ اس موقع پر سکھ کمیونٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت اور آرمی چیف نے کرتار پورہ راہداری کھول کر بھارت سمیت دنیا بھر میں سکھوں کے دل جیت لئے ہیں جبکہ خود بھارتی حکومت اپنے شہریوں کو حقوق دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔

مزید : بین الاقوامی