ایران کی مدد 3عالمی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں عائد

ایران کی مدد 3عالمی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں عائد

  



اسلام آباد (اے پی پی) گذشتہ پندرہ سال کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ1.06 ارب ڈالر سے بڑھ کر 37.58 ارب ڈالر ہو گیا۔ مالی سال 2003ء کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 1.06 ارب ڈالر تھا جو مالی سال 2008ء کے دوران 20.92 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور مالی سال 2018ء کے اختتام پر تجارتی خسارہ کا حجم 37.58 ارب ڈالر تک بڑھ گیا۔سابق حکومتوں کی درآمدات پر انحصار کی پالیسی کی نتیجہ میں 15 سال کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارہ میں 36.52 ارب ڈالر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں تیز ترین اضافہ جبکہ برآمدات میں معمولی اضافہ ہے۔ معروف اقتصادی ماہر خالد محمود رسول نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2001ء کے بعد ترقی کرنے والی معیشتوں نے 7 فیصد سالانہ کی شرح نمو حاصل کی ہے اور مینوفیکچرنگ و برآمدات کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جبکہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس رہی اور ماضی کی حکومتوں نے مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی ترقی اور برآمدات میں اضافہ کی بجائے درآمدات پر انحصار کی پالیسی جاری رکھی جس کے نتیجہ میں پاکستان تجارتی خسارہ کے بوجھ تلے دبتا چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2003ء کے دوران پاکستان کی برآمدات 11.16 ارب ڈالر تھیں جبکہ تجارتی خسارہ 1.06 ارب ڈالر رہا تھا۔ مالی سال 2008ء میں صرف پانچ سال کے قلیل عرصہ میں تجارتی خسارہ کا حجم 20.92 ارب ڈالر تک بڑھ گیا اور دوران سال ملکی برآمدات 19.05 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا حجم 39.97 ارب ڈالر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ دس سال میں مالی سال 2018ء کے اختتام تک برآمدات 23.21 ارب ڈالر تک ہی بڑھ سکیں جبکہ مالی سال 2008ء تا 2018ء کے دوران درآمدات کا حجم 60.80 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس طرح مالی سال 2018ء کیلئے ملک کا تجارتی خسارہ 37.58 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2003ء میں صنعتی شعبہ کا جی ڈی پی کا حصہ 22.36 فیصد تھا جو مالی سال 2018ء کے دوران 18.17 فیصد تک کم ہو گیا۔ خالد محمود رسول نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ قومی معیشت کی پائیدار ترقی اور تجارتی خسارہ کو کم کرنے کیلئے مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ برآمدات کے فروغ سے تجارتی خسارہ میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت درآمدات کی حوصلہ شکنی اور برآمدات میں اضافہ کیلئے خصوصی اقدامات کے تحت مینوفیکچرنگ کے شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس سے خاطر خواہ نتائج کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کیلئے قومی معیشت کی سالانہ 7 فیصد شرح نمو ضروری ہے۔

مزید : کامرس