کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کے حملے روکنے کیلئے دفعہ 144نافذ

کپاس کی فصل پر گلابی سنڈی کے حملے روکنے کیلئے دفعہ 144نافذ

  



  

لاہور(لیڈی رپورٹر)محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ گلابی سنڈی کپاس کا انتہائی نقصان دہ کیڑا ہے جو کپاس کی فصل کے بعد اپنی زندگی کا دورانیہ کپاس کی باقیات پر مکمل کرتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہمارے ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار میں کمی کی وجہ یہی ضرررساں کیڑا ہے جس کے باعث ہماری معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس کے کیمیائی انسداد کے طریقہ کار خاص کارگر ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔امسال کپاس کی آئندہ فصل کو گلابی سنڈی کے حملے سے بچانے کیلئے حکومت پنجاب نے مارچ 2020تک صوبہ کے تمام اضلاع میں دفعہ - 144کا نفاذ کیا ہے جس کے تحت "کوئی بھی شخص کپاس کے ٹینڈوں کو کھیتوں،کھلی جگہوں،گھروں،کپاس کے جننگ کارخانوں یا اس کے استعمال میں کسی بھی ایسی جگہ پر کپاس کی چھڑیوں کے ساتھ یا کپاس کی چھڑیوں کے بغیرذخیرہ نہیں کر سکتا"گلابی سنڈی کے انسداد کا ایک موثر طریقہ سرمائی نیند سوئی سنڈیوں کی تلفی ہے۔ کپاس کی چھڑیوں کو کاٹ لیں اور بعد ازاں کھیت میں فوری طور پر چیزل ہل چلائیں تاکہ کھیت میں موجود گلابی سنڈی کے پیوپے اور سرمائی نیند سوئی ہوئی سنڈیاں تلف ہو جائیں گی اور پروانوں کے باہر نکلنے کا خطرہ مکمل طور پر ختم ہوجائے۔کپاس کے بقیہ ان کھلے اور متاثرہ ٹینڈوں کی تلفی بھی یقینی بنائیں کیونکہ ایسے 80فیصد ٹینڈوں میں سرمائی نیند سوئی ہوئی گلابی سنڈیاں موجود ہوتی ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ تمام کاشتکاروں اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز سے گزارش ہے کہ ملکی مفاد کے پیشِ نظرکپاس کی چھڑیوں کے ساتھ لگے ٹینڈوں کو پہلے بطور ایندھن استعمال کر کے فوراً تلف کر دیں۔اس کے علاوہ جننگ فیکٹریوں، آئل فیکٹریوں، آئل ملوں اور اینٹوں کے بھٹوں میں موجود کپاس کے کچرے کی تلفی کوہر صورت یقینی بنائیں۔چھڑیوں کے ڈھیروں، جننگ فیکٹریوں اور آئل ملوں میں ایک جنسی پھندہ ضرور لگائیں تاکہ کپاس کو اگلے سیزن میں گلابی سنڈی کے حملے سے بچایا جا سکے اور اس کی بہتر پیداوار سے ملکی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔

مزید : کامرس