کورونا انفلوئنز سے کم خطرناک ہے،گھبرانے کی ضرورت نہیں،ماہرین

کورونا انفلوئنز سے کم خطرناک ہے،گھبرانے کی ضرورت نہیں،ماہرین

  



لاہور(پ ر)پنجاب میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ڈی جی ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر خان کی زیرصدارت تکنیکی ماہرین کا اجلاس، جاپان، امریکہ اور ملائشیا سمیت 14 سے زیادہ ممالک کے اس وائرس سے متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، تاہم عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی سطح پر ہنگامی صورتحال قرار نہیں دیا اور ابھی تک پاکستان میں کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ تمام مشتبہ مریضوں کی اسکریننگ کی جارہی ہے۔ ماہرین نے نوٹیفائیڈ اسپتالوں اورداخلی مقامات میں مریضوں کے لئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سروسز ہسپتال لاہور، ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی، علامہ اقبال ہسپتال سیالکوٹ اور نشتر ہسپتال ملتان کو کسی بھی مشتبہ مریضوں کے انتظام کے لئے ریفرل پوائنٹ کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ ہوائی اڈوں پر تھرمل سکینر نصب ہیں۔ ماہرین نے ذاتی حفاظتی اقدامات کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی جس میں مریضوں سے نمٹنے کے دوران ماسک کا استعمال اور صابن سے بار بار ہاتھ دھوناشامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک کے استعمال سے کورونا وائرس سمیت ہر قسم کے ڈراپلٹس کے انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ کورونا وائرس انفلوئنزا سے نسبتاََکم خطرناک ہے لہذا گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے ظاہر کی کہ ایک مخصوص وقت کے اندر وباء ختم ہوجائے گی۔ ماہرین نے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اضافی تھرمل اسکینرز، تھرمل گن اور ایمبولینس کی فراہمی کی سفارش کی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ این آئی ایچ اسلام آباد اور لاہور آئی پی ایچ میں بھی وائرس سے متعلق جانچ کی سہولت قائم کی جائے گی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ وار اجلاسوں کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ حالات کو قریب سے مانیٹر کیا جاسکے اور ملک میں کسی بھی وباء پر قابو پانے کے لئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ میٹنگ کی سفارشات ضروری کاروائیوں کے لئے وفاقی حکومت اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ارسال کردی گئیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1