بروٹس یوٹو

بروٹس یوٹو
بروٹس یوٹو

  



بروٹس توْ وی؟؟؟، اب مجھے بتائیں میں کس کی ماں کو ماں آکھوں، مجھ سے تو اپنی غربت سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی، اوپر سے میرا سوہنا وزیراعظم ہم جیسا فاقہ مست نکل آیا، مجھے تو اپنی چھوڑ کے اپنے وزیراعظم کی پڑ گئی، اس کا گھر نہیں چل رہا، یہ نظام یہ گڈگورننس یہاں تک کے بائیس کروڑ عوام وڑ گئی پانڈے میں، یہاں تو وزیراعظم ہماری طرح شرطیہ مٹھا نکل آیا۔ سنتا سنگھ جنگل سے گزر رہا تھا رستہ میں بوتل پڑی ملی، اس نے بوتل کھولی تو جن نکل آیا۔ جن بولا کیا حکم ہے میرے آقا۔ سنتا بولا ڈیفنس میں دو کنال کی کوٹھی بنا دو،جن بولا، آقا حکم کرو چوّلیں نہ مارو، میں خود بوتل میں رہتا ہوں آپ کے لئے کوٹھی کہاں سے بنادوں۔ لہٰذا میرے پاکستانیو چن دے ٹوٹیو تے دلاں دے کھوٹیو، جاگدے رینا تے ساڈے تے نہ رہنا، یعنی سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے۔ بلکہ اپنا کھا آئے تو کپتان کے لئے لے آئے، یقین کریں اپنی غربت پہ پیار آرہا ہے اگر لگے ہاتھوں وزیراعظم بجلی کے بلوں، بچوں کی فیسوں، مکان کے کرایوں، گوشت، سبزی کی قیمتوں کا بھی ایک بار براہ راست لائیو مزا چکھ لیں تو انہیں ان کلبلاتے کیڑوں کی تکلیفوں کا زیادہ بہتر سواد آجائے گا بلکہ چس آجائے گا۔ویسے سوچتا ہوں ان اٹھارہ انیس ماہ میں کپتان کا کوئی سکینڈل سامنے آیا نہ ان کے کارخانوں میں ”ہذا من ربی“ ہوا۔ کوئی ایسی ڈب کھڑبی خبر بھی نہیں آئی کہ انہوں نے غیر ملکی دوروں میں بے جا خرچہ کیا ہو۔ بھیا میرے جب آپ ایسی حرکتیں کریں گے تو گھر میں غربت تو آئے گی۔ آپ کا گھر کیسے چلے گا۔ سیکھیں نوازشریف اور آصف زرداری سے غریبوں کے بے تاج بادشاہ کیسے بنا جاتا ہے۔ کیسے غریبوں کے غم میں گھلتے ہوئے بینک بیلنس بڑھتے ہیں، وہ تو اللہ کا شکر ہمارا انصاف کا نظام 'انسانی بنیادوں ' کا بہت خیال رکھتا ہے۔ ورنہ یہ دونوں غریب نیلسن منیڈیلاز پارٹ ون پارٹ ٹو ابھی جیلوں میں بند اپنے انقلابی ہونے کی سزا کاٹ رہے ہوتے۔

کہے دیتاہوں آپ وزیراعلیٰ بزدار کو زرا ایزی لے رہے ہیں وہ بھولے ضرور ہیں پر اتنے بھولے بھی نہیں کہ اپنی گود میں بیٹھے ارکان اسمبلی کو ان کی مرضی سے داڑھی پٹنے دیں، یہاں تو ایک ٹوٹا بجھا ایس ایچ او مان نہیں ہوتا وہ تو خیر سے مکمل وزیراعلیٰ ہیں اور اب تو انہیں خاصی ”وزیر اعلائی“ آگئی ہے۔ آپ کی مرضی آپ چودھری نثار کی خفیہ ملاقاتوں، چودھریوں کے شریفوں سے رابطوں پر سرد دھنیں، لیکن میرا دل کہتا ہے کہ ہمیں سجی دکھا کر کھبی کرائی جارہی ہے۔ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں یہ سیاسی کیڑی کاڑا ہے۔ یہاں چچو چیچ گنڈ دیاں دوتیریاں دو میریاں کھیلا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی وفاق پنجاب اور کے پی کے ایک پیکج ڈیل ہے پنجاب حکومت ٹھاہ ہوئی تو وفاق بھی ٹھس ٹھس ہوجائے گا۔ خواب میں چھیچھڑے دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن شہبازشریف اتنے بھولے نہیں کہ پنجاب میں حکومت لے کے بیٹھ جائیں اور اٹھارہ ماہ کا سارا گند اپنے نوساختہ بالوں پر گرائیں۔ سنتا سنگھ مراثی سے بولا تم شیخ ہو، مراثی بولا نہیں میں مراثی ہوں، سنتا سنگھ پھر بولا یار تم شیخ ہو، مراثی نے پھر انکار کیا۔ سنتا بار بار یہی سوال کرتا رہا، آخر مراثی نے تپ کر کہا ہاں یار میں شیخ ہوں۔ سنتا سرپہ ہاتھ رکھ کر بولا پر شکل سے تو توں مراثی لگنا ایں۔ آپ شکلوں پر نہ جائیں کام دیکھیں یقین کریں ہمیں یہ سیاستدان جتنا مرضی معزز کہہ لیں۔ میرے ہم وطنوں کہہ لیں، آپ نے تپ کے ہاں نہیں کرنی، ورنہ وہ ہمیں وہ ہی کہہ دیں گے جو سنتا سمجھتا ہے۔ عوام آٹا آٹا کردی آپے آٹا ہوئی لیکن یہ خجل خواری کوئی پہلی بار ہوئی ہے۔ بھٹو مرحوم کے دور میں راشن کارڈ پکڑے لائنوں میں طاقت کا سرچشمہ بن کے بہتے رہے۔ ضیاء الحق، بی بی شہید قائد جمہوریت نوازشریف میں ڈرتا ورتا نہیں، فیم پرویز مشرف اور اب ایک فاقہ کے دور تک مست عوام کوکب عزت سے آٹا چینی گھی ملا، بھولے بادشا ہو، جب اسمبلیوں میں آٹا گھی چینی ملز کے مالکان بیٹھے ہونگے ان کے بچے بیورو کریٹس ہونگے تو تمہیں آٹا چینی کیوں سستا ملے گا۔ سنتا سنگھ بولا میرے باپو نے جنگ میں 50دشمنوں کی ٹانگیں کاٹ دی تھیں۔بنتا سنگھ بولا سر کیوں نہیں کاٹے،سنتا سنگھ بولا اوہ پہلاں کوئی کٹ گیا سی۔بھیا اگر آج آپ کی ٹانگیں کٹ رہی ہیں تو 47 سے غور کریں کون کون آپ کی گردنیں کاٹ چکا ہے۔اس لئے بھول چک لین دین ہوتا ہے اور یہ لین دین کبھی سوشلزم،کبھی اسلام،کبھی جمہوریت،کبھی روشن خیالی اور کبھی نئے پاکستان کے نام پر چلتا رہے گا۔کیا کریں گندہ ہے پر دھندہ ہے۔

سب چھوڑیں بس ہماری پھرتیاں چیک کریں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کسی نے پڑھی ہو یا نہ، اسکی ایکسپائری ڈیٹ چیک کی ہو یا نہ کی ہو اس پر کمنٹس ضرور کرنا ہے۔ چلیں شہباز شریف تو لندن میں ترچھی ٹوپی اور آڑھا پاجامہ پہنے”میرا جوتا ہے جاپانی“گنگناتے پھر رہے ہیں انہیں رپورٹ اور یہ جاننے کی کیا ضرورت نہیں کہ رپورٹ کس دور کی ہے۔ان کا کام ہے حکومت کو بوٹے وانگ گالاں کڈنا، انہوں نے اپنا ”کم پادتا“ لیکن حکومتی سپاہ سالار بھی ساڈے تے شک اے کہتے باہر نکل آئے، میں تو بار بار کہتا ہوں کہ اس بازار میں جنوں بھنواوہی لال اے، سنتا سنگھ اور بنتا سنگھ ون آف دی سیم تنگھ ہیں، ورنہ کوئی نہ کوئی یہ ضرور زحمت کرتا کہ میں یہ رپورٹ پی ٹی آئی کے دور حکومت کی نہیں ہے کوئی تو کہتا کہ نکے بھرا یہ آپ کا ہی کام ہے جو ہمارے کھاتے ڈالا جارہا ہے۔ سنتا سنگھ رشتہ دیکھنے گیا اکیلے میں اسے لڑکی سے بات کرنے کا موقع دیا گیا۔ سنتا بولا باجی آپ کے کتنے بھائی ہیں۔ پریتو بولی پہلے آٹھ تھے اب آپ کو ڈال کر نو ہوگئے ہیں۔ جناب من یہاں آوے کا آوہ بگڑا ہوا ہے۔ بس انہے واہ شروع ہونا ہماری عظیم سیاسی ثقافت ہے، لیکن کسی سے کیا شکوہ کریں چینی چمگادڑوں کا سوپ پی کر کرونا وائرس پھیلا بیٹھے، حیران ہوں انکا ایمیون سسٹم اتنا کمزور ہے۔ ہمارے سیاستدانوں سے سبق سیکھیں وہ قوم کی ہڈیاں تک چبا گئے، ٹبر کھا گئے اور ڈکار بھی نہیں مارتے، آپ سوپ سے بیمار ہوگئے یہ خون پی کر بھی خوشحال ہیں۔ آپ کرونا وائرس کو رو رہے ہیں۔ یہاں 1947ء سے مرونا وائرس ہے اور ہم پھر زندہ ہیں۔ زندہ ہیں پر تھوڑے سے شرمندہ ہیں۔

مزید : رائے /کالم