تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی تقریبات ختم کی جائیں، راحیلہ مبشر کلاسرہ

  تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی تقریبات ختم کی جائیں، راحیلہ مبشر کلاسرہ

  



ملتان (سٹی رپورٹر)سکول، کالجز اور یونیورسٹیز کی تقاریب میں سے ناچ گانا کا حصہ ختم کیا جائے۔ سی ای او ایجوکیشن سچے مسلمان و پاکستانی ہونے کے ناطے تعلیمی اداروں میں منعقدہ تقاریب (بقیہ نمبر44صفحہ12پر)

میں ناچ گانے شامل کرنے والوں کیخلاف کارروائی کریں اور دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ ان خیالات کا اظہار سماجی رہنما و ایڈووکیٹ راحیلہ مبشر کلاسرہ نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہونیوالی مختلف تقاریب میں نا چ گانے کو فی الفور ختم کرایا جائے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، سی ای او ایجوکیشن از خود نوٹس لیکر تعلیمی اداروں میں منعقد ہونیوالی تقاریب میں ناچ گانے پر دفعہ 144 نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تقاریب میں ناچ گانوں سے ہماری نسل تباہی کی طرف جا رہی ہے، آج کے بچوں نے کل ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے ان کی مثبت ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تقاریب کے خلاف ہرگز نہیں لیکن تقاریب کو بچوں کی مثبت ذہن سازی کا موجب بنایا جائے ناکہ ناچ گانے سے ان کے ذہنوں میں فحاشی کو کوٹ کوٹ کر بھرا جائے۔ راحیلہ مبشر کلاسرہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں سکول لیول سے بچوں کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھانے کا اہتمام کرنا چاہئے انہیں نماز چھوڑنے اور دیگر گناہوں کے سرزد ہونے پر ملنے والی سزاؤں سے بھی آگاہ کیا جائے تاکہ ان کا کچا ذہن ناچ گانوں کی غلاظت سے بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچ جائے۔ تقاریب سبق آموز ہونی چاہئیں کہ بچوں میں دین و وطن سے محبت مضبوطی پکڑے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو فحاشی سے بچانا ہم سب کا فرض ہے، کسی نے سچ کہا ہے کہ کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا ہو تو ان میں فحاشی پھیلا دو۔ ہمیں اس فحاشی کو روکنا ہو گا نہیں تو ہم سب بچوں کی غلط تربیت کرنے پر گناہگار ہوں گے۔

تقریبات

مزید : ملتان صفحہ آخر