سست وکٹ پر اسٹروکس کھیلنا آسان نہیں ہوتا،احسن علی

  سست وکٹ پر اسٹروکس کھیلنا آسان نہیں ہوتا،احسن علی

  



لاہور(سپورٹس رپورٹر)بنگلہ دیش کیخلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں کیریئر شروع کرنے والے نوجوان اوپننگ بیٹسمین احسن علی کا کہنا ہے کہ سست وکٹ پر اپنے اسٹروکس کھیلنا آسان نہیں ہوتا لیکن وہ آئندہ میچوں میں روایتی جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کریں گے۔احسن علی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ملک کی نمائندگی ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے جو بہت بڑے اعزاز کی بات ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پاکستان کیلئے ڈیبیو کیا۔نوجوان بیٹسمین کا کہنا تھا کہ ان پر بیٹنگ کے دوران کوئی دباؤ نہیں تھا البتہ پہلے میچ کی گھبراہٹ ضرور تھی جو سینئر پلیئرز کی حوصلہ افزائی سے ختم ہوگئی کیونکہ جب ان پر تھوڑا سا پریشر آیا تو شعیب ملک نے رہنمائی کی۔

جس سے ان کی مشکل ختم ہو گئی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ جارحانہ انداز سے ہی کھیلنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن بابر اعظم کے جلد آؤٹ ہونے سے گیم پلان تبدیل کرنا پڑا جبکہ وکٹ بھی اسٹروک پلے کیلئے سازگار نہیں تھی لہٰذا خود کو اس کے مطابق ڈھالنا پڑا۔احسن علی کے مطابق سست وکٹ پر کھیلنا اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن بطوراوپنر انہوں نے وکٹ پر رک کر کھیلنے کی کوشش کی اور خراب گیندوں کا انتظار کیا تاکہ رنز بنتے رہیں اور ٹیم کو کامیابی کی طرف لے جانے میں آسانی ہو جائے۔ دائیں ہاتھ کے بیٹسمین کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ میچوں میں اپنے روایتی جارحانہ انداز سے کھیلنے کی کوشش کریں گے لیکن اگر وکٹ اسی طرح سست ہوئی تو پھر احتیاط سے بھی کام لینا پڑے گا کیونکہ اسٹروکس کھیلنا خطرہ بن جاتا ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی